کسی ہیڈ ماسٹر کے بارے میں ایک سبق آموز واقعہ مشہور ہے۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جب وہ ایک اسکول میں استاد تھے تو انہوں نے اپنی کلاس کا ٹیسٹ لیا۔
ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد انہوں نے تمام کاپیاں چیک کیں اور ہر بچے کو اپنی کاپی ہاتھ میں پکڑ کر قطار میں کھڑے ہونے کو کہا۔ پھر اعلان کیا کہ جس بچے کی جتنی غلطیاں ہوں گی، اس کے ہاتھ پر اتنی ہی چھڑیاں لگائی جائیں گی۔
اگرچہ وہ بہت نرم دل انسان تھے اور بچوں کو ہلکی سی چھڑی مارتے تھے تاکہ تکلیف نہیں بلکہ نصیحت ہو، مگر سزا کا خوف بہرحال بچوں کے دلوں میں موجود تھا۔
سب بچے قطار میں کھڑے ہوگئے۔
ہیڈ ماسٹر ہر بچے سے اس کی غلطیوں کی تعداد پوچھتے اور اسی حساب سے اس کے ہاتھ پر چھڑی لگا دیتے۔
اسی دوران ایک بچہ بہت زیادہ گھبرایا ہوا کھڑا تھا۔
جب ہیڈ ماسٹر اس کے قریب پہنچے اور اس سے غلطیوں کے بارے میں پوچھا تو خوف کے مارے اس کے ہاتھ سے کاپی گر گئی اور وہ ہکلاتے ہوئے بولا:
“سر! مجھے معاف کر دیں… میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔”
یہ جملہ سن کر ہیڈ ماسٹر پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔
ان کے ہاتھ سے چھڑی گر گئی، آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ زار و قطار رونے لگے۔
بار بار ایک ہی جملہ دہراتے جاتے:
“میرے اللہ! مجھے معاف کر دینا… میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔”
وہ روتے جاتے اور اس بچے سے کہتے جاتے:
“بیٹا! تم نے یہ کیا کہہ دیا… تم نے یہ کیا کہہ دیا!”
یہ جملہ ان کے دل پر ایسا اثر کر گیا کہ انہیں اپنی زندگی اور اپنے اعمال یاد آگئے۔
کاش ہمیں بھی معرفتِ الٰہی کا کوئی ذرّہ نصیب ہو جائے…
تاکہ ہم نیک اعمال کرنے کے باوجود بھی عاجزی سے یہی کہہ سکیں:
“میرے اللہ! مجھے معاف کر دینا… میرا تو سب کچھ ہی غلط ہے۔” 😢
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔
![]()

