بسم اللہ الرحمن الرحیم
“امام غزالی – وہ صوفی جو فلسفی تھا”
بشکریہ: حقیقت اور فسانہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )وہ رات بہت تاریک تھی۔ بغداد کی شاہی مسجد کے میناروں سے اذانِ فجر کی صدائیں آنے کو تھیں، لیکن نظامیہ مدرسہ کے ایک کمرے میں روشنی ابھی تک جل رہی تھی۔ اس روشنی کے گرد کتابوں کے ڈھیر تھے، اور ان کتابوں کے درمیان ایک شخص بیٹھا تھا جس کا نام پورے اسلامی دنیا میں عزت سے لیا جاتا تھا – امام محمد بن محمد الغزالی۔
وہ اس وقت صرف چونتیس برس کے تھے، لیکن ان کی شہرت اتنی پھیلی ہوئی تھی کہ دور دراز سے طلباء ان سے علم حاصل کرنے آتے تھے۔ وزیرِ اعظم نظام الملک نے انہیں نظامیہ مدرسہ کا صدر مقرر کیا تھا، اور بغداد کی علمی فضا ان کے نام سے گونجتی تھی۔
لیکن آج وہ پریشان تھے۔
ان کی آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے تھے، اور ان کا چہرہ اس شخص جیسا تھا جسے کوئی بے چین کرنے والا سوال دن رات کھائے جا رہا ہو۔ ان کے سامنے کھلی کتاب تھی – ارسطو کی فلسفے کی کتاب کا عربی ترجمہ۔ مگر ان کی نظریں کتاب پر نہیں تھیں، بلکہ کہیں دور، اس روشنی میں جو کمرے کی چھوٹی سی کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔
وہ سوچ رہے تھے: “یہ سب کچھ جو میں جانتا ہوں، کیا یہ واقعی سچ ہے؟”
یہ سوال انہیں مہینوں سے پریشان کر رہا تھا۔ وہ جتنے بڑے عالم تھے، اتنا ہی بڑا شک ان کے دل میں پیدا ہو گیا تھا۔ انہوں نے فقہ پڑھایا، اصولِ دین پر بحث کی، فلسفیوں کے دلائل کوڑے کرکے رکھ دیے، لیکن اب انہیں محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ سب کچھ صرف الفاظ ہیں، صرف دلائل ہیں، صرف عقلی کھیلیں ہیں۔
دل کی تسلی کہاں ہے؟
روح کا سکون کہاں ہے؟
ایک دن انہوں نے اپنے قریبی شاگرد سے کہا: “بیٹا، میں تمہیں پڑھاتا ہوں، لیکن خود نہیں جانتا کہ میں کیا پڑھا رہا ہوں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ خدا موجود ہے، لیکن کیا میں خود اس موجودگی کو محسوس کرتا ہوں؟”
شاگرد حیران رہ گیا۔ ان کے استاد، جن کی تقریروں سے ہزاروں لوگ متاثر ہوتے تھے، یہ کیا کہہ رہے ہیں؟
لیکن امام غزالی کے دل میں جو طوفان اٹھ رہا تھا، وہ کسی کو نظر نہیں آتا تھا۔ ان کی زبان پر ہزاروں دلائل تھے، لیکن ان کا دل خالی تھا۔ وہ اس شخص کی طرح تھے جس کے پاس دنیا کی ہر نعمت ہو، لیکن وہ پیاسا ہو۔
ایک دن وہ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے کہ اچانک ان کی زبان سے نکلا: “علم! علم! علم! لیکن دل کہاں ہے؟”
یہ وہ لمحہ تھا جب ان کی زندگی بدل گئی۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بغداد چھوڑ دیں گے۔ اپنا منصب چھوڑ دیں گے۔ اپنی شہرت چھوڑ دیں گے۔ اپنے خاندان کو چھوڑ دیں گے۔ اور صرف خدا کی تلاش میں نکل جائیں گے۔
لیکن یہ فیصلہ آسان نہیں تھا۔
ان کے اندر دو آوازیں تھیں۔ ایک آواز کہتی تھی: “تم پاگل ہو گئے ہو؟ تمہارے پاس سب کچھ ہے۔ تم مسلمانوں کے سب سے بڑے عالم ہو۔ تمہارے پاس عزت ہے، شہرت ہے، طاقت ہے۔ اگر تم یہ سب چھوڑ دو گے تو لوگ کیا کہیں گے؟”
دوسری آواز کہتی تھی: “اور اگر تم نہیں چھوڑو گے تو خدا کیا کہے گا؟ تم اس کے نام پر بولتے ہو، لیکن اسے نہیں جانتے۔ تم لوگوں کو راستہ دکھاتے ہو، لیکن خود راستہ بھول گئے ہو۔”
مہینوں یہ کشمکش چلتی رہی۔ کبھی وہ سفر کا فیصلہ کرتے، کبھی ڈر جاتے۔ کبھی ان کا دل کہتا کہ چھوڑ دو سب کچھ، کبھی عقل کہتی کہ یہ حماقت ہے۔
آخرکار ایک دن وہ اٹھے، اور اپنے کمرے میں گھومتے ہوئے بولے: “اے میرے نفس! تجھے کیا ہو گیا ہے؟ تو علم کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن خود نہیں جانتا کہ سچ کیا ہے؟ تو دوسروں کو راستہ دکھاتا ہے، لیکن خود اندھیرے میں ہے؟”
اور پھر انہوں نے فیصلہ کر لیا۔
انہوں نے اپنے بھائی احمد غزالی کو بلایا اور کہا: “بھائی، میں جا رہا ہوں۔ مدرسہ تمہارے سپرد۔ میرا خاندان تمہارے سپرد۔ میں نہیں جانتا کہ کب لوٹوں گا، یا لوٹوں گا بھی یا نہیں۔”
احمد حیران رہ گئے۔ “بھائی! آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ امام الغزالی ہیں! آپ کیسے جا سکتے ہیں؟”
امام غزالی نے مسکرا کر کہا: “امام الغزالی تو ابھی پیدا ہونا ہے۔ یہ جو تم دیکھ رہے ہو، یہ صرف ایک پرچھائیں تھی۔”
اور وہ رات کے اندھیرے میں نکل گئے۔ کوئی بتا نہ سکا کہ کدھر گئے۔
امام غزالی نے سب سے پہلے دمشق کا رخ کیا۔ وہاں انہوں نے مسجدِ اموی میں اعتکاف کیا۔ دن بھر روزہ رکھتے، رات بھر عبادت کرتے۔ لیکن دل ابھی بھی بے چین تھا۔
ایک دن وہ مسجد کے صحن میں بیٹھے تھے کہ ایک بوڑھا صوفی ان کے پاس آیا۔ اس نے امام کو دیکھا اور کہا: “تم وہی ہو جو بغداد میں پڑھاتے تھے؟”
امام نے سر جھکا کر کہا: “میں وہ تھا۔ اب میں کون ہوں، نہیں جانتا۔”
بوڑھے صوفی نے ان کے پاس بیٹھ کر کہا: “علم دو طرح کا ہوتا ہے بیٹا۔ ایک علم جو زبان پر ہوتا ہے، اور ایک علم جو دل میں اترتا ہے۔ تم نے پہلا تو حاصل کر لیا تھا، اب دوسرے کی تلاش میں نکلے ہو۔ یہی راستہ ہے۔”
امام نے پوچھا: “اور یہ علم کیسے ملتا ہے؟”
بوڑھے صوفی نے مسکرا کر کہا: “جب تم خاموش ہو جاؤ گے، تو خدا بولے گا۔ جب تم خود کو بھول جاؤ گے، تو خدا کو پاؤ گے۔”
یہ الفاظ امام کے دل میں اتر گئے۔
دمشق کے بعد وہ یروشلم گئے۔ وہاں قبۃ الصخرہ میں دنوں اور راتوں عبادت کی۔ پھر حجاز گئے، مکہ اور مدینہ کی زیارت کی۔ اور پھر شام واپس آ گئے۔
کہتے ہیں کہ اس دوران وہ کئی صوفی بزرگوں سے ملے۔ ان میں سے کچھ نے انہیں علمِ ظاہر کی فضولیت بتائی، کچھ نے علمِ باطن کی گہرائیوں میں لے گئے۔ لیکن سب سے بڑی بات انہوں نے یہ سیکھی کہ علم صرف پڑھنے سے نہیں ملتا، بلکہ جینے سے ملتا ہے۔
ایک دن وہ شام کے پہاڑوں میں اکیلے جا رہے تھے کہ ان کے سامنے ایک درویش آیا۔ وہ ننگے پاؤں تھا، کپڑے پھٹے ہوئے تھے، لیکن اس کا چہرہ ایسا چمک رہا تھا جیسے اس کے اندر کوئی روشنی ہو۔
درویش نے امام کو دیکھ کر کہا: “امام صاحب! آپ ابھی تک کتابوں میں کھوئے ہیں؟”
امام حیران رہ گئے۔ انہوں نے پوچھا: “آپ کیسے جانتے ہیں کہ میں کون ہوں؟”
درویش نے مسکرا کر کہا: “تمہاری آنکھوں میں ابھی بھی وہ الجھن ہے جو صرف کتاب پڑھنے والوں کو ہوتی ہے۔ تم نے خدا کو کتابوں میں ڈھونڈا، اس لیے نہیں ملا۔ اب اسے اپنے دل میں ڈھونڈو۔”
امام نے کہا: “لیکن میں نے تو ساری عمر پڑھائی کی۔ میں نے فلسفہ پڑھا، فقہ پڑھی، کلام پڑھا۔ کیا یہ سب بیکار تھا؟”
درویش نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا: “نہیں، بیکار نہیں تھا۔ وہ علم سیڑھی کی طرح تھا۔ لیکن تم سیڑھی پر چڑھ کر بیٹھ گئے، اوپر نہیں گئے۔ سیڑھی صرف چڑھنے کے لیے ہوتی ہے، بیٹھنے کے لیے نہیں۔”
یہ سن کر امام غزالی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ اس درویش نے وہ بات کہہ دی جو وہ خود نہیں کہہ پا رہے تھے۔
ان دنوں امام غزالی نے اپنی مشہور کتاب “احیاء علوم الدین” لکھنا شروع کی۔ لیکن یہ کتاب ان کی پچھلی کتابوں کی طرح نہیں تھی۔ یہ کتاب دل سے لکھی گئی تھی، صرف عقل سے نہیں۔
وہ لکھتے تھے:
“میں نے علم حاصل کیا، لیکن نہیں پایا کچھ۔
میں نے عبادت کی، لیکن نہیں پایا کچھ۔
پھر میں نے محبت کی، تو پایا سب کچھ۔”
تقریباً دس سال گزر گئے۔ امام غزابی بظاہر دنیا سے غائب تھے، لیکن ان کی تصانیف پھیل رہی تھیں۔ لوگ ان کی کتابیں پڑھتے تھے اور حیران ہوتے تھے کہ یہ وہی غزالی ہیں جو پہلے فلسفہ پڑھاتے تھے؟
نظام الملک کے بیٹے فخر الملک نے انہیں خط لکھا کہ واپس آئیں اور پڑھائیں۔ بغداد کے لوگ ان کے منتظر تھے۔
امام غزالی نے سوچا۔ کیا انہیں واپس جانا چاہیے؟ کیا ان کا کام ختم ہو گیا تھا؟
پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ واپس جائیں گے، لیکن اس شخص کی طرح نہیں جو گیا تھا۔ وہ ایک نئے شخص بن کر واپس جائیں گے۔
جب وہ بغداد پہنچے تو لوگوں کا ہجوم تھا۔ سب ان کا استقبال کرنا چاہتے تھے۔ لیکن امام غزالی نے سب سے پہلے نظامیہ مدرسے کا نہیں، بلکہ ایک چھوٹی سی مسجد کا رخ کیا۔
وہاں انہوں نے نماز پڑھی، اور پھر لوگوں سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا: “لوگو! میں وہی غزالی ہوں جو تمہیں پڑھاتا تھا، لیکن میں اب وہ نہیں رہا۔ میں نے سیکھا ہے کہ علم صرف وہ نہیں جو کتابوں میں ہے، بلکہ وہ ہے جو دلوں میں اترتا ہے۔ میں نے سیکھا ہے کہ خدا کو جاننے کا راستہ صرف عقل سے نہیں، بلکہ دل سے گزرتا ہے۔”
لوگ سن کر حیران رہ گئے۔ ان کا امام، جو کبھی فلسفیوں سے بحث کرتا تھا، اب صوفیوں کی سی باتیں کر رہا تھا۔
امام غزالی نے دوبارہ پڑھانا شروع کیا، لیکن انداز بدل گیا تھا۔ وہ اب صرف فقہ اور اصول نہیں پڑھاتے تھے، بلکہ طلباء کو دل کی صفائی، اخلاص، اور خدا کی محبت کا سبق دیتے تھے۔
ایک دن ان کے شاگرد نے پوچھا: “استاد! آپ نے دس سال کہاں گزارے؟”
امام غزالی نے مسکرا کر کہا: “میں نے خود کو ڈھونڈنے میں گزارے۔”
شاگرد نے پوچھا: “اور ملا؟”
امام نے کہا: “ہاں، ملا۔ مگر وہ نہیں ملا جو میں ڈھونڈ رہا تھا، بلکہ وہ ملا جو مجھے ڈھونڈ رہا تھا۔”
اور پھر امام غزالی نے اپنی مشہور کتاب “المنقذ من الضلال” لکھی، جس میں انہوں نے اپنی زندگی کی یہ داستان بیان کی۔ کہ کیسے وہ شک کے اندھیرے سے یقین کی روشنی میں آئے۔ کیسے وہ فلسفے سے صوفیت تک پہنچے۔ کیسے انہوں نے سیکھا کہ سچائی صرف کتابوں میں نہیں، بلکہ دلوں میں ہے۔
کتاب کے آخر میں انہوں نے لکھا:
“میں نے سوچا تھا کہ علم کتابوں میں ہے۔ میں نے کتابیں پڑھیں، لیکن نہیں ملا۔ پھر میں نے سوچا کہ علم مساجد میں ہے۔ میں نے مساجد میں عبادت کی، لیکن نہیں ملا۔ پھر میں نے سوچا کہ علم صوفیوں کے پاس ہے۔ میں صوفیوں کے پاس گیا، تو انہوں نے مجھے بتایا کہ علم تمہارے اندر ہے، بس اسے باہر آنے دو۔”
امام غزالی کا انتقال 505 ہجری میں طوس میں ہوا۔ وہ اپنے آخری دنوں تک پڑھاتے رہے، لکھتے رہے، اور لوگوں کو راستہ دکھاتے رہے۔ لیکن اب وہ راستہ صرف کتابوں کا نہیں تھا، بلکہ دلوں کا راستہ تھا۔
—
آج جب ہم امام غزالی کی کہانی پڑھتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں یہ سوال آتا ہے:
کیا سچا علم صرف کتابوں میں مل سکتا ہے؟
کیا حقیقت صرف وہی ہے جو ہم پڑھتے ہیں؟ کیا خدا صرف وہی ہے جس کے بارے میں ہم بحث کرتے ہیں؟ کیا ایمان صرف وہی ہے جو ہم دلیل سے ثابت کرتے ہیں؟
یا پھر، جیسا کہ امام غزالی نے سیکھا، سچا علم وہ ہے جو کتاب سے اٹھ کر دل میں اتر جائے؟ جو عقل کی حدوں سے گزر کر روح کی گہرائیوں میں جا گرا؟ جو الفاظ سے شروع ہو، لیکن خاموشی پر ختم ہو؟
امام غزالی نے اپنی زندگی سے ثابت کیا کہ علم اور عشق میں کوئی تضاد نہیں۔ فلسفہ اور صوفیت ایک ہی سچائی کے دو راستے ہیں۔ لیکن یہ سچائی تبھی ملتی ہے جب علم عشق بن جائے، اور عشق معرفت بن جائے۔
آج بھی، جب ہم کتابیں پڑھتے ہیں، تو شاید ہمیں امام غزالی کا وہ سوال یاد رکھنا چاہیے:
یہ علم جو میں حاصل کر رہا ہوں، کیا یہ میرے دل میں اتر رہا ہے؟ یا صرف میرے دماغ تک محدود ہے؟
کیونکہ آخرکار، سچائی وہ نہیں جو ہم جانتے ہیں، بلکہ وہ ہے جو ہم بن جاتے ہیں۔
—
“علم وہ نہیں جو یاد کیا جائے، علم وہ ہے جو دل میں اتر جائے۔”
– امام غزالی
![]()

