Daily Roshni News

قرآن میں روشنی کے تین اسرار: نور، ضیاء اور سراج

قرآن میں روشنی کے تین اسرار: نور، ضیاء اور سراج

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انرنیشنل )انسان جب کائنات کو دیکھتا ہے تو اسے سب سے زیادہ حیران کرنے والی حقیقت روشنی ہے۔ روشنی ہی وہ چیز ہے جو اندھیرے کو ختم کرتی ہے، راستہ دکھاتی ہے اور زندگی کو ممکن بناتی ہے۔ اگر روشنی نہ ہو تو نہ انسان دیکھ سکتا ہے، نہ راستہ پہچان سکتا ہے اور نہ ہی کائنات کی خوبصورتی کو محسوس کر سکتا ہے۔

قرآن مجید جب روشنی کا ذکر کرتا ہے تو صرف ایک لفظ استعمال نہیں کرتا بلکہ مختلف مواقع پر تین مختلف الفاظ استعمال کرتا ہے: نور، ضیاء اور سراج۔ بظاہر یہ تینوں الفاظ روشنی کے معنی دیتے ہیں، لیکن قرآن کے اسلوب میں ہر لفظ ایک الگ کیفیت اور ایک الگ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یہی قرآن کی بلاغت کا کمال ہے کہ وہ ایک ہی حقیقت کو مختلف زاویوں سے بیان کرتا ہے اور ہر لفظ کے انتخاب میں ایک گہری حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر انسان ان الفاظ پر غور کرے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ قرآن صرف روشنی کا ذکر نہیں کر رہا بلکہ روشنی کے مختلف درجات اور مختلف نوعیتوں کو بیان کر رہا ہے۔

نور — ہدایت اور سکون کی روشنی

قرآن مجید میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ “نور” ہے۔ یہ لفظ ایسی روشنی کے لئے استعمال ہوتا ہے جو صرف ظاہری اندھیرے کو ختم نہیں کرتی بلکہ انسان کے باطن کو بھی روشن کر دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اللّٰهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔

یہ آیت قرآن کی سب سے گہری آیات میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں نور کا مطلب صرف مادی روشنی نہیں بلکہ وہ حقیقت ہے جس سے پوری کائنات کو معنی اور سمت ملتی ہے۔

نور وہ روشنی ہے جو دلوں کو ہدایت دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو بھی نور کہا گیا ہے۔ جب انسان قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو اس کے دل کے اندھیرے دور ہونے لگتے ہیں۔

اسی طرح ایمان کو بھی نور کہا گیا ہے۔ کیونکہ ایمان انسان کو زندگی کے مقصد کا شعور دیتا ہے اور اسے حق اور باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔

نور کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں نرمی اور سکون ہوتا ہے۔ یہ آنکھوں کو تکلیف نہیں دیتا بلکہ انہیں آرام دیتا ہے۔ اسی لئے جب قرآن ہدایت کا ذکر کرتا ہے تو نور کا لفظ استعمال کرتا ہے۔

ضیاء — طاقتور اور شدید روشنی

قرآن میں دوسرا لفظ “ضیاء” استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ایسی روشنی کے لئے آتا ہے جو بہت زیادہ طاقتور اور تیز ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا

وہی ہے جس نے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور بنایا۔

یہ آیت روشنی کے دو مختلف درجوں کو بیان کرتی ہے۔ سورج کی روشنی بہت تیز اور شدید ہوتی ہے، اسی لئے اسے ضیاء کہا گیا۔ اس کے مقابلے میں چاند کی روشنی نرم اور معتدل ہوتی ہے، اس لئے اسے نور کہا گیا۔

یہ فرق ہمیں بتاتا ہے کہ ضیاء ایسی روشنی ہے جو خود سے پیدا ہوتی ہے اور بہت طاقتور ہوتی ہے۔ یہ روشنی اندھیرے کو صرف ختم نہیں کرتی بلکہ اسے مکمل طور پر مٹا دیتی ہے۔

قرآن کا یہ اسلوب ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات میں مختلف قسم کی روشنیاں موجود ہیں اور ہر روشنی کی اپنی ایک خاص نوعیت اور مقصد ہے۔

سراج — راستہ دکھانے والا چراغ

قرآن میں تیسرا لفظ “سراج” استعمال ہوا ہے۔ سراج کا مطلب چراغ یا ایسا روشن ذریعہ ہے جو راستہ دکھانے کے لئے استعمال ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَجَعَلْنَا سِرَاجًا وَهَّاجًا

اور ہم نے ایک چمکتا ہوا چراغ بنایا۔

یہاں سراج سے مراد سورج ہے۔ سورج کو سراج اس لئے کہا گیا کیونکہ وہ پوری زمین کے لئے ایک عظیم چراغ کی طرح ہے جو روشنی اور حرارت فراہم کرتا ہے۔

قرآن میں ایک اور مقام پر رسول اللہ ﷺ کو بھی سراج کہا گیا ہے:

وَدَاعِيًا إِلَى اللّٰهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا

اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ۔

یہ تعبیر نہایت خوبصورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ انسانیت کے لئے ایک ایسے چراغ کی طرح ہیں جو اندھیروں میں راستہ دکھاتے ہیں۔

روشنی کے یہ تین درجے کیا بتاتے ہیں

اگر ہم نور، ضیاء اور سراج کو ایک ساتھ دیکھیں تو ہمیں روشنی کے مختلف درجات کا ایک حیران کن نقشہ نظر آتا ہے۔

نور ہدایت اور سکون کی روشنی ہے۔

ضیاء طاقت اور شدت کی روشنی ہے۔

سراج وہ چراغ ہے جو لوگوں کو راستہ دکھاتا ہے۔

یہ تینوں الفاظ مل کر ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ روشنی صرف ایک مادی حقیقت نہیں بلکہ ایک معنوی اور روحانی حقیقت بھی ہے۔

ایک گہری فکری حقیقت

انسان کی زندگی میں بھی یہی تین قسم کی روشنیاں موجود ہوتی ہیں۔

علم ضیاء کی طرح ہوتا ہے جو حقیقت کو واضح کر دیتا ہے۔

ایمان نور کی طرح ہوتا ہے جو دل کو سکون دیتا ہے۔

اور نبیوں کی تعلیمات سراج کی طرح ہوتی ہیں جو انسان کو صحیح راستہ دکھاتی ہیں۔

جب یہ تینوں روشنیاں ایک انسان کی زندگی میں جمع ہو جائیں تو اس کی زندگی میں اندھیرا باقی نہیں رہتا۔

عملی زندگی کے لئے پیغام

قرآن ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کو صرف مادی روشنی کی نہیں بلکہ روحانی روشنی کی بھی ضرورت ہے۔

اگر انسان کے پاس علم ہو مگر ایمان نہ ہو تو اس کی روشنی خطرناک بھی بن سکتی ہے۔

اگر ایمان ہو مگر رہنمائی نہ ہو تو انسان راستہ بھٹک سکتا ہے۔

اسی لئے قرآن علم، ایمان اور ہدایت تینوں کو اہمیت دیتا ہے۔

نتیجہ

نور، ضیاء اور سراج کے یہ تین الفاظ قرآن کی زبان کی گہرائی اور اس کی حکمت کو ظاہر کرتے ہیں۔

نور دلوں کو روشن کرتا ہے۔

ضیاء کائنات کو روشن کرتا ہے۔

اور سراج انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔

جب انسان ان تینوں حقیقتوں کو سمجھ لیتا ہے تو اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ حقیقی روشنی صرف وہ نہیں جو آنکھوں کو دکھائی دیتی ہے بلکہ وہ ہے جو دل کو ہدایت دیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا نور عطا فرمائے جو ہمارے دلوں کو روشن کرے، ایسا علم عطا فرمائے جو ہماری زندگی کو ضیاء دے اور ایسی رہنمائی عطا فرمائے جو ہمیں سیدھے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔

مفسرین کی آراء میں نور، ضیاء اور سراج

قرآن کے مفسرین نے ان تینوں الفاظ کے فرق پر خاص توجہ دی ہے۔ امام راغب اصفہانی بیان کرتے ہیں کہ “نور” ایسی روشنی کو کہا جاتا ہے جو ظاہر بھی ہو اور دوسروں کو بھی ظاہر کر دے۔ یعنی نور خود بھی روشن ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی روشن کر دیتا ہے۔

امام طبری نے سورج اور چاند والی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ضیاء ایسی روشنی ہے جو حرارت اور شدت کے ساتھ ہو، جبکہ نور میں نرمی اور سکون پایا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے سورج کو ضیاء اور چاند کو نور کہا گیا ہے۔

بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ سراج کا لفظ اس روشنی کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی مقصد کے لئے جلائی جائے۔ جیسے چراغ کو راستہ دکھانے کے لئے جلایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو “سراج منیر” کہا گیا۔

یہ تعبیر ہمیں بتاتی ہے کہ نبی کریم ﷺ صرف ایک رہنما نہیں بلکہ انسانیت کے لئے ایک ایسا چراغ ہیں جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔

کائنات کے نظام میں روشنی کا کردار

اگر انسان کائنات پر غور کرے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ روشنی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔ سورج کی روشنی زمین پر زندگی کو قائم رکھتی ہے۔ اسی روشنی کی بدولت درخت اگتے ہیں، موسم بنتے ہیں اور زندگی کا پورا نظام چلتا ہے۔

چاند کی روشنی اگرچہ سورج جتنی طاقتور نہیں ہوتی مگر اس کی اپنی ایک خوبصورتی اور سکون ہوتا ہے۔ رات کے اندھیرے میں چاند کی نرم روشنی انسان کے دل کو سکون دیتی ہے۔

یہی فرق قرآن نے ایک مختصر آیت میں بیان کر دیا۔ سورج کو ضیاء اور چاند کو نور کہنا دراصل کائنات کے ایک عظیم سائنسی نظام کی طرف اشارہ ہے۔

انسانی زندگی میں روشنی کی تین صورتیں

اگر ہم غور کریں تو انسان کی زندگی میں بھی روشنی کے یہی تین درجے موجود ہوتے ہیں۔

پہلا درجہ علم کا ہے۔ علم ضیاء کی طرح ہوتا ہے۔ جب انسان علم حاصل کرتا ہے تو حقیقتیں واضح ہونے لگتی ہیں اور جہالت کا اندھیرا دور ہو جاتا ہے۔

دوسرا درجہ ایمان کا ہے۔ ایمان نور کی طرح ہوتا ہے۔ یہ دل کو سکون دیتا ہے اور انسان کو زندگی کا مقصد سمجھاتا ہے۔

تیسرا درجہ رہنمائی کا ہے۔ رہنمائی سراج کی طرح ہوتی ہے۔ نبیوں کی تعلیمات اور اللہ کی ہدایت انسان کے لئے چراغ کا کام کرتی ہیں۔

جب علم، ایمان اور ہدایت ایک ساتھ جمع ہو جائیں تو انسان کی زندگی میں ایک مکمل روشنی پیدا ہو جاتی ہے۔

ایک گہرا روحانی نکتہ

انسان کی اصل تاریکی باہر نہیں بلکہ اندر ہوتی ہے۔ جب دل میں حسد، تکبر، نفرت اور غفلت پیدا ہو جائے تو انسان کے اندر اندھیرا چھا جاتا ہے۔

قرآن اسی اندرونی اندھیرے کو ختم کرنے کے لئے نور کی بات کرتا ہے۔ جب انسان اللہ کی یاد میں جڑ جاتا ہے تو اس کے دل میں ایک نئی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ یہی روشنی اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت دیتی ہے۔

اسی لئے قرآن کو بھی نور کہا گیا ہے، کیونکہ یہ کتاب انسان کے دل کے اندھیرے کو ختم کرتی ہے۔

غور و فکر کی دعوت

جب انسان رات کے وقت آسمان کی طرف دیکھتا ہے اور ستاروں، چاند اور سورج کے نظام پر غور کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ کائنات محض اتفاق سے نہیں بنی۔ اس کے پیچھے ایک عظیم حکمت اور ایک کامل منصوبہ موجود ہے۔

قرآن بار بار انسان کو اسی غور و فکر کی دعوت دیتا ہے تاکہ وہ کائنات کی نشانیوں کو دیکھ کر اپنے رب کو پہچان سکے۔

حتمی پیغام

نور دلوں کی روشنی ہے۔

ضیاء کائنات کی روشنی ہے۔

اور سراج ہدایت کی روشنی ہے۔

جو انسان ان تینوں روشنیوں کو اپنی زندگی میں جمع کر لیتا ہے اس کی زندگی اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں ایسا نور عطا فرمائے جو ہمارے دلوں کو زندہ کر دے، ایسا علم عطا فرمائے جو ہماری سمجھ کو روشن کرے اور ایسی ہدایت عطا فرمائے جو ہمیں ہمیشہ سیدھے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں روشنی کا تصور

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں بھی روشنی کا تصور بہت نمایاں ہے۔ آپ ﷺ نے ایمان کو روشنی اور گمراہی کو تاریکی سے تعبیر کیا ہے۔ ایک دعا میں نبی کریم ﷺ اللہ سے یوں عرض کرتے تھے:

“اے اللہ! میرے دل میں نور پیدا فرما، میری سماعت میں نور عطا فرما، میری نگاہ میں نور عطا فرما، میرے آگے نور ہو، میرے پیچھے نور ہو، میرے دائیں نور ہو اور میرے بائیں نور ہو۔”

یہ دعا اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ مومن کی پوری زندگی نور سے منور ہونی چاہیے۔ اس کا سوچنا، دیکھنا، سننا اور عمل کرنا سب اللہ کی ہدایت کی روشنی میں ہونا چاہیے۔

اسی طرح ایک اور روایت میں آیا ہے کہ قیامت کے دن مومنوں کے آگے آگے نور چل رہا ہوگا۔ یہ نور دراصل ان کے ایمان اور نیک اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں جو ہدایت کا نور حاصل کیا جاتا ہے وہی آخرت میں حقیقی روشنی بن جاتا ہے۔

قرآن میں اندھیرا اور روشنی کا ایک حیران کن فرق

قرآن کا اسلوب نہایت حیرت انگیز ہے۔ اگر انسان غور کرے تو ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے کہ قرآن اکثر “ظلمات” یعنی اندھیروں کا لفظ جمع میں استعمال کرتا ہے، جبکہ “نور” اکثر واحد کی صورت میں آتا ہے۔

اس کی ایک گہری حکمت بیان کی گئی ہے۔ اندھیروں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ جہالت، ظلم، کفر، تکبر اور گمراہی یہ سب مختلف تاریکیاں ہیں۔ اس لئے قرآن انہیں جمع کے لفظ میں بیان کرتا ہے۔

لیکن حق اور ہدایت صرف ایک ہے۔ اسی لئے نور کو واحد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

یہ نکتہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ گمراہی کے راستے بے شمار ہوتے ہیں مگر ہدایت کا راستہ ایک ہی ہوتا ہے۔

نبیوں کی بعثت اور سراج کا مفہوم

قرآن جب رسول اللہ ﷺ کو “سراج منیر” کہتا ہے تو اس کے اندر ایک عظیم پیغام پوشیدہ ہے۔ دنیا میں جب بھی اندھیرا بڑھ جاتا ہے تو اللہ اپنے نبیوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ انسانوں کے لئے چراغ بن جائیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کا چراغ جلایا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ظلم کے اندھیرے میں حق کی روشنی دکھائی۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے محبت اور رحمت کی تعلیم دی۔

اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ نے ایسی ہدایت کے ساتھ بھیجا جس نے پوری دنیا کو روشن کر دیا۔

یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی تعلیمات کو قیامت تک کے لئے ہدایت کا چراغ قرار دیا گیا۔

دل کی روشنی اور دل کی تاریکی

انسان کی زندگی میں اصل روشنی اس کے دل میں ہوتی ہے۔ اگر دل روشن ہو تو انسان مشکل حالات میں بھی صحیح راستہ دیکھ لیتا ہے۔ لیکن اگر دل تاریک ہو جائے تو انسان روشنی کے درمیان رہ کر بھی گمراہ ہو سکتا ہے۔

اسی لئے قرآن بار بار دلوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ جب دل میں ایمان اور اخلاص پیدا ہو جاتا ہے تو انسان کے اعمال بھی روشن ہو جاتے ہیں۔

علماء کہتے ہیں کہ دل کی روشنی تین چیزوں سے بڑھتی ہے:

  1. اللہ کا ذکر

  2. قرآن کی تلاوت

  3. نیک لوگوں کی صحبت

جب یہ چیزیں انسان کی زندگی میں شامل ہو جائیں تو اس کے دل میں ایک ایسی روشنی پیدا ہو جاتی ہے جو اسے گناہوں سے بچاتی اور نیکی کی طرف مائل کرتی ہے۔

ایک فکری سوال

انسان اگر خود سے ایک سوال کرے کہ دنیا میں سب سے بڑی روشنی کیا ہے؟

کیا وہ سورج کی روشنی ہے؟

یا علم کی روشنی؟

یا ایمان کی روشنی؟

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ سب سے بڑی روشنی وہ ہے جو انسان کو اس کے رب تک پہنچا دے۔ اگر کوئی روشنی انسان کو اللہ سے دور کر دے تو وہ حقیقی روشنی نہیں بلکہ ایک دھوکہ ہے۔

قاری کے لئے غور کا پیغام

جب آپ رات کے وقت آسمان کی طرف دیکھیں اور چاند کی نرم روشنی کو محسوس کریں تو یاد رکھیں کہ قرآن نے اسے “نور” کہا ہے۔

جب آپ سورج کی تیز روشنی دیکھیں تو یاد کریں کہ قرآن نے اسے “ضیاء” کہا ہے۔

اور جب آپ ہدایت کے چراغ کی بات کریں تو یاد رکھیں کہ قرآن نے اسے “سراج” کہا ہے۔

یہ تینوں الفاظ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اللہ کی تخلیق میں ہر چیز ایک حکمت کے ساتھ پیدا کی گئی ہے۔

اختتامی کلمات

قرآن کی زبان ہمیں سکھاتی ہے کہ الفاظ صرف الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے گہری حقیقتیں چھپی ہوتی ہیں۔

نور دلوں کو زندہ کرتا ہے۔

ضیاء دنیا کو روشن کرتا ہے۔

اور سراج انسان کو راستہ دکھاتا ہے۔

اگر انسان اپنے دل میں ایمان کا نور پیدا کر لے، علم کی ضیاء حاصل کر لے اور انبیاء کی تعلیمات کے سراج سے رہنمائی حاصل کرے تو اس کی زندگی روشنی سے بھر جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ہدایت کا نور عطا فرمائے، ہمارے علم میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنے سیدھے راستے پر قائم رکھے۔ آمین۔

Loading