مسجد پر وہ گھنٹہ
تحریر: حقیقت اور فسانہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ کہانی صرف پتھر اور اینٹوں کی نہیں، یہ اس روح کی کہانی ہے جو مٹی میں بسی ہوتی ہے، اس عقیدے کی کہانی ہے جو وقت کی دھول میں بھی زندہ رہتا ہے، اور اس آواز کی کہانی ہے جسے زنجیروں میں جکڑا نہیں جا سکتا۔
یہ 1857ء کا زمانہ تھا، یا شاید اس سے بھی پہلے کا۔ برصغیر کے ایک چھوٹے سے قصبے “چکوالی” میں ایک مسجد تھی۔ کوئی بڑی شاہی مسجد نہیں، بلکہ مٹی اور اینٹوں کی بنی ایک سادہ سی عبادت گاہ، جس کی سفیدی پھٹی ہوئی تھی اور جس کے مینار پر لگی چاندی کی چادر دھوپ میں چمکتی تھی۔ اس مسجد کی بنیاد کوئی بادشاہ نے نہیں رکھی تھی، بلکہ قصبے کے لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے اینٹیں اٹھا کر، اپنے پسینے سے گارا گوندھ کر اسے تعمیر کیا تھا۔ ہر جمعہ کو یہاں رونق ہوتی، ہر عشاء کی نماز میں بوڑھے حافظ صاحب کی آواز گونجتی اور ہر فجر میں اذان کی صدا فضا میں سرگوشیاں کرتی۔
لیکن جب انگریز سامراج کی نظر اس قصبے پر پڑی تو تقدیر کے صفحات بدلنے لگے۔ انگریز افسر کرنل میتھیو اپنی فوج کے ساتھ اس علاقے میں آیا۔ اس کی نظر جب اس چھوٹی مگر خوبصورت مسجد پر پڑی تو اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ اس نے مقامی ٹھیکیدار کو بلا کر کہا، “یہ عمارت بہت خوبصورت ہے۔ یہ ہمارے گرجا گھر کے لیے بہترین جگہ ہوگی۔”
خبر جیسے آگ کی طرح پھیلی۔ چکوالی کے مسلمانوں کے چہروں کی رنگت اڑ گئی۔ بوڑھے حافظ محمد عمر، جو پچاس سال سے اس مسجد کے امام تھے، ان کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ان کی داڑھی پر آنسوؤں کی بوندیں ٹپکنے لگیں۔ انہوں نے کرنل میتھیو کے کیمپ کا رخ کیا۔
“حضور! یہ مسجد ہمارے باپ دادا کی نشانی ہے۔ یہ صرف پتھر اور اینٹیں نہیں، یہ ہمارے ایمان کا گھر ہے۔ آپ ایسا مت کریں۔”
کرنل نے سرد مہری سے جواب دیا، “حافظ صاحب! یہ اب ایمان کا گھر نہیں رہے گا۔ یہ اب عیسیٰ علیہ السلام کا گھر ہوگا۔ تم لوگ بازار کے آخر میں نئی مسجد بنا لو۔”
حافظ صاحب کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ انہوں نے کرنل کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا، “جناب! عیسیٰ علیہ السلام بھی اللہ کے نبی ہیں اور وہ اپنے گھر کو کسی دوسرے نبی کے گھر پر نہیں دیکھنا چاہیں گے۔”
لیکن کرنل نے بات نہ مانی۔ حکم جاری ہوا اور ایک دن وہ آہنی ہتھوڑے اور گہنیاں لے کر آئے۔
تغیر کا منظر
وہ دن بہت اداس تھا۔ آسمان پر بادل منڈلا رہے تھے لیکن برسات نہیں ہو رہی تھی، جیسے آسمان بھی اس ظلم کو دیکھ کر رو رہا ہو۔ مزدوروں نے مسجد کے مینار پر ہتھوڑے چلائے۔ ہر ضرب پر چاندی کی چادر ٹکڑوں میں بکھر رہی تھی اور ہر ٹکڑے کے گرنے کے ساتھ قصبے کے لوگوں کے دل میں چوٹ لگتی تھی۔
چھوٹا سا کریم بخش، جو ابھی دس سال کا تھا، اپنی امی کے آنچل سے چمٹ کر دیکھ رہا تھا کہ کیسے وہ مینار جہاں سے اسے اذان سننا بہت پسند تھا، ڈھیر ہو رہا ہے۔ اس نے بڑی معصومیت سے پوچھا، “امی! اب حافظ صاحب کہاں سے اذان دیں گے؟”
امی کی آنکھیں نم تھیں۔ انہوں نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا اور خاموش رہیں۔
مینار گرا دیا گیا۔ محراب کو توڑ دیا گیا۔ فرش پر جہاں سو جائے نمازیوں کے ماتھے ٹکتے تھے، وہاں سے مٹی ہٹا کر پالش شدہ پتھر بچھائے گئے۔ دیواروں پر لکھی آیات کو سفید رنگ سے پوت دیا گیا۔ پھر وہ چیز آئی جس نے سب کی روح جھنجھوڑ دی — ایک بڑی گھنٹی، جو شاید کسی بڑے شہر کے گرجا گھر سے منگوائی گئی تھی۔ اسے مسجد کی چھت پر ایک بلند ستون پر نصب کیا گیا۔ وہ گھنٹہ، جسے دیکھ کر ہر مسلمان کا دل دھڑکنے لگا۔
پہلی رات
یہ اتوار کی رات تھی۔ انگریز پادری مسٹر وائٹ نے اعلان کیا تھا کہ کل صبح پہلی بار اس نئے گرجا گھر کی گھنٹی بجے گی اور عبادت ہوگی۔ لیکن اس سے پہلے کی رات کچھ ایسا ہوا کہ قصبے میں کھلبلی مچ گئی۔
رات کے اندھیرے میں، جب چاند بادلوں میں چھپ گیا تھا، اچانک اس عمارت سے ایک آواز آئی۔ کوئی کلکاری نہیں، کوئی سازش نہیں، بلکہ وہ آواز جو صدیوں سے اس سرزمین کی پہچان تھی — اللہ اکبر، اللہ اکبر۔
اذان!
پادری وائٹ اپنے بنگلے میں جاگ رہے تھے۔ انہوں نے یہ آواز سنی تو ان کی آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ وہ دوڑتے ہوئے باہر آئے۔ ان کے ساتھ کرنل میتھیو بھی تھا۔ دونوں نے دیکھا کہ عمارت کے اندر سے اذان کی آواز آ رہی ہے۔ وہ گئیں، دروازہ کھولا، اندر چراغ جل رہا تھا لیکن کوئی نہیں تھا۔ صلیب پر عیسیٰ علیہ السلام کا مجسمہ تھا اور دیواروں پر تصویریں تھیں، لیکن آواز ایسے آ رہی تھی جیسے کوئی غیبی وجود ان دیواروں سے گونج رہا ہو۔
اگلی صبح پادری وائٹ نے گھنٹی بجانے کا حکم دیا۔ ایک مقامی آدمی کو بلایا گیا تاکہ وہ گھنٹی کی رسی کھینچے۔ اس نے رسی کھینچی تو گھنٹی سے آواز نہیں نکلی، بلکہ اس کی جگہ پھر وہی آواز آئی — اللہ اکبر، اللہ اکبر۔
ہر بار جب رسی کھینچی جاتی، گھنٹی کی بجائے اذان بلند ہوتی۔ پادری وائٹ کا چہرہ سفید ہو گیا۔ کرنل میتھیو غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔ اس نے خود رسی پکڑ کر کھینچی۔ اس بار گھنٹی سے ایک چیخ نکلی، جیسے کوئی زخمی شخص چیخ رہا ہو۔ کرنل ڈر کر پیچھے ہٹ گیا۔
عوام کا حیرت
یہ معاملہ پورے قصبے میں پھیل گیا۔ مسلمان خاموشی سے مسکرا رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔ حافظ محمد عمر نے کچھ نہیں کہا، بس اپنی چھوٹی سی کوٹھری میں بیٹھ کر قرآن پڑھتے رہے۔
دوسری رات پادری وائٹ نے گرجا گھر کے اندر رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے ساتھ صلیب اور بائبل لے کر اندر داخل ہوا۔ اس نے دعا کی، مناجات کی، لیکن جیسے ہی آدھی رات ہوئی، پھر وہی آواز — اللہ اکبر، اللہ اشہد ان لا الہ الا اللہ۔
پادری کی چیخ نکلی۔ وہ باہر بھاگا اور اس نے قسم کھائی کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ محراب میں ایک نورانی شخصیت کھڑی ہے اور اس کے ہاتھ اٹھے ہوئے ہیں۔
تیسری رات پورا قصبہ گرجا گھر کے باہر جمع تھا۔ مسلمان اور عیسائی دونوں۔ سب کی نظریں اس عمارت پر تھی۔ رات کے سناٹے میں پھر وہ آواز آئی — حی علی الصلاۃ، حی علی الفلاح۔
یہ آواز اتنی پر اثر تھی کہ کچھ عیسائی بھی گھٹنوں کے بل گر گئے۔ ان کے پادری نے انہیں منع کیا لیکن وہ نہ رک سکے۔
تاریخی حوالے
دراصل یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب اسپین میں مسجد قرطبہ کو گرجا گھر میں تبدیل کیا گیا تو صدیوں تک مسلمان اس عمارت کے گرد چکر لگاتے رہے اور اندر سے آنے والی آوازوں کو سنتے رہے۔ قسطنطنیہ جب استنبول بنا تو ایا صوفیہ کی دیواروں میں آج بھی وہ صدائیں بسی ہیں جو کبھی میناروں سے بلند ہوتی تھیں۔
ہندوستان میں بھی بہت سی مساجد کو زبردستی مندر یا گرجا گھر بنایا گیا۔ جہاں پوری آبادی کو بے دخل کر دیا گیا، وہاں کی مٹی میں اب بھی وہ یادگاریں دفن ہیں۔ مگر کچھ جگہوں پر قدرت کے فیصلے کچھ اور تھے۔
واپسی کا باب
پادری وائٹ تیسرے دن کرنل میتھیو کے پاس گیا۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا۔ اس نے کہا، “جناب! یہ عمارت ہمارے لیے نہیں ہے۔ یہاں کوئی طاقت کام کر رہی ہے جو ہم سے باہر ہے۔ میں یہاں نہیں رہ سکتا۔”
کرنل نے اسے بزدل کہا، لیکن وہ خود بھی خوف زدہ تھا۔ اس نے فوجیوں کو حکم دیا کہ وہ رات کو عمارت کے باہر پہرہ دیں۔ فوجیوں نے دیکھا کہ رات کو عمارت میں روشنیاں ہوتی ہیں اور عجیب آوازیں آتی ہیں۔ ان میں سے ایک فوجی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اس نے مینار کو دوبارہ اپنی جگہ کھڑا دیکھا ہے۔
آخر کار کرنل میتھیو کو ہار ماننا پڑی۔ اس نے مقامی مسلمانوں کو بلایا اور کہا، “یہ عمارت تمہاری ہے۔ ہم اسے خالی کرتے ہیں۔”
حافظ محمد عمر نے کہا، “صاحب! یہ عمارت ہماری تھی اور ہماری رہے گی، کیونکہ یہاں کی ہر اینٹ نے اللہ کا نام لیا ہے۔ تم گھنٹہ لگا سکتے تھے، لیکن اس گھنٹہ سے اذان نکلتی ہے، کیونکہ اللہ کی قدرت تمہاری طاقت سے بڑھ کر ہے۔”
ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں
اختتام
وہ گھنٹہ آج بھی مسجد کی چھت پر لگا ہے، لیکن وہ کبھی نہیں بجا۔ کہتے ہیں کہ جب کبھی کوئی اسے بجانے کی کوشش کرتا ہے، تو اس سے اذان کی صدا بلند ہوتی ہے۔ حافظ محمد عمر اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کی قبر مسجد کے صحن میں ہے اور وہاں آج بھی لوگ آتے ہیں اور اس گھنٹہ کی کہانی سناتے ہیں۔
چھوٹا کریم بخش اب بوڑھا ہو چکا ہے۔ وہ مسجد کا امام ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اس گھنٹہ میں قدرت کا راز چھپا ہے — کہ ظلم کے ہتھیار کبھی ایمان کو خاموش نہیں کر سکتے۔ گھنٹہ چاہے جتنا بھی بڑا ہو، اذان کی آواز ہمیشہ بلند رہے گی، کیونکہ وہ آواز صرف حلق سے نہیں، دل سے نکلتی ہے۔
کیا آپ کو معلوم تھا؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ 1857 کی جنگ آزادی کے بعد انگریزوں نے برصغیر کی سینکڑوں مساجد کو گرجا گھروں میں تبدیل کر دیا تھا؟ دہلی کی جامع مسجد کو بھی کچھ عرصے کے لیے فوجی بیرکوں میں بدل دیا گیا تھا۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اسپین کی مشہور مسجد قرطبہ (میسکیٹا) آج بھی ایک گرجا گھر ہے، لیکن مسلمان اس کے دروازے پر کھڑے ہو کر اذان دیتے ہیں اور اندر سے گونجنے والی صدائیں سنتے ہیں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ کشمیر میں بھی کئی مساجد کو زبردستی مندروں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن عوام کے ایمان نے انہیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں مساجد کو مسمار کیا جا رہا ہے، لیکن ان کی جگہ نئی مساجد بن رہی ہیں؟ کیونکہ مسجد صرف اینٹوں سے نہیں، دلوں سے بنتی ہے۔
اور کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ گھنٹہ جو اس کہانی میں ہے، وہ صرف ایک علامت ہے — ظلم کی علامت، جبر کی علامت، لیکن ساتھ ہی اس بات کی علامت کہ ظلم کبھی پائیدار نہیں ہوتا؟
آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور شیئر کریں
کیا ایمان کو طاقت کے زور سے ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا پتھر اور لوہے کی طاقت، اس عقیدے کے سامنے ٹھہر سکتی ہے جو صدیوں سے دلوں میں بسا ہوا ہے؟ کیا گھنٹہ کی آواز اذان کو مٹا سکتی ہے؟
آج بھی جب رات کو چکوالی کی مسجد سے اذان بلند ہوتی ہے، تو لوگ کہتے ہیں کہ وہ گھنٹہ خاموشی سے سنتا ہے اور پھر صبح ہوتے ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے ہلکا سا جھوم گیا ہے — جیسے وہ بھی اذان کا احترام کرتا ہو۔
کیا آپ کو معلوم تھا؟
کہ آج بھی دنیا کی کئی مساجد میں وہ نشانیاں موجود ہیں جو کبھی ان پر مسلط کی گئی تھیں، لیکن وہ نشانیاں اب ان مساجد کی زینت بن گئی ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا یہ کہانی محض ایک افسانہ ہے یا حقیقت کی جھلک؟ کیا ایسے واقعات آپ نے اپنے ارد گرد دیکھے ہیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور اس کہانی کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔
ہمارے فیس بک پیج کو لائک کریں تاکہ آپ کو ایسی ہی اور کہانیاں پڑھنے کو ملیں۔
یہ کہانی ختم نہیں ہوتی، یہ ہر اس دل میں زندہ رہتی ہے جس میں ایمان ہے اور ہر اس گھنٹہ میں جو اذان دیتا ہے۔
کیا ایمان کو طاقت سے ختم کیا جا سکتا ہے؟
![]()

