Daily Roshni News

عید وزٹ۔۔۔ تحریر: شازیہ مقصود

“عید وزٹ”

تحریر: شازیہ مقصود

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔عید وزٹ۔۔۔ تحریر: شازیہ مقصود )ناگوارہ کو جو کرتا ہے گوارہ انساں !

زہرکھاکر کے مزہ شیرو شکر لیتا ہے!!

میرے نانا یہ شعر ان خاص موقعوں پہ پڑھا کرتے تھے جب انہیں کسی فیصلے سے اختلاف ہوتا تھااور مصلحت کے تحت انہیں وہ بات وہ فیصلہ قبول کرنا پڑتا تو وہ نہایت خوش دلی سے یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔کل رات میں نے عید کے تینوں دن کے پلان بنائے کہ کب کس کے گھر جانا ہے بمعہ عیدی اور پیٹرول کے بجٹ کے ساتھ اپنے شوہر کے سامنے پیش کیا۔ میرا خیال تھا کہ بس انکے گھر جائیں گے جن کے یہاں جانا بہت ضروری ہے اورپچھلی عیدوں پہ غائبانہ بچوں کو بہت عیدی دے دی اب صرف حاضر بچوں کو عیدی دی جاۓ گی جب کہ انکا خیال تھا کہ اس کراہ ارض پر بسنے والے میرے اور انکے تمام قریبی اور دور دراز کے رشتے داروں کے یہاں بھی جایا جاۓ اس کےساتھ ہی وہ ایک ایک کر کے نام گنوانے لگے۔۔ یہ الگ بات ہے کہ میں بھی دل ہی دل میں گن رہی تھی کہ کوئی رہ تو نہیں گیا اور عیدی کا کیا ہے جاتی ہے تو آتی بھی تو ہے یہ جہاں بدلے کا ہے اس ہاتھ دو اس ہاتھ لو انہوں نے خلیل جبران بننے کی کوشش کی۔ اور پیٹرول ۔۔اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جناب گاڑی پانی سے نہیں چلتی۔ میں نے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی کہ یہ جو آپ پورے کراچی کی سیر کا پروگرام بنا کر بیٹھے ہیں تو اتنا پیٹرول کیسے مینج ہو گا؟۔ رشتے داروں سے ملنا ایک نیکی ہے اور نیکی کے راستے میں اللہ کی مدد ہوتی ہے انہوں نے بات کو نیا رنگ دیا مگر ہمارے تو کچھ رشتے دار مریخ کالونی اور کچھ چاند نگر شفٹ ہو چکے ہیں! میں نے ان کی معلومات میں اضافہ کیا۔۔۔اب اس کا کیا مطلب ہے بھئی؟دیکھیں ناں تالی تو دونوں ہاتھ سے بجتی ہے اور تعلقات بھی ہمیشہ دوطرفہ نبھاۓ جاتے ہیں کچھ رشتہ داروں کے گھر دس دفعہ چلے جاؤ فون بھی کر لو رابطے بھی رکھ لو مگر ناں جی مجال ہے کہ ٹس سے مس ہو جائیں کبھی جو ملنے ملانے میں پہل کر لیں جب جائیں ہم ہی جائیں پچھلی بار بھی میں نے کئی ایک کے پیر چیک کئے تھے کہ خدا ناخواستہ کوئی ٹیکنیکل پرابلم تو نہیں۔۔۔ شکر ہے سب ٹھیک تھا فون بھی ہمیشہ ہم ہی کریں ۔۔۔چلو کوئی بات نہیں صلہ رحمی کرنے والوں سے اللہ پاک خوش ہوتا ہے دل کو تسلی دی۔ اور جب بھی اپنے گھر انوائیٹ کرو تو آئیں بائیں شائیں کافی غور کیا کسی دن ان تمام خواتین کی نفسیات پہ تفصیل سے روشنی ڈالوں گی۔ فی الحال تو بات ہو رہی تھی عید وزٹ کی ۔۔ اس ایک پوائنٹ پہ ہمارے درمیان کچھ اختلاف راۓ تھا میرا خیال تھا کہ عید وزٹ مختصر رکھا جاۓ جبکہ میرے شوہر نامدار اس کائنات کے ذرےذرے انسان حیوان چرند پرند سب سے عید ملنے کے خواہاں تھے تاریخ گواہ ہے کہ یہ تو ،اگر ،لیکن بڑے ہی تخریبی الفاظ ہیں اور ہر بحث کا آغاز انہی الفاظ سے ہوتا ہے اور اختتام کسی ایک کے سرینڈر کرنے پر ہوتا ہے فی الحال تو مجھے ہماری ساری savings پی ایس او اور shell کے ہاتھ میں جاتی نظر آرہی تھیں۔ عیدی کا دکھ بھی خاصی معقول وجہ تھی کیا کسی کو معلوم ہے کہ یہ عیدی دینے کی نامعقول روایت کب اور کس نے شروع کی۔ ایسے موقعوں پہ ہمیشہ ہم جیسوں کا نقصان ہوتا ہے بقول میری ایک دوست کے ۔۔۔یار ایسے موقعوں پہ ہمیشہ میرا دل چاہتا ہے کہ میرے پاس جادو کی ایک چھڑی ہو اور میں اپنے دو بچوں کو چار میں تبدیل کر دوں ہاہاہا دل کے ارماں میرا جواب ہمیشہ ایک ہنسی کی صورت میں ہوتا تھا ۔فی الحال تو میں ایک بار پھر سارے ایسے رشتے داروں کو این آر او دینے کو تیار تھی کوئی بات نہیں کبھی تو اپنا وقت بھی آۓ گا (دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے )۔۔لیکن میں آپ کے دوست کے یہاں نہیں جاؤں گی جن کی دادی اونچا سنتی ہیں اور ہمیشہ نئے سرے سے پوچھتی ہیں کہ شادی کب کیسے کن حالات میں ہوئی کتنے بچے ہیں وغیرہ وغیرہ اور میں کوئی دس بارہ دفعہ ان کو یہ ساری کہانی نہایت مشقت کے ساتھ سنا چکی ہوں۔ میں نے صاحب سے کمزور سا احتجاج کیا !! نہیں انکے گھر تو سب سے پہلے جانا ہے اس کی بیٹی نے روزہ رکھا تھا اور ہم جا نہیں سکے تھے کیونکہ تمہاری دوست کے گھر افطار پارٹی تھی تم وہاں چلی گئی تھی۔ انہوں نے مجھے یاد دلایا ۔۔۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ رشتوں کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ بات منوانی ہوتو بات ماننی بھی پڑتی ہے اور میں نہایت خوش دلی سے یہ شعر پڑھنے لگی۔۔

ناگوارہ کو جو کرتا ہے گوارہ انساں!

زہر کھا کر کے مزہ شیرو شکر لیتا ہے!!

Loading