السلام علیکم !
( گیارہ ہزار اسمائے الٰہیہ )
انسان کے اندر پورے تقاضوں اور جذبات کے ساتھ دو حواس کام کرتے ہیں۔ ایک طرح کے حواس خواب میں اور دوسری طرح کے حواس بیداری میں کام کرتے ہیں۔ ان دونوں حواس کو ایک جگہ جمع کر دیا جائے تو ان کی تعداد “ گیارہ ہزار “ ہوتی ہے۔ان گیارہ ہزار کیفیات یا تقاضوں کے اوپر ہمیشہ ایک اسم غالب رہتا ہے۔
اس کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ انسان کی زندگی میں اللّٰہ تعالیٰ کے جو اسماء کام کر رہے ان کی تعداد گیارہ ہزار ہے اور ان گیارہ ہزار اسماء کو جو اسم کنٹرول کرتا ہے وہ “ اسم اعظم “ ہے۔
ان گیارہ ہزار اسماء میں سے “ ساڑھے پانچ ہزار “ اسماء خواب میں کام کرتے ہیں۔ انسان چونکہ اشرف المخلوقات ہے۔ اس لئے اللّٰہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق انسان کے اندر کام کرنے والا ہر اسم کسی دوسری نوع کے لیے “ اسم اعظم “ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وہ اسماء ہیں جن کا علم اللّٰہ تعالیٰ نے “حضرت آدمؑ” کو سکھایا ہے۔
تکوین یا اللّٰہ تعالیٰ کے ایڈمنسٹریشن ( ADMINISTRATION ) کو چلانے والے حضرات یا صاحبِ خدمت اپنے اپنے عہدوں کے مطابق ان اسماء کا علم رکھتے ہیں۔
اسم ذات کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کا ہر اسم اللّٰہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جو کامل طرزوں کے ساتھ اپنے اندر تخلیقی قدریں رکھتا ہے۔ تخلیق میں کام کرنے والا سب کا سب قانون اللّٰہ کا قانون ہے۔
اَللّٰہُ نُوࣿرُ السَّمٰوٰتِ وَ الࣿاَرضِ
اور یہی نور لہروں کی شکل میں نباتات ، جمادات ، حیوانات ، انسان ، جنات اور فرشتوں میں زندگی اور زندگی کی تمام تحریکات پیدا کرتا ہے۔ پوری کائنات میں قدرت کا یہی فیضان جاری ہے کہ کائنات میں ہر فرد نور کی ان لہروں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور وابستہ ہے۔
کہکشانی نظاموں اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے۔ پے در پے جو خیالات ذہن میں آتے ہیں وہ دوسرے نظاموں اور آبادیوں سے موصول ہوتے رہتے ہیں ۔ نور کی یہ لہریں ایک لمحہ میں روشنی کا روپ دھار لیتی ہیں۔ روشنی کی یہ چھوٹی بڑی لہریں ہم تک بے شمار تصویر خانے لے کر آتی ہیں۔ ہم ان ہی تصویر خانوں کا نام واہمہ ، خیال ، تصّور اور تفکر رکھ دیتے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :——
لوگو ! مجھے پکارو ، میں سنوں گا۔ مجھ سے مانگو ،
میں دوں گا۔
کسی کو پکارنے یا مانگنے کے لئے ضروری ہے کہ اس ہستی کا تعارف ہمیں حاصل ہو۔ اور جانتے ہوں کہ جس کے آگے ہم اپنی احتیاج پیش کررہے ہیں وہ ہماری احتیاج پوری کرسکتا ہے یا نہیں۔
اس بات پر یقین کرنے کے لئے ہمیں یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ کون سی ذات والا صفات ہے جس سے ہم روزانہ “ ایک لاکھ “ سے بھی زیادہ خواہشات پوری کرنے کی تمنا کریں تو وہ پوری کرسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذاتِ یکتا اللّٰہ ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ان صفات کا تذکرہ اپنے ناموں سے کیا ہے۔
سورۂ اعراف میں اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :——
اور اللّٰہ کے اچھے اچھے نام ہیں۔ پس ان
اچھے ناموں سے اُسے پکارتے رہو۔
مزید معلومات کے لئے مطالعہ کیجیے۔
کتاب : روحانی نماز
تالیف : جناب قبلہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب
![]()

