Daily Roshni News

ٹیپو سلطان کا وہ خواب۔۔۔ تحریر۔۔۔ حقیت اور فسانہ

ٹیپو سلطان کا وہ خواب

تحریر۔۔۔ حقیت اور فسانہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ٹیپو سلطان کا وہ خواب۔۔۔ تحریر۔۔۔ حقیت اور فسانہ)رات گہری تھی۔ سری رنگ پٹنم کے قلعے کی دیواروں پر خاموشی طاری تھی۔ لیکن اس خاموشی میں ایک عجیب سی بے چینی تھی، جیسے موسم خود اپنی جگہ سے بے گھر ہو۔ فضا میں بارود کی بو گھلی ہوئی تھی اور دریائے کاویری کا پانی قلعے کی بنیادوں سے ٹکرا کر گونج پیدا کر رہا تھا۔

سلطنت خداداد میسور کے شیر، ٹیپو سلطان، اپنے ایوانِ خاص میں تشریف فرما تھے۔ ان کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی۔ گزشتہ کئی دنوں سے انگریزوں کی فوجیں قلعے کا محاصرہ کیے ہوئے تھیں۔ لارڈ ویلزلے کی ہدایت پر جنرل ہیرس، کرنل آرتھر ویلزلے (جو بعد میں ڈیوک آف ویلنگٹن بنا) اور اسکاٹ لینڈ کے بہادر نیئرز کی قیادت میں پچاس ہزار سے زائد فوجی قلعے کے گرد ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔

ٹیپو سلطان نے اپنی تلوار “الفتح” کو غلاف سے نکالا۔ اس کی دھار آج عجیب سی چمک رہی تھی۔ انہوں نے اسے سینے سے لگایا اور پھر دیوار پر لگے نقشے کی طرف دیکھا۔ ان کی ماں، بیگم فخر النساء نے انہیں بچپن میں کہا تھا کہ نقشے صرف زمین کی پیمائش نہیں ہوتے، یہ تقدیر کی لکیریں ہوتی ہیں۔

تھک کر انہوں نے اپنا سر تکیے پر رکھا۔ باہر انگریز توپوں کی گرج تھی لیکن ٹیپو کی آنکھیں بھاری ہونے لگیں۔

خواب

وہ ایک باغ میں کھڑے تھے۔ سری رنگ پٹنم کا یہ وہ باغ تھا جہاں وہ بچپن میں اپنی ماں کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ آم کے درختوں پر پھول کھلے ہوئے تھے اور ہوا میں چنبیلی کی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ لیکن یہ باغ ویسا نہیں تھا۔ اس میں ایک نورانی سی کیفیت تھی، جیسے سورج کی روشنی میں چاندنی گھلی ہو۔

اچانک انہیں ایک آواز سنائی دی۔

“بیٹا!”

یہ آواز ان کی ماں کی تھی۔ ٹیپو نے چونک کر دیکھا۔ سامنے سفید لباس میں ملبوس، ان کی والدہ بیگم فخر النساء کھڑی تھیں۔ ان کے چہرے پر وہی محبت بھری مسکراہٹ تھی جو بچپن میں انہیں سواری پر بٹھاتے وقت ہوتی تھی۔

“اماں جان!” ٹیپو نے پکارا اور دوڑ کر ان کے قدموں میں گر گئے۔

بیگم صاحبہ نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا۔ ان کا ہاتھ ٹھنڈا اور مہکتا ہوا تھا۔ “اٹھو میرے شیر، تم حکمران ہو، تم میسور کے بادشاہ ہو۔”

ٹیپو نے سر اٹھایا۔ “اماں، یہ کون سا مقام ہے؟ آپ تو…. آپ تو….”

“ہاں بیٹا، میں اس دنیا میں نہیں ہوں۔ لیکن تمہیں خبردار کرنے آئی ہوں۔”

بیگم فخر النساء کی آنکھیں یکایک سنجیدہ ہو گئیں۔ وہ ایک پتھر پر بیٹھ گئیں اور ٹیپو کو اپنے پاس بٹھا لیا۔

“بیٹا، تم نے وہ راکٹ بنائے ہیں جو دشمن کی صفوں میں آگ لگا دیتے ہیں۔ تم نے وہ توپیں ڈھالی ہیں جو پہاڑوں کو چیر سکتی ہیں۔ تم نے نئے شہر بسائے ہیں، نئی فوج بنائی ہے، اور تم نے انگریز کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ لیکن آج تمہیں ایک اور جنگ لڑنی ہے۔”

“کیسی جنگ اماں؟”

“اندر کی جنگ، بیٹا۔ تمہارے درباری، تمہارے کچھ سپہ سالار، ان کی وفاداری مت پوچھو۔ ان میں سے کچھ نے انگریزوں سے سازباز کر لی ہے۔ تمہارے خزانے کا راستہ انہیں معلوم ہے۔ وہ دروازہ جسے تم نے ہمیشہ بند رکھا، وہ کل کھل جائے گا۔”

ٹیپو سلطان کی آنکھوں میں غصہ تھا۔ “نامرد! بے غیرت! میں انہیں….”

“نہیں بیٹا، تم کچھ نہیں کرو گے۔” ماں نے ان کا ہاتھ تھام لیا۔ “کیونکہ کل تمہارے پاس وقت نہیں ہو گا۔ کل تم اپنی آخری جنگ لڑو گے۔”

بیگم فخر النساء کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ اٹھیں اور اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا۔ “میرا بچہ، میرا شیر، میرا ٹیپو…. کل تم اس دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے۔”

ٹیپو سلطان کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔ لیکن انہوں نے خود کو سنبھالا۔ “اماں، کیا میں نہیں جیت سکتا؟ کیا میں ان کافروں کو نہیں ہرا سکتا؟”

“تم انہیں ہرا سکتے تھے، بیٹا۔ لیکن تقدیر کا لکھا کون مٹا سکتا ہے؟ تم شیر ہو، شیر کی موت بھی شیروں جی ہوتی ہے۔ تم اپنی مٹی کے لیے، اپنے لوگوں کے لیے، اپنی نماز کے لیے مرنا چاہتے ہو۔ اور یہ موت تمہیں عزت دے گی۔”

بیگم صاحبہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں بادل چھٹ رہے تھے اور روشنی کی کرنیں نازل ہو رہی تھیں۔

“بیٹا، تم نے سوال پوچھا تھا نا کہ آزادی کی قیمت کیا ہے؟ آج تمہیں جواب مل جائے گا۔ آزادی کی قیمت تمہاری جان ہے۔ اور تم اسے دے کر دکھا دو گے کہ ایک مسلمان بادشاہ اپنی مملکت، اپنی عزت، اور اپنے ایمان کے لیے کیا کچھ کر سکتا ہے۔”

ماں کا چہرہ دھندلانے لگا۔ ٹیپو نے انہیں پکڑنے کی کوشش کی لیکن ان کے ہاتھ خالی رہ گئے۔

“اماں! مت جائیں!”

“الفتح تیرے ہاتھ میں ہے بیٹا۔ اسے تھامے رکھنا۔ اور یاد رکھنا، میں تمہارے ساتھ ہوں گی، ہر قدم پر۔”

اور وہ غائب ہو گئیں۔

بیداری

ٹیپو سلطان چیخ کر اٹھ بیٹھے۔ پسینے سے ان کا جسم شرابور تھا۔ انہوں نے چاروں طرف دیکھا۔ وہ اپنے ایوان میں تھے۔ لیکن خواب بہت حقیقی تھا۔ ان کی ماں کی آواز ابھی تک ان کے کانوں میں گونج رہی تھی۔

باہر سے توپوں کی آواز آ رہی تھی۔ صبح ہونے والی تھی۔ فجر کی اذان کا وقت قریب تھا۔

ٹیپو سلطان نے وضو کیا اور نماز فجر ادا کی۔ ان کی دعا میں آج ایک خاص خشوع تھا، ایک خاص التجا۔ نماز کے بعد انہوں نے قرآن مجید کو کھولا۔ نظر پڑی:

“اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں۔”

ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے قرآن کو پیشانی سے لگایا۔ پھر اٹھ کر کپڑے تبدیل کیے۔ انہوں نے وہی لباس پہنا جو ان کے والد حیدر علی نے انہیں تحفے میں دیا تھا۔ شیر کی کھال کا کرتا اور عمامہ جس میں زمرد جڑے تھے۔ ان کی کمر میں الفتح تھی اور ہاتھ میں وہ رائفل جسے انہوں نے خود ڈیزائن کیا تھا۔

“میرا وقت آ گیا ہے،” انہوں نے خود سے کہا۔ “لیکن میں دشمن کو یہ نہیں دکھاؤں گا کہ میں ڈرتا ہوں۔”

ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں

تیاری

قلعے میں ہلچل مچ گئی۔ ٹیپو سلطان نے اپنے تمام جرنیلوں کو بلایا۔ ان میں سید غفور، محمد رضا، اور دیگر شامل تھے۔ ان کی آنکھوں میں عزم تھا لیکن کچھ جرنیلوں کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ ٹیپو کو اپنی ماں کا خواب یاد آیا۔

“آج کا دن بہت اہم ہے،” ٹیپو نے کہا۔ “دشمن نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر لیا ہے۔ لیکن شیر گھیرے جانے پر بھی نہیں ڈرتا۔ آج ہم انگریزوں کو سبق سکھائیں گے۔”

انہوں نے اپنی فوج کی تقسیم کی۔ کچھ دستے شمالی دیوار پر تعینات کیے گئے، کچھ مشرقی دروازے پر۔ لیکن ان کی نظریں ان جرنیلوں پر تھی جو خاموش تھے۔

قلعے کی فصیل پر کھڑے ہو کر ٹیپو نے دیکھا۔ انگریز فوجیں صف آرا تھیں۔ ان کے پیچھے توپیں قطار در قطار لگی تھیں۔ مرہٹے، نظام، اور انگریز سب متحد ہو کر میسور کو مٹانے پر تلے ہوئے تھے۔

ٹیپو نے اپنے مشہور راکٹ دستے کو بلایا۔ یہ وہ ایجاد تھی جس نے انگریزوں کو حیران کر دیا تھا۔ لوہے کے نلکوں میں بارود بھر کر انہیں دشمن کی طرف داغا جاتا تھا۔ یہ راکٹ دور تک جاتے اور دھماکوں سے دشمن کی صفیں تتر بتر کر دیتے۔

“میرے راکٹ،” ٹیپو نے کہا، “آج تم دکھا دو کہ میسور کی ایجادات دنیا کی بہترین ہیں۔”

ان کی آواز میں جوش تھا، جذبہ تھا، لیکن دل میں ایک عجیب سی قرار واقعی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ آج وہ شہید ہوں گے۔ لیکن یہ جان کر انہیں کوئی ڈر نہیں تھا۔ ڈر تو صرف اس بات کا تھا کہ کہیں ان کی مملکت ان کے بعد انگریزوں کے ہتھے نہ چلی جائے۔

آخری جنگ

4 مئی 1799ء۔ دوپہر کا وقت تھا۔ سورج آسمان پر آگ برسا رہا تھا۔ اچانک انگریز توپوں کی آواز نے پوری فضا کو لرزا دیا۔ دیواریں ہلنے لگیں۔ پتھر اڑنے لگے۔ دھواں ہر طرف پھیل گیا۔

جنرل بیرڈ کی قیادت میں انگریز فوج نے قلعے کی شمالی دیوار پر حملہ کر دیا۔ وہ دیوار جس کے بارے میں ٹیپو کو خواب میں خبردار کیا گیا تھا۔ وہاں تعینات فوجی کم تھے اور انگریز بڑی تعداد میں اندر گھس گئے۔

ٹیپو سلطان نے گھوڑا دوڑایا۔ وہ خود اس مقام پر پہنچ گئے جہاں سے دشمن اندر آیا تھا۔ انہوں نے اپنی رائفل اٹھائی اور گولی چلائی۔ ایک انگریز سپاہی گر گیا۔ پھر دوسرا، تیسرا۔

“اللہ اکبر!” کے نعروں سے فضا گونج اٹھی۔

لیکن انگریزوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ وہ مسلسل اندر آرہے تھے۔ ٹیپو سلطان کے ساتھی ایک ایک کر کے گر رہے تھے۔ سید غفور، ان کے وفادار جرنیل، ان کے سامنے ہی گولی لگنے سے گر گئے۔

“غفور! اٹھو!” ٹیپو نے چلّا کر کہا۔ لیکن وہ نہ اٹھ سکے۔

تلوار چمکی، الفتح نے کام دکھایا۔ ٹیپو نے ایک ہی وار میں تین انگریز سپاہیوں کو خاک میں ملا دیا۔ انگریز خوف زدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن ان کی تعداد کم نہیں ہو رہی تھی۔

ٹیپو کے زخمی ہونے کی خبر پھیل گئی۔ وہ بہادری سے لڑ رہے تھے لیکن ان کا جسم کمزور پڑ رہا تھا۔ ان کی عمر اب پچاس برس تھی اور وہ گھنٹوں سے لڑ رہے تھے۔

تاریخی روایات کے مطابق، اس وقت ایک انگریز سپاہی نے انہیں دیکھ لیا۔ وہ شاندار لباس میں ملبوس تھے اور ان کے ہاتھ میں سونے کی تلوار تھی۔ سپاہی نے نشانہ لیا۔

لیکن ٹیپو نے پہلے گولی چلا دی۔ وہ سپاہی گر گیا۔

اچانک پیچھے سے کئی انگریز سپاہیوں نے حملہ کر دیا۔ ٹیپو سلطان کی تلوار تھک گئی تھی۔ ان کا گھوڑا زخمی ہو کر گر گیا۔ وہ خود بھی زخمی تھے۔

پھر ایک گولی آئی اور ان کے سینے میں لگی۔

ٹیپو سلطان گر گئے۔ لیکن ان کی آنکھوں میں اب بھی وہی چمک تھی، وہی عزم، وہی ضد۔ انہوں نے اپنے آخری الفاظ کہے:

“خدا کی وحدانیت کی گواہی دو۔ میں نے اپنی مملکت کے لیے، اپنے لوگوں کے لیے، اپنی آزادی کے لیے لڑ کر دکھا دیا۔ آج میں شہید ہوتا ہوں، لیکن میسور کی روح کبھی نہیں مرے گی۔”

ان کی آواز دھیرے دھیرے ماند پڑنے لگی۔ انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ وہاں بادل تھے، اور ان بادلوں کے پیچھے انہیں اپنی ماں کا چہرہ نظر آیا۔ وہ مسکرا رہی تھیں۔

“اما….” اور آنکھیں ہمیشہ کے لیے بند ہو گئیں۔

عاقبت

ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے ان کی تلاش کی۔ ان کی لاش کو پہچاننا مشکل تھا کیونکہ وہ بہت زیادہ زخمی تھے۔ لیکن ان کے وفادار ملازم راجا، جو خود زخمی تھے، نے ان کی لاش کی نشاندہی کی۔ ان کے پاس وہ انگوٹھی تھی جو ٹیپو ہمیشہ پہنتے تھے۔

انگریزوں نے ان کی شاندار تجہیز و تکفین کی۔ لیکن ان کا خزانہ لوٹ لیا گیا۔ ان کی مشہور شیر کی شکل کی تخت، جو صندل کی لکڑی سے بنی تھی اور جس پر سونے کے شیر بنے تھے، لندن بھیج دی گئی۔ آج بھی وہ ونسر کیسل میں موجود ہے۔

ان کے بیٹوں کو قید کر لیا گیا۔ ان کی مملکت انگریزوں کے قبضے میں چلی گئی۔ لیکن ان کا نام، ان کی بہادری، ان کی جدوجہد، آج بھی زندہ ہے۔

کیا آپ کو معلوم تھا؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان دنیا کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے میزائل ٹیکنالوجی کو جنگ میں استعمال کیا؟ ان کے راکٹ برطانوی فوج کے لیے خوفناک ہتھیار تھے۔ بعد میں انگریزوں نے انہی ٹیپو سلطان کے راکٹوں کی مدد سے یورپ میں میزائل سائنس کی بنیاد رکھی۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے فرانسیسی بادشاہ نپولین بوناپارٹ کو خط لکھا تھا کہ وہ انگریزوں کے خلاف متحد ہو جائیں؟ لیکن نپولین کا مصر میں مصروف ہونا اس اتحاد کی راہ میں رکاوٹ بنا۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے ان کے خاندان کو بھوکا رکھا اور ان کے دو بیٹوں کو قید کر دیا؟ وہ 1806 میں رہا ہوئے اور پھر کبھی میسور نہیں آ سکے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان نے اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی انگریزوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوئے؟ انہوں نے کئی جنگیں جیتیں اور آخر دم تک لڑتے رہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ٹیپو سلطان کے دور میں میسور کی معیشت دنیا کی تیز ترین ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک تھی؟ انہوں نے ریشم کی صنعت کو فروغ دیا، نئی فصلیں متعارف کروائیں، اور بین الاقوامی تجارت کو فروغ دیا۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور شیئر کریں

آج جب ہم تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں، ٹیپو سلطان کا وہ خواب ہمیں سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کیا آزادی واقعی اتنی قیمتی ہے کہ اس کے لیے اپنی جان دے دی جائے؟ کیا مملکت، خاندان، اور عزت کی خاطر مرنا بہتر ہے یا غلامی میں جینا؟

ٹیپو سلطان نے یہ سوال اپنے عمل سے جواب دے دیا۔ انہوں نے موت کو پسند کیا مگر انگریزوں کے سامنے جھکنا قبول نہ کیا۔ وہ شیر تھے اور شیروں کی طرح مرے۔

آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آج ہم ٹیپو سلطان کی قربانی کو یاد رکھتے ہیں؟ کیا ہم ان کی راہ پر چل سکتے ہیں؟ کیا ہم اپنی آزادی کی حفاظت کر سکتے ہیں؟

براہ کرم اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور بتائیں اور اس تحریر کو شیئر کریں تاکہ دوسرے لوگ بھی اس عظیم مجاہد کی داستان پڑھ سکیں۔

ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں تاکہ ایسی ہی تاریخی اور ادبی تحریروں سے باخبر رہیں۔اور یہ بھی بتادیں کہ اگے کس کے بارے میں تحریر کیا جائے ۔ آپکے رائے کی قدر کی جائے گی ۔

Loading