حقیقی سکون واپس آ گیا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اشفاق صاحب ایک محنتی اور خوددار انسان تھے۔ انہوں نے ساری زندگی سرکاری ملازمت میں گزار دی تھی۔ گرمی ہو یا سردی، بارش ہو یا دھوپ، وہ روز صبح وقت پر دفتر پہنچ جاتے تھے۔ ان کی ایک ہی خواہش تھی کہ ان کے بچے اچھی زندگی گزاریں، تعلیم حاصل کریں اور کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔
وقت گزرتا گیا، بچے بڑے ہوتے گئے، پڑھ لکھ کر اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے۔ اشفاق صاحب نے بڑی خوشی سے اپنے بیٹوں کی شادیاں کیں اور گھر میں نئی رونق آ گئی۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ محبت اور احترام آہستہ آہستہ کم ہوتا گیا جو کبھی ان کے دلوں میں باپ کے لیے تھا۔
آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب اشفاق صاحب ریٹائر ہو گئے۔ اب ان کے پاس زیادہ وقت تھا اور آمدنی صرف پنشن تک محدود ہو گئی تھی۔ عمر کے اس حصے میں انسان کو آرام اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی جمع پونجی سے اپنے کمرے میں ایک اے سی لگوا لیا تاکہ شدید گرمی میں وہ اور ان کی بیگم سکون سے سو سکیں۔
گھر کے دوسرے کمروں میں بھی اے سی لگے ہوئے تھے، جو ان کے بیٹوں نے لگوائے تھے۔ لیکن ان کا بجلی کا بل بھی اکثر اشفاق صاحب ہی ادا کرتے تھے کیونکہ بیٹے اکثر کہتے،
“ابا جی ابھی خرچے بہت ہیں، اگلے مہینے دے دیں گے۔”
اشفاق صاحب مسکرا کر کہہ دیتے،
“کوئی بات نہیں بیٹا، گھر ہی کا خرچ ہے۔”
جون کا مہینہ آیا تو گرمی اپنے عروج پر تھی۔ سورج آگ برسا رہا تھا اور بجلی کے بغیر گزارا ممکن نہ تھا۔ پورے مہینے اے سی چلتے رہے۔
جب بجلی کا بل آیا تو وہ ساٹھ ہزار روپے تھا۔
بل دیکھ کر بڑے بیٹے کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ وہ غصے میں آگ بگولا ہو گیا۔ کاغذ کو مروڑ کر میز پر پھینکتے ہوئے بولا،
“یہ کیا تماشا ہے؟ اتنا بڑا بل کون دے گا؟”
اشفاق صاحب نے نرمی سے کہا،
“بیٹا گرمی بہت تھی، اس لیے اے سی زیادہ چل گئے۔ فکر نہ کرو، آہستہ آہستہ ادا ہو جائے گا۔”
لیکن بیٹا سننے کے لیے تیار نہ تھا۔ وہ غصے میں ان کے کمرے میں گیا اور اے سی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،
“یہی سب سے زیادہ بجلی کھاتا ہے۔ بوڑھے ہو گئے ہو مگر عیش کم نہیں ہوئے!”
اشفاق صاحب نے حیرت سے بیٹے کی طرف دیکھا۔
“بیٹا، یہ تو ہم نے اپنی بچت سے لگوایا تھا تاکہ گرمی سے بچ سکیں۔”
مگر بیٹا اور زیادہ غصے میں آ گیا۔ اس نے فوراً ایک مستری کو بلایا اور اشفاق صاحب کے کمرے کا اے سی اتروا دیا۔ پھر اسے بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لیے۔
اتنا ہی نہیں، اس نے اپنے باپ کو سخت الفاظ میں ڈانٹا اور کہا،
“اب آپ لوگ نیچے کمرے میں نہیں رہیں گے۔ اوپر چھت پر جا کر سوئیں، وہاں ہوا بھی آتی ہے!”
یہ سن کر اشفاق صاحب کی بیگم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مگر اشفاق صاحب خاموش رہے۔ انہوں نے اپنی بیگم کا ہاتھ پکڑا اور آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر چلے گئے۔
اس رات گرمی بے حد تھی۔ ہوا بھی بند تھی۔ چھت کی دیواریں دن بھر کی دھوپ سے تپ رہی تھیں۔
اشفاق صاحب اور ان کی بیگم پسینے میں شرابور تھے۔ بیگم کی طبیعت خراب ہونے لگی۔ ان کا سانس تیز ہو گیا اور سر چکرانے لگا۔
اشفاق صاحب گھبرا گئے۔ انہوں نے پانی پلایا مگر حالت بہتر نہ ہوئی۔
رات کے تقریباً دو بجے تھے جب اشفاق صاحب نے ایک فیصلہ کیا۔ انہوں نے آہستہ سے اپنی بیگم کو سہارا دیا اور کہا،
“چلو یہاں سے چلتے ہیں۔”
بیگم نے کمزور آواز میں پوچھا،
“کہاں جائیں گے؟”
اشفاق صاحب نے آہ بھری اور کہا،
“جہاں عزت مل جائے۔”
وہ دونوں خاموشی سے گھر سے نکل گئے۔ کسی نے انہیں جاتے ہوئے نہیں دیکھا۔
اگلی صبح جب بیٹے اپنے اپنے کام پر جانے کے لیے گھر سے باہر نکلے تو ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
گھر کے باہر پولیس کی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ محلے کے لوگ بھی جمع تھے۔
بڑا بیٹا گھبرا کر آگے بڑھا اور پوچھا،
“کیا ہوا؟”
پولیس والے نے سخت لہجے میں کہا،
“آپ ہی اشفاق صاحب کے بیٹے ہیں؟”
“جی… کیوں؟”
پولیس والے نے ایک کاغذ اس کے ہاتھ میں دیا۔
“آپ کے والد نے رات کو تھانے میں درخواست دی ہے۔”
درخواست میں لکھا تھا کہ انہوں نے اپنی ساری جائیداد ایک فلاحی ادارے کو دینے کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ ان کے بیٹوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور انہیں گھر سے نکال دیا۔
مزید یہ کہ وہ اب ایک بزرگوں کے فلاحی مرکز میں رہنے جا رہے ہیں جہاں انہیں عزت اور سکون ملے گا۔
یہ پڑھتے ہی بیٹوں کے ہاتھ کانپنے لگے۔
پولیس والے نے کہا،
“اور ہاں، آپ کے والد نے بجلی کے بل اور گھر کے تمام اخراجات کی ذمہ داری بھی اب آپ لوگوں پر ڈال دی ہے۔”
یہ سن کر بیٹوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا۔
اسی وقت محلے کے ایک بزرگ نے آہ بھرتے ہوئے کہا،
“بیٹا، باپ سایہ ہوتا ہے۔ جب وہ سر سے اٹھ جاتا ہے تو پھر انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے۔”
بیٹے خاموش کھڑے تھے۔ ان کے پاس اب پچھتانے کے سوا کچھ نہیں بچا تھا۔
ادھر اشفاق صاحب اپنی بیگم کے ساتھ ایک پرسکون کمرے میں بیٹھے تھے۔ وہاں پنکھا چل رہا تھا اور کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا آ رہی تھی۔
ان کی بیگم نے آہستہ سے پوچھا،
“کیا ہم نے صحیح فیصلہ کیا؟”
اشفاق صاحب نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے،
“جہاں عزت نہ ہو، وہاں رہنے سے بہتر ہے انسان خاموشی سے چلا جائے۔”
اور اس دن کے بعد ان کی زندگی میں پہلی بار حقیقی سکون واپس آ گیا۔
![]()

