قدیم تاریخ کے دھندلے اور پراسرار اوراق میں جب بھی دنیا کے سب سے عظیم الشان، طاقتور اور ترقی یافتہ شہر کا ذکر آتا ہے، تو شہرِ بابل (Babylon) کا نام سب سے اوپر چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ آج سے ہزاروں سال قبل، دریائے فرات کے زرخیز کناروں پر آباد یہ شہر محض ایک انسانی بستی نہیں تھا، بلکہ یہ اپنے دور کی انجینئرنگ، علم نجوم، اور فنِ تعمیر کا ایک ایسا طلسماتی شاہکار تھا جسے دیکھ کر انسانی عقل دنگ رہ جاتی تھی۔ بابل کی پہچان اس کے معلق باغات (Hanging Gardens) تھے جنہیں دنیا کے سات عجائبات میں شمار کیا جاتا تھا، اور اس کا آسمان سے باتیں کرتا ہوا “ایٹیمینانکی” (Etemenanki) نامی عظیم زگورت (Ziggurat) تھا جسے دیکھ کر لوگ اسے دیوتاؤں کا گھر سمجھتے تھے۔ لیکن، بابل کی اصل طاقت اس کی خوبصورتی میں نہیں بلکہ اس کی ان ہیبت ناک، خوفناک اور دیوہیکل حفاظتی فصیلوں میں چھپی تھی۔
تاریخ دانوں کے مطابق، بابل کی بیرونی فصیل اس قدر چوڑی اور مضبوط تھی کہ اس کے اوپر بیک وقت چار گھوڑوں والی دو جنگی رتھیں (Chariots) باآسانی ایک ساتھ دوڑ سکتی تھیں۔ ان دیواروں پر چمکدار نیلے رنگ کی اینٹیں لگی تھیں جن پر شیروں اور ڈریگنوں کی خونی تصویریں کندہ تھیں، جو شہر میں داخل ہونے والے ہر اجنبی کے دل میں دہشت بٹھا دیتی تھیں۔ مشہورِ زمانہ “دروازہِ اشتر” (Ishtar Gate) اسی فصیل کا حصہ تھا جس کی چمک میلوں دور سے مسافروں کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی تھی۔ بابل کے باشندوں اور ان کے حکمرانوں کے دلوں میں اپنی اس قلعہ بندی کا اس قدر گہرا، اندھا اور خطرناک غرور بیٹھ چکا تھا کہ وہ خود کو زمین پر دیوتاؤں کے سائے کے برابر مانتے تھے۔ ان کا پختہ اور اٹل یقین تھا کہ دنیا کی کوئی بھی طاقت، کوئی بھی فاتح، چاہے وہ کتنی ہی بڑی اور خونخوار فوج کیوں نہ لے آئے، بابل کی ان بلند و بالا دیواروں کو پھاند کر یا توڑ کر شہر کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔
بابل کے حکمرانوں کی اس بے خوفی کی ایک اور بڑی وجہ شہر کے اندر موجود بے پناہ اور لامحدود وسائل تھے۔ دریائے فرات بالکل شہر کے عین وسط سے گزرتا تھا، جس کا مطلب تھا کہ شہر میں میٹھے پانی کی کبھی کوئی کمی نہیں ہو سکتی تھی۔ اس کے علاوہ، بادشاہوں نے شہر کے وسیع گوداموں میں بیس سال سے زیادہ کا غلہ اور خوراک جمع کر رکھی تھی۔ ان کا ماننا تھا کہ اگر کوئی دشمن سالوں تک بھی شہر کا محاصرہ کیے رکھے، تو بابل کے شہری اندر بیٹھ کر عیاشی کریں گے جبکہ باہر دشمن بھوک اور بیماریوں سے مر جائے گا۔ اسی اندھے تکبر اور طاقت کے نشے میں غرق ہو کر بابل کے شریک بادشاہ “بیلشضر” (Belshazzar)—جو اپنے والد بادشاہ نابونیدس کی غیر موجودگی میں سلطنت چلا رہا تھا—نے شہر کے دفاع کی طرف سے مکمل طور پر آنکھیں بند کر لی تھیں۔ وہ دن رات اپنے عالیشان محلات میں رقص و سرور کی محفلیں سجاتا، شراب نوشی کرتا اور اپنی طاقت کے گیت گاتا تھا۔ اسے اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ مشرق کے سنگلاخ پہاڑوں سے ایک ایسا خاموش، منظم اور موت کا طوفان انتہائی تیزی سے بابل کی طرف بڑھ رہا ہے جو ان کی ان ناقابلِ تسخیر دیواروں کو ایک کنکر مارے بغیر ہی ان کے اس عظیم الشان اور صدیوں پرانے غرور کو خاک میں ملانے والا تھا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Next part in Comment
#risengraphics #LastKing
![]()

