دجال ۔۔قسط نمبر26۔۔ابن آس محمد
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
سنسنی خیز ، حیرت انگیز ، دل چسپ پراسرار ناول
سطر سطر پُر خطر۔لفظ لفظ خوب تر
بچوں کے ادب میں پہلا مکمل خلائی ،سائنسی ،ایڈونچرناول
ٹیلی پیتھی کے پس منظر میں
پراسرار،عجیب وغریب ،ناقابل یقین سائنسی ایڈونچر
۔۔ ۔۔ ۔۔
کہانی کچھ یوں ہے/گذشتہ اقساط کا خلاصہ
۔۔ ۔۔ ۔۔
میرا نام جیم ہے ۔میں اپنا پورا نام نہیں بتا سکتا ،کیوں اس میں میری جان جانے کا خطرہ ہے ۔
ایک شام میں اپنے دوستوں مراد اور پپو کے ساتھ شاپنگ سینٹر سے نکلا تو شاپنگ سینٹر سے باہرمجھے اپنی کزن رانی عرف نیلی اور ہماری مشترکہ دوست کاشی بھی مل گئی ۔وہ بھی گھر کی طرف ہی جا رہی تھیں ۔ہم ساتھ چلنے لگے ۔ غلطی سے ہم نے جنگل سے ہو کر جاتے والا راستہ اختیار کرلیا۔راستے میں ایک زیر تعمیر سائٹ تھی ۔ وہاں ہم نے ایک خلائی جہاز اُتر تے دیکھا ۔ خلائی جہاز سے فندالیہ نامی ایک زخمی خلائی مخلوق باہر آئی ۔ وہ ہم سے ہمارے اندر ٹیلی پیتھی کے ذریعے بات کرنے لگی ۔ اس نے ہمیں کچھ ایسی باتیں بتائیں کہ ہماری سٹی گم ہو گئی ۔ ا س نے بتایا کہ ایک بھیانک خلائی مخلوق ہمارے سیارے پر آنے والی ہے ۔ وہ اپنا وجود نہیں رکھتی ،بلکہ دماغ میں گھس کر کسی کو بھی اپنا ’’ قابوض ‘‘ یا غلام بنا لیتی ہے ۔ خلائی مخلوق ’’ فندالیہ ‘‘ نے ہمیں خطرے سے آگاہ کیا ،اور کچھ طاقتیں اور صلاحتیں ہمارے اندر منتقل کردیں ۔ اسی وقت اس کا پیچھا کرتے ہوئے مزید خلائی جہاز آگئے ۔ا س میں سے’’ حربوش ‘‘ نام کی ایک بھیانک مخلوق باہر آئی اور اس کے فورا بعد ایک کھن کھجورے جیسی بھیانک مخلوق باہر نکلی ۔انہوں نے ہماری دوست خلائی مخلوق ’’ شلمورفندالیہ ‘‘ کو مار دیا ۔ ہم چھپ کر یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے ۔ ایسے میں خلائی مخلوق کو وہاں ہماری موجودی کا احساس ہو گیا ۔وہ ہمیں پکڑنے کے لیے ہماری طرف بھاگے ۔میرے پیچھے دو خطرناک ’’ حربوش ‘‘ دوڑے چلے آرہے تھے ۔میںایسے میں زمین پر گر گیا۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ موت میری طرف بڑھ رہی ہے ۔ پھر میں بھاگا اور ایک ٹوٹی ہوئی عمارت میں داخل ہو گیا۔مگر افسوس ،میرے پیچھے حربوش بھی اندر داخل ہو گئی ۔اب میری موت شاید یقینی تھی ۔مگر میں کسی نہ کسی طور کود کو بچا کر بھاگنے میں کام یاب ہو گیا ،گھر جا کر سو گیا۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ باقی دوستوں کے ساتھ کیا ہوا۔اگلے روز پپو مجھ سے ملنے آیا۔وہ بہت پر جوش تھا ۔اس نے عجیب بات بتائی کہ وہ اپنی جون بدل کر بلی بننے میں کام یاب ہو گیا ہے ۔یہ ناقابل یقین اور انوکھی بات تھی ،میں بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔وہ مجھ سے کہنے لگا کہ تم بھی اپنی صلاحیت استعمال کرو ۔ تمہارے بغیر ہم خلائی مخلوق ’’ دَیّوش ‘‘ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔میں اس پر تیار نہیں تھا ۔وہ ایک بار بلی کیا بن گیا ۔شیر جیسی باتیں کرنے لگا۔میں نے اس کے ایما پر اپنا کتا ٹائیگر بننے کی کوشش کی ،اس نے جو طریقہ بتایا ،اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کتے ٹائیگر کا ڈی این اے پیٹرن اپنے ڈی این اے میں ملایا ،اور پھر ارتکاز و دھیان لگا کر خود کو کتے کی جون بدلنے میں کام یاب ہو گیا۔اسی وقت میرا بھائی طارق وہاں آگیا۔وہ مجھے کتے کے روپ میں پہچان ہی نہیں سکا۔اس کے جانے کے بعد میں نے سب کو فون کیا اور کاشی کے فارم ہاؤس میں ملنے کا قصد کیا ۔جب میں مقررہ وقت پر پہنچا تو نیلی ،مراد اور پپو وہاں موجود تھے ،باتوں کے دوران ایک گھوڑی وہاں آگئی ،میں پہچان نہیں سکا۔وہ کاشی تھی جو خود کو اپنی پسندیدہ گھوڑی کے روپ میں ڈھال چکی تھی ،اس نے ہم سے ٹیلی پیتھی کے ذریعے ہمارے اندر گفتگو کی اور پھر وہ اپنی جون بدل کر کاشی بننے لگی ،ابھی اس کا اوپری دھڑ کاشی کا اور نچلا دھڑ گھوڑی کا ہی تھا کہ پولیس کی گاڑی فارم ہاؤس میں داخل ہو تی دکھائی دی ۔ہمارے دل دھڑکنے لگے ۔ہم پکڑے جانے والے تھے ۔مگر ہم بچ گئے ۔دوسرے روز مرادمیرے گھر آیا،تب ہی کھڑکی کے ذریعے پپو ایک عقاب کی جون میں اندر آگیا۔اس نے پورے عزم سے کہا کہ وہ دیوش کے خلاف لڑے گا ۔ہماری دنیا کو اس مخلوق سے بچانے کی پوری کوشش کرے گا ۔ہم سب ساحل پر ” گڈ گیدرنگ ” کے اجلاس میں پہنچے ۔وہاں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ہمیں یوں لگا کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔مگر کچھ نہ کچھ غلط تھا۔گڈ گیدرنگ کے پکے اراکین کا اجلاس ذرا فاصلے پر تھا۔ہم نے اپنی جون بدل کر وہاں جانے اور سن گن لینے کا فیصلہ کیا۔پپو عقاب کے روپ میں بہت کچھ معلوم کر چکا تھا۔میں نے اپنے کتے ٹونی کی جون میں کتے کے روپ میں تبدیل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جون تبدیل کرنے کے عمل کے بعد ہم نے اس خلائی مخلوق سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ۔مختلف حالات سے گزر کر ہم اب اس تالاب میں جانے والے تھے جہاں انسانوں کی کھوپڑی میں دیوش منتقل کرکے انہیں غلام یا قابوض بنایا جاتا تھا۔یہ تالاب ،یقینیا ہمارے اسکول کی عمارت کے نیچے بنایا گیا تھا ۔
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
یہ تھا گذشتہ قسطوں کا خلاصہ ۔۔۔
اب آپ آگے ملاحظہ فرمائیں ۔
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
قسط نمبر 26
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
اگلے کوریڈور میں روشنی تھی ۔
روشنی میں بہت سے لوگ قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک ایک کرکے دھیرے دھیر ے اس چھوٹے سے کمرے میں جا رہے تھے ،جس میں نیچے جانے کا راستہ تھا ۔
میں واپس کمرے میں گیا ۔ تینوں دوست سائنس لیب میں میرے منتظر تھے ۔
میں نے اندر آتے ہی سرگوشی میں کہا :
” کچھ لوگ موجود ہیں اس کوریڈور میں ،جہاں نیچے جانے کا راستا ہے ۔۔”
نیلی نے جھٹ کہا :
” یہ’’ قابوض‘‘ ہی ہیں ۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ دِیّوش ‘‘ کا خوراک لینے کا وقت ہے ۔۔”
ہم ذہنی دباؤ میں تھے ،پھر بھی ہمارے ہونٹوں پہ مسکراہٹ رینگ گئی ۔
مراد نے پوچھا :
” اب ہم کیا کریں ۔۔ اندر کیسے جائیں گے ۔۔؟ تم بتا رہے ہو وہاں تو لوگ موجود ہیں ۔۔ ان کی موجودی میں نیچے کیسے جاسکیں گے ۔۔؟”
ہم سب سوچ میں ڈوب گئے ۔
نیلی نے کچھ دیر بعد سر اٹھا کر پوچھا:
” تمہارا کیا خیال ہے ۔۔ جتنے بھی ’’قابوض ‘‘ہیں ،کیا یہ سب ایک دوسرے کو شکلوں سے پہچانتے ہیں ۔۔؟”
” مطلب ۔۔ ؟”
” مطلب یہ ۔۔ کیا ضروری ہے کہ سارے ’’قابوض‘‘ ایک دوسرے کے واقف کار ہوں ۔۔ ایک دوسرے کو چہروں سے پہچانتے ہوں ۔۔ ممکن ہے وہ ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوں ۔۔”
مراد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا :
” ایسا ممکن ہے ۔۔ سب ایک دوسرے کو کہاں جانتے ہوں گے ۔۔ تو پھر ۔۔؟”
” تو پھر یہ کہ ہم دیدہ دلیری سے ان کے سامنے اندر چلتے ہیں ۔۔ وہ ہمیں بھی ’’قابوض ‘‘ سمجھیں گے ۔۔ انہیں کیا معلوم کہ ہم ’’ دَیّوش ‘‘ کے قابوض ہیں یا نہیں ۔۔”
نیلی نے بہت زبردست بات کی تھی ۔وہ ٹھیک کہہ رہی تھی ۔
اس علاقے میں ’’ دَیّوش‘‘ کے ’’قابوضوں ‘‘کے تعداد بہت زیادہ ہوگئی تھی ۔
یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی ۔ ہر روز کچھ نئے لوگ ’’ قابوض ‘‘ بن رہے تھے ۔
ایسے میں ضروری تو نہیں تھا کہ سب ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔’’گڈ گیدرنگ کلب ‘‘ کے بے شمار ممبر تھے ۔ سب ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے ۔ جاننے کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔
میں نے تائیدی انداز میں کہا :
” نیلی ٹھیک کہہ رہی ہے ۔”
مراد پرجوش لہجے میں بولا:
” تو ٹھیک ہے پھر ۔۔ ہم بے فکری سے یہاں سے نکلتے ہیں ۔۔ اس لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔۔ اگر کوئی جان پہچان والامل بھی گیا ۔۔۔ ا س نے دیکھ بھی لیا تو وہ یہی سمجھے گا کہ ہم بھی ’’ قابوض ‘‘ ہیں ۔۔۔ یا ’’قابوض‘‘ بننے آئے ہیں ۔۔”
پھراس نے نیلی کی طرف دیکھتے ہو ئے کہا :
’’ ویری گڈ نیلی ۔۔ تم نے تو اندر جانے کا مسئلہ ہی حل کردیا ۔۔ میں تو یہی سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ ہم اندر کیسے جائیں گے ۔۔ اب تو ہم آسانی سے اور سینہ چوڑا کر کے ،سب کے سامنے اندر جا سکتے ہیں ۔۔ بہترین آئیڈیا ۔۔ چلو۔۔ ماردو یا مرجا ؤ ۔۔ وقت آگیا ہے ۔۔”
میں نے اثبات میں سرہلادیا ۔ مراد کی طرح میں نے بھی نیلی کو شاباش دی ۔ وہ شاید خوش ہوئی تھی ،مگر اندھیرے کی وجہ سے ہمیں معلوم نہیں ہو سکا۔
مراد نے اچانک چونک کر کہا :
“لیکن تمہارا بھائی ۔۔ طارق بھی تووہاں ہو گا ۔۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ تم ’’ قابوض ‘‘ ہو یا نہیں ۔۔”
میں نے لیب کا دروازہ کھول کر باہر جھانکتے ہوئے کہا :
” طارق بہت پہلے گھر سے نکل گیا تھا ۔۔ اس کے بعد میں گھر سے نکلا تھا ۔۔ میرا خیال ہے وہ بہت پہلے نیچے جا چکاہو گا ۔۔ باہر لائن میں نہیں کھڑا ہو گا ۔۔”
پھرباہر جھانک کر میں نے پلٹ کر کہا :
“کوریڈور خالی ہو چکا ہے ۔۔ شاید اب تک آنے والے سب لوگ اندر چلے گئے ہیں ۔۔ چلیں ہم بھی ۔۔؟”
مجھے باہر عجیب سا سناٹا محسوس ہو رہا تھا ۔ سب کے نیچے جانے کے بعد کوریڈور میں خاموشی ہو گئی تھی ۔ کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔
میں نے کوریڈور میں قدم رکھے ہی تھے کہ چونک گیا۔
” کیاہوا ۔۔ رُک کیوں گئے ۔۔؟”
” شاید کوئی اس طرف آرہا ہے ۔۔”
میں جھٹ پیچھے ہو گیا ۔الماری کے عقب سے جھانک کر دیکھنے لگا ۔
اس طرف روشنی تھی ۔ میری آنکھوں میں براہ راست روشنی آرہی تھی ۔ایسے میں آنے والوں کے چہرے شناخت کرنا آسان نہیں تھا ۔
مجھے دو لوگ دکھائی دیے ۔ ان میں سے ایک نے پولیس کی یونی فارم پہنی ہوئی تھی ۔۔ اور ۔۔ اور ۔۔
میری ہمت نہیں ہوئی مزید دیکھنے کی ۔میں نے پپو کو مخاطب کیا :
” پپو ۔۔ بات سنو ۔۔؟”
پپو کی آواز مجھے اپنے اندر سنائی دی ۔
” ہاں ۔۔ کہو ۔۔ کیا بات ہے ۔۔؟”
” مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔۔ تمہاری تیز بینائی کی ضرورت پڑ گئی ہے ۔۔ شاید ۔۔ شاید ۔۔!”
میں اس سے زیادہ کچھ کہہ نہیں سکا۔ہمت ہی نہیں تھی۔
پپو جو کہ عقاب کے روپ میں تھا۔اس نے اپنے پر پھیلائے ۔ ایک جست لگا کر میرے کاندھے پر بیٹھ گیا ۔
میں نے پپو کو آگے کر دیا تھا ۔ جو کچھ میں نے دیکھا تھا ،اس کو دیکھنے کا حوصلہ نہیں تھا ۔
میں نے دیکھا کہ وہ وہی پولیس انسپکٹر ہے ۔ کسی کو بڑی بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے لا رہا ہے ۔
یہ منظر دیکھ کرمیں شاید غشی کے مارے گرنے والاتھا ۔
یوں محسوس ہوا جیسے میرے پیروں تلے فرش کھسکنے والاہے ۔
وہ جس کو گھسیٹ کر لارہا تھا ۔وہ ایک لڑکی تھی ۔
وہ لڑکی کوئی او ر نہیں تھی ۔
میری دوست کاشی تھی ۔ ہماری دوست کاشی ۔۔۔
نیلی نے پریشانی سے پوچھا :
” کیا ہو گیا۔۔ پریشان کیوں ہو گئے اچانک۔۔ ؟”
میں نے سرگوشی میں کہا ۔
” انہوں نے اس کو پکڑ لیا ہے ۔۔؟”
’’ کس نے پکڑ لیا ہے ۔۔؟”
میں نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا ۔
” قابوض نے ۔۔۔”
نیلی نے جھنجھلا کر کہا :
” یوں پہلیاں کیوں بجھو ارہے ہو ۔۔ ٹھیک سے بتا ؤ کس کو پکڑ لیا ہے ۔۔؟”
میں نے اپنی منتشر سانسوں کے ساتھ کہا :
” کاشی کو ۔۔ انہوں نے کاشی کو پکڑ لیا ہے ۔۔”
ہم سب سناٹے میں آگئے ۔
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔۔
نیلی میری بات سن کر لڑ کھڑا کر رہ گئی ۔ ہکلا کر بولی :
“کک ۔۔ کک ،کیا مطلب ۔۔ ؟ کس نے پکڑ لیا کاشی کو ۔۔؟”
میں نے مختصر جواب دیا :
’’ قابوض‘‘ پولیس انسپکٹر نے ۔۔ کاشی کو پکڑ لیا ہے ۔۔”
“اوہ ۔۔ اب ۔۔ ؟ اب کیا کریں ہم ۔۔ ؟”
کہانی ایک دَم پلٹ گئی تھی ۔
ہم یہاں ،دَیّوش تالاب تباہ کرنے آئے تھے۔
انہوں نے ،ہماری ایک ساتھی کو پکڑ کرہمارا پورا منصوبہ ہی چٹکیوں میں اُڑا دیا تھا ۔
کاشی سر شام سے ہی گھر سے غائب تھی ۔
کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں گئی ہے ۔
اس کی مما پریشان تھیں ۔ہم بھی فکرمند تھے ۔
اب ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ان کے قبضے میں آگئی ہے ۔ اس کو پولیس انسپکٹر گھسیٹتے ہوئے یہاں لایا تھا۔ شاید نیچے لے جا رہا تھا ۔
یہ وہی پولیس انسپکٹر تھا جو اُس شام کاشی کے فارم ہاؤس پہ ہم سے پوچھ گچھ کرنے آیا تھا ۔ پھرہم نے اسے ’’گڈ گیدرنگ ‘‘ کی پکنک میں دیکھا تھا ۔ وہاں معلوم ہوا تھا کہ وہ بھی ’’ دَیّوش ‘‘ کا قابض ہے ۔ وہ ’’ قابوض ‘‘ کی خفیہ میٹنگ کی نگرانی کر رہا تھا ۔ا س نے کاشی کو اس خفیہ میٹنگ کی جگہ کے پاس منڈلاتے ہوئے دیکھا تھا ۔
اب وہ اس کو پکڑ کر یہاں لے آیا تھا ۔
ساری کہانی ہی پلٹ گئی تھی ۔
سارا منصوبہ چوپٹ ہو گیا تھا ۔
میں نے سرگوشی میں ساری بات ان کو بتادی ۔ سب سناٹے میں آگئے ۔ نیلی بڑ بڑا کر رہ گئی ۔کچھ بولنا چاہتی تھی بول نہیں پائی۔
ابھی ہم نے ان کے خلاف کچھ کارروائی شروع بھی نہیں کی تھی کہ سب برباد ہو گیا ۔ساری پلاننگ دَھری کی دَھری رہ گئی ۔
ہم کچھ دیر تک سناٹے کی کیفیت میں کھڑے رہے ۔ سب کے چہرے دھواں دھواں ہو رہے تھے ۔
میں نے ایک عزم کے ساتھ کہا :
’’ کوئی بات نہیں ۔۔ جو ہو نا تھا ہو گیا ۔۔ ہم اپنا منصوبہ ہر حال میں پوراکریں گے ۔۔ اب تو ہم کسی صورت بھی واپس نہیں جا سکتے ۔۔ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ۔۔ ہم اندر جائیں گے ۔۔ جیسا کہ نیلی نے کہا ۔۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ یہاں اندر بہت سارے لوگ جا چکے ہیں ۔۔ ضروی نہیں کہ سارے ’’ قابوض ‘‘ ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔ یہ لوگ ،ہر مرتبہ کچھ نئے لوگوں کو شامل کرتے ہیں ۔۔ ان کے دماغ میں ’’ دَیّوش ‘‘ پہنچاتے ہیں ۔۔ کیوں ۔۔ہم ممکنہ طور پر ان سب کے لیے نئے لوگ ہوں گے جو ’’ قابوض ‘‘ بننے آئے ہیں ۔۔ کوئی بھی ہماری موجودی پر چونکے گا نہیں ۔۔ یہی سمجھے گا کہ ہم ’’ دَیّوش ‘‘ کے نئے شکار ہیں ۔”
مراد نے کراہتے ہوئے لہجے میں کہا :
” یہ خو د کو شدید خطرے میں ڈالنے والی بات ہے ویسے ۔۔”
میں نے اطمینان سے کہا :
” ٹھیک ہے ۔۔ تمہارے پاس اس سے بہتر کوئی ترکیب ہے ۔۔؟”
اس نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا :
” نہیں ۔۔ میرے پاس کوئی ترکیب ہی نہیں ہے ۔۔ بہتر یا بدتر کی تو بات ہی چھوڑ دو۔۔ بس میری سمجھ میں بھی یہی آرہا ہے کہ ہمیں آگے ہی بڑھنا چاہیے ۔۔ واپسی کا کوئی راستا نہیں ہے ہمارے سامنے ۔۔ اب تو کاشی کے پکڑے جانے کے بعد واپس جانے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا ۔۔”
میں نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :
” ٹھیک ہے پھر ۔۔ ہم سب کو بہترین کارکردگی دکھانا ہے ۔۔ کوئی بھی کسی قسم کی حماقت نہیں کرے گا ۔۔”
میں نے پپو کی طرف دیکھتے ہوئے ،ٹیلی پیتھی کے ذریعے اس کے اندر کہا :
” پپو ۔۔ تمہیں اپنی جون میں واپس آنے میں بہت دیر ہو گئی ہے ۔۔ کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے ۔۔ تم اپنی جون بدل کر پپو بن جاؤ اور پھر سے عقاب بن جانا ۔۔ سستی مت دکھانا۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ ہم جا رہے ہیں ۔۔ تم سے بعد میں ملتے ہیں ۔۔”
نیلی ،مراد اور میں جی کڑا کرکے ،الماری کے پیچھے اور کمرے سے نکل آئے ۔تاریک راہ داری میں داخل ہو گئے۔روشن راہداری کی طرف بڑھنے لگے ۔
میں نے محسوس کیا کہ میری ٹانگیں ،اَکڑی ہوئی تھیں ۔ میرے گھٹنے اچانک ہی درد کرنے لگے تھے ۔ ہم یوں چل رہے تھے جیسے زندگی کا کوئی بھیانک فیصلہ کرنے جا رہے ہیں ۔ ہمارے چہرے پر ایسے تاثرات تھے ،جیسے ہم واقعی یہاں ’’ قابوض ‘‘ بننے آئے ہیں ۔
روبوٹ کی طرح قدم اٹھاتے ہوئے ہم اس چھوٹے کمرے میں داخل ہو گئے ۔ سامنے والے چبوترے پر وہ واش بیسن تھا جس کا نلکا سلطان سر نے جھٹکے سے نیچے کیا تھا تو وہاں راستا نمودار ہو گیا تھا۔
میں نے دماغ پر زور دے کر ،دروازہ کھولنے کا طریقہ یاد کرنے کی کوشش کی ،سلطان سر کی طرح ،نلکے کو جھٹکے سے پہلے اُلٹی طرف کھینچا،پھر اسے گھمایاتو ہلکی سی سرسراہٹ کے ساتھ دروازہ نمودار ہو گیا ۔
پہلے میں جب یہاں چھپکلی بن کر،یعنی چھپکلی کی جون میں،چھپکلی کے روپ میں موجود تھا تو مجھے نیچے کی جانب سے شور سنائی دیا تھا ۔ ہلکی ہلکی چیخیں سنائی دی تھیں ۔ یہ شوراس وقت کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ تھا۔ ممکن ہے اس بار مجھے اپنے انسانی کانوں کی وجہ سے یہ شور زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔اس وقت میں چھپکلی بنا ہوا تھا ،اس کے چھوٹے کانوں کو شور اتنا زیادہ محسوس نہیں ہو اہوگا۔
ایک گہری اور تیز آواز سنائی دے رہی تھی ،جیسے سمندر کا پانی کہیں گہری کھائی میں گررہا ہو۔ یہ آواز اتنی بری محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔اس کا تاثربھی ناگوار ہر گز نہیں تھا۔
اس کے سوا دوسری آوازیں بہت مکروہ اور تکلیف دہ تھیں ۔ بے حدبھیانک تھیں ۔
یہ انسانوں کی ملی جلی آوازیں تھیں ۔ ان آوازوں کے تاثر میں مایوسی تھی ،خوف کے مارے نکلی ہو ئی ٹھٹھری ہوئی آوازیں تھیں ، دیوانے پن میں ہنسنے کی مسلسل آوازیں تھیں ۔ جیسے نیچے جاکر لوگ پاگل ہوگئے ہیں۔ مسلسل ہذیانی انداز میں ہنس رہے ہیں ۔
مراد نے کپکپاتی ہوئی سرگوشی میں کہا :
” جیم ۔۔ کیا تمہیں پوار یقین ہے کہ نیچے صرف ’’دَیّوش ‘‘تالاب ہی ہے ۔۔ یا ا س کے علاوہ بھی کچھ ہے ۔۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ نیچے موجود لوگ کسی انسان کو بھون کر کھا رہے ہیں ۔۔ کھاتے ہوئے پاگل ہو رہے ہیں۔۔”
میں نے ا س کی اس فضول بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ اللہ کا نام لیا ،اور دروازے میں داخل ہو کر نیچے جاتی ہوئی سیڑھی پر قدم رکھ دیا۔
سیڑھیاں ،بہت نیچے تک جاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں ۔اندھیرے میں گم سی ہو رہی تھیں ۔ ان کے ساتھ کوئی ریلنگ بھی نہیں تھی جس کو پکڑ کر آسانی سے نیچے اُترا جاسکتا۔ ہر قدم کے ساتھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے جھٹکا کھا کر گرجائیں گے اور لڑھکتے ہو ئے نیچے چلے جائیں گے ۔ بہت دھیرے دھیرے اور پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑ رہا تھا ۔
میرے پیچھے پیچھے مراد اور نیلی بھی سیڑھیوں پر آگئے۔
ہمارے پیچھے دروازہ خود بخود بند ہو گیا تھا۔
میرا خیال تھا کہ سیڑھیاں زیادہ نیچے تک نہیں جا رہی ہوں گی ۔ زیادہ سے زیادہ دس بارہ قدمچے ہوں گے ،لیکن ہم اُترتے ہی چلے جا رہے تھے۔
سیڑھیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔
روشنی کم تھی جس کی وجہ سے نیچے تک بہت کچھ دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا ۔ایسالگ رہا تھا کہ ہم کسی کنویں میں موجود سیڑھیوں پر بس اُترتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔پھر اچانک ہی سیڑھیاں چٹانی ہو تی چلی گئیں ،جیسے چٹانی پتھروں کو تراش کر نیچے جانے کا راستا بنا یا گیا ہو ۔یہ بھی نیچے ہی نیچے لیے چلی جا رہی تھیں ،ساتھ ساتھ گھومتی بھی جا رہی تھیں ۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ سیڑھیوں کا سلسلہ شاید کبھی ختم نہیں ہو گا،ہم نیچے ہی نیچے جاتے ہوئے پاتال میں پہنچ جائیں گے۔
مراد نے سرگوشی میں کہا :
” خلائی مخلوق نے ہمیں حیران کر دیا ہے ۔۔ تم یہی سمجھ رہے تھے نا کہ یہاں ہمیں نیچے لے جانے کے لیے کسی لفٹ کا انتظام کیا گیا ہو گا ۔۔”
ہم سب ا س کی بات پر دھیرے سے ہنس پڑے ۔اپنے خوف اور ڈر کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔
اچانک ہی پتھریلی سیڑھیاں ،ختم ہو گئیں۔
ہم ایک بہت بڑے غار میں داخل ہو گئے ۔جہاں لوگ ہی لوگ تھے ۔ایک جم غفیر تھا جو دور دور تک دکھائی دے رہا تھا ۔
بہت بڑے کا مطلب ۔۔ بہت بڑا ہی تھا ۔
اتنا بڑا غار کہ شاید کوئی اس کی توقع ہی نہ کر سکے ۔
یہ اتنا بڑا غار تھا کہ ہم اس میں کرکٹ کھیل سکتے تھے۔
اطراف کی دیواروں میں جا بجا اس طرح کمرے بنے ہوئے تھے کہ حیرانی ہو رہی تھی ۔یہ کمرے چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے تھے ۔ اوپر تلے اتنے کمرے تھے کہ جیسے کوئی بلند عمارتیں موجود ہوں اطراف میں ۔۔
پورا غار ،ایک بہت بڑے پیالے کی طرح تھا۔ گولائی میں گھوما ہو اتھا ۔
درمیان میں دور ایک بہت بڑا زرد سا تالاب دکھائی دے رہا تھا۔
ہر طرف مضبوط چٹانیں تھیں ۔جنہیں جانے کس چیز سے تراشا گیا تھا ۔اس پیالے نماغار کے عین اوپر ۔۔ بہت اوپر ایک خلا تھا ،جو بہت بلندی کی وجہ سے چھوٹا سا محسوس ہو رہا تھا ۔ یہاں سے ستارے آسانی سے دیکھے جا سکتے تھے ۔ یا آکسیجن کے لیے بنایا گیا ہوگا ۔
تمام کمروں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے کئی سیڑھیاں نظر آرہی تھیں ،یعنی سیڑھیوں کے ذریعے نیچے سے اوپر کسی بھی کمرے میں جایا جا سکتا تھا ،آیا جا سکتا تھا ۔
یہ سیڑھیاں ،صرف وہیں نہیں ،جگہ جگہ دکھائی دے رہی تھیں ،یہاں سے وہاں ،وہاں سے کہاں ۔۔ کہیں بھی ان سیڑھیوں سے پہنچنا آسان تھا ،یوں سمجھ لیں کہ اس غار میں سیڑھیوں کا جال بنا ہوا تھا ۔اور ہر طرف سے سیڑھیاں نیچے فرش کی طرف جا رہی تھیں ۔
ہم نیچے اتر کر سیڑھیوں کے قریب چھپ سے گئے۔
یہ وہ جگہ تھی جہاں سے کئی سیڑھیاں اُتر کر ایک ساتھ جمع ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے کچھ ایسی جگہ بن گئی تھی کہ دوسروں کی نظروں میں آئے بغیر یہاں چھپا جا سکتا تھا ۔
مراد نے سرسراتی ہوئی آواز میں کہا :
” یہ تو بہت بڑی جگہ ہے ۔۔ میں سمجھ رہا تھا کہ ان کا یہ ٹھکانا ،اسکول کے نیچے ہے ۔۔یہ صرف اسکول کے نیچے نہیں ہے۔۔یہ تو آدھے شہر کے نیچے ہے ۔۔اس کے اوپر آدھا شہر آجائے ۔۔ یہ جو سیڑھیاں اوپر جا رہی ہیں ۔۔ مجھے لگ رہاہے کہ یہ سب درجنوں خفیہ راستے ہیں جن کے ذریعے نیچے آیا جاتا ہے ۔۔ بالکل اسی طرح کے راستے جن میں سے ایک کے ذریعے ہم نیچے آئے ہیں ۔۔”
پھر اس نے خوف زدہ اندا زمیں چاروں طرف کا جائزہ لیتے ہوئے کہا :
” جیم ۔۔ انہوں نے اتنی بڑی جگہ کیسے بنالی زمین کے نیچے ۔۔ اس میں تو انہیں بہت وقت لگا ہو گا ۔۔ یہ معمولی کام نہیں ہے ۔۔ یہ تو ۔۔ یہ تو ۔۔ بہت بڑا منصوبہ ہے ۔۔ کسی بلڈر کو یہ جگہ بنانے کا ٹھیکا دیاجائے تو وہ اس کو بنانے میں برسوں لگادے گا ۔۔”
مراد ٹھیک کہہ رہا تھا ۔یہ محض اسکول کے نیچے کو ئی تہہ خانہ یا خفیہ جگہ نہیں تھی ۔ پورا ایک شہر تھا،پوری ایک دنیا تھی ۔
اسکول کے جس راستے سے ہم آئے تھے ،وہ محض ایک راستا تھا ۔ دور دور تک ایسے کئی راستے دکھائی دے رہے تھے ۔جہاں جہاں نظر جا رہی تھی غار پھیلا ہو اتھا ۔
اب احساس ہو اکہ ہم بہت بے وقوف تھے ۔ یہ محض کچھ لوگوں کے چھوٹا سا ’’ گڈ گیدرنگ ‘‘ کلب کا معاملہ نہیں تھا ۔ یہ معاملہ ہماری سوچوں سے بھی بہت بڑا تھا ۔انہوں نے تو شہر کے نیچے ایک پورا شہر بنا لیا تھا ۔ا س مخلوق کے پا س جتنی طاقت تھی ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے تھے ۔
کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ شہر کے نیچے ایک پورے کا پورا زیر زمین شہر موجود ہے ۔
اب ہم ملگجی ،اور پیلی روشنی میں کچھ دیکھنے کے قابل ہو ئے تو ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ دور دور تک پھیلے ہوئے غار کے وسط میں ایک بہت بڑا پیالے نما تالاب تھا ،جس میں پیلا سا گاڑھا گاڑھا سوپ نما پانی اُبل رہا تھا۔اس میں بلبلے بن رہے تھے ۔
اس کے اطراف میں اوپر تک ،کئی منزلوں تک کمرے نہیں تھے ۔وہ دراصل عمارتیں تھیں جو اندر ہی اندر تعمیر کرلی گئی تھیں ۔چٹانوں کو تراش تراش کر نیچے پوری پوری عمارتیں بنا لی گئی تھیں ۔
ہمارے سانس سینوں میں اٹکنے لگے ۔خوف سے آنکھیں پھیلتی ہی چلی جا رہی تھیں۔
پھر ہماری سانس جیسے رکنے لگی ۔
ہمیں وہاں کئی حربوش دکھائی دیے ۔
وہی خلا سے آنے والی خوف ناک مخلوق ’’ حربوش ‘‘جن کے ہاتھ سے ، ہم بڑی مشکل سے بچ کر بھاگے تھے ۔
وہ یہاں اتنی تعداد میں تھے کہ ہم بے ہوش ہوتے ہوتے بچے ۔
ہماری آنکھوں کے سامنے درجنوں ’’حربوش‘‘ منڈلاتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔
ان کے پیچھے ہمیں دوسری خوف ناک اور بھیانک مخلوق ’’ بکسون ‘‘ دکھائی دی ۔
ہمارے اوسان خطا ہو گئے ۔
ہم سمجھ گئے کہ یہ غار شاید ہماری قبر بن جائے گا ۔
یہاں موجود ’’ دَیّوش تالاب” تباہ کرناتو دور کی بات ہے ۔ یہاں سے بچ کرنکلنا بھی ناممکن معلوم ہو رہا تھا ۔
( جاری ہے )
۔۔۔۔۔۔۔۔
سنسنی خیز ناول “دجال “تمام اقساط کے لنک
۔۔۔۔۔
تمام اقساط کے لنک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی قسط کا لنک :
[https://www.facebook.com/share/p/1BQGJbCjhY/]
۔۔۔۔
دوسری قسط کا لنک
https://www.facebook.com/share/p/14JyP1r46Kn/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری قسط کا لنک
https://www.facebook.com/share/p/17JfVij8aw/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوتھی قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1C83rTfMwi/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچ ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/19nSe4itLo/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/16jhNhC1GV/
۔۔۔۔۔
سات ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/19rof7Rpts/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1AcN3gfnwq/
۔۔۔۔۔۔۔
نو ویں قسط :
https://www.facebook.com/share/p/178w5HVzts/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1D6wXhVRJR/
۔۔۔۔۔۔
گیارہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/17TiQR1iD8/
۔۔۔۔۔۔۔۔
بارہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1AH6sqsvDG/
۔
تیرہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1CwsQaHfvC/
۔۔۔۔۔۔
چودھویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1BUdXaeUh2/
۔۔۔۔۔۔
پندرھویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1C6MwvFhkr/
۔۔۔۔۔۔۔۔
سولہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1EZncQ4TtA/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سترہ ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1aNTNeLmF1/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھارویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/17oQFB9BgV/?mibextid=Nif5oz
۔
انیس ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1K6coRBZd7/
۔۔۔۔۔۔۔
بیس ویں قسط :
https://www.facebook.com/share/p/1C1FtBqy39/
۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیس ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1G2mbbRRxR/
۔۔۔۔۔۔۔
22 ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1R1Gdgg9us/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23 ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1CbhyDZg7s/
۔اس ناول کی قسطیں ، ان دو گروپس میں لگائی جاتی ہیں ۔:
۔۔۔۔۔۔۔
24 ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/17fuYBtaN6/
,.,…….
25ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1B5vGL7LXE/
……..
گروپ بچوں کی کہانیاں
https://www.facebook.com/groups/bachchonkikahaniyan/?ref=share&mibextid=NSMWBT
۔۔۔۔۔۔
گروپ لنک :
ابن آس فین کلب
https://www.facebook.com/groups/ibneaaasfanclub/?ref=share&mibextid=NSMWBT
……………..
#DajjalSeries
#IbnAasMuhammad
#UrduNovel
#UrduFiction
#SciFiAdventure
#ScienceFictionStory
#UrduSciFi
#TelepathyStory
#AlienAdventure
#SpaceMystery
#ThrillerStory
#MysteryAdventure
#SuspenseThriller
#DajjalNovel
#PakistaniWriter
#UrduLiterature
#FantasyInUrdu
#UrduStoryTime
#FictionLovers
#AdventureSeries
#ScienceFictionFans
#AlienEncounter
#ParanormalAdventure
#ImaginationUnbound
#MustReadUrduNovel
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#دجال
#اردو_ناول
#سنسنی_خیز
#پراسرار_ناول
#سائنسی_ایڈونچر
#خلائی_مخلوق
#ٹیلی_پیتھی
#خوف_اور_تجسس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#اردو_سائنس_فکشن
#ایڈونچر_اسٹوری
#جاری_ہے
#مطالعہ
#کتاب_دوستی
#اردو_ریڈرز
#پاکستانی_ادب
#ابن_آس_محمد
#اردوناول
#اردو_ادب
#اردو_فکشن
#سنسنی_خیز
#پراسرار_ناول
#سائنسی_ایڈونچر
#خوف_اور_تجسس
#نوجوانوں_کا_ادب
#بچوں_کا_ادب
#قسط
#مطالعہ
#کتابدوستوستی
#پاکستانتانی_ادب
#dajjalseriesjal
#dajjalserieslseries
#episodeod
#urduscifinovel
#urduliteraturerature
#urdupoetryiction
#southasianloveiterature
#islamicfinancingction
#MysteryStory
#thrillerrstory
#SciFiStorytelling
#paranormalalfiction
#AdventureStory
#youngadultministry
#seriallizednovel
#readingcommunitymmunity
#bookloverovers
#storytellinging
#urdunovelsvel
#urdufictionction
#fantasyinurdu
#DajjalSeries
#IbnAasMuhammad
#urdunovels
#UrduFiction
#SciFiAdventure
#sciencefacts
#urduscifi
#telepathystory
#alienadventure
#SpaceMystery
#ThrillerStory
#MysteryAdventure
#suspense
#dajjalnovel
#pakistaniwriters
#urduliterature
#fantasyinurdu
#urdustorytime
#FictionLovers
#adventureseries
#sciencefictionfantasy
#AlienEncounter
#ParanormalAdventure
#ImaginationUnbound
#mustreadurdunovel See lessدجال ۔۔قسط نمبر26۔۔ابن آس محمد
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
سنسنی خیز ، حیرت انگیز ، دل چسپ پراسرار ناول
سطر سطر پُر خطر۔لفظ لفظ خوب تر
بچوں کے ادب میں پہلا مکمل خلائی ،سائنسی ،ایڈونچرناول
ٹیلی پیتھی کے پس منظر میں
پراسرار،عجیب وغریب ،ناقابل یقین سائنسی ایڈونچر
۔۔ ۔۔ ۔۔
کہانی کچھ یوں ہے/گذشتہ اقساط کا خلاصہ
۔۔ ۔۔ ۔۔
میرا نام جیم ہے ۔میں اپنا پورا نام نہیں بتا سکتا ،کیوں اس میں میری جان جانے کا خطرہ ہے ۔
ایک شام میں اپنے دوستوں مراد اور پپو کے ساتھ شاپنگ سینٹر سے نکلا تو شاپنگ سینٹر سے باہرمجھے اپنی کزن رانی عرف نیلی اور ہماری مشترکہ دوست کاشی بھی مل گئی ۔وہ بھی گھر کی طرف ہی جا رہی تھیں ۔ہم ساتھ چلنے لگے ۔ غلطی سے ہم نے جنگل سے ہو کر جاتے والا راستہ اختیار کرلیا۔راستے میں ایک زیر تعمیر سائٹ تھی ۔ وہاں ہم نے ایک خلائی جہاز اُتر تے دیکھا ۔ خلائی جہاز سے فندالیہ نامی ایک زخمی خلائی مخلوق باہر آئی ۔ وہ ہم سے ہمارے اندر ٹیلی پیتھی کے ذریعے بات کرنے لگی ۔ اس نے ہمیں کچھ ایسی باتیں بتائیں کہ ہماری سٹی گم ہو گئی ۔ ا س نے بتایا کہ ایک بھیانک خلائی مخلوق ہمارے سیارے پر آنے والی ہے ۔ وہ اپنا وجود نہیں رکھتی ،بلکہ دماغ میں گھس کر کسی کو بھی اپنا ’’ قابوض ‘‘ یا غلام بنا لیتی ہے ۔ خلائی مخلوق ’’ فندالیہ ‘‘ نے ہمیں خطرے سے آگاہ کیا ،اور کچھ طاقتیں اور صلاحتیں ہمارے اندر منتقل کردیں ۔ اسی وقت اس کا پیچھا کرتے ہوئے مزید خلائی جہاز آگئے ۔ا س میں سے’’ حربوش ‘‘ نام کی ایک بھیانک مخلوق باہر آئی اور اس کے فورا بعد ایک کھن کھجورے جیسی بھیانک مخلوق باہر نکلی ۔انہوں نے ہماری دوست خلائی مخلوق ’’ شلمورفندالیہ ‘‘ کو مار دیا ۔ ہم چھپ کر یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے ۔ ایسے میں خلائی مخلوق کو وہاں ہماری موجودی کا احساس ہو گیا ۔وہ ہمیں پکڑنے کے لیے ہماری طرف بھاگے ۔میرے پیچھے دو خطرناک ’’ حربوش ‘‘ دوڑے چلے آرہے تھے ۔میںایسے میں زمین پر گر گیا۔مجھے ایسا محسوس ہوا کہ موت میری طرف بڑھ رہی ہے ۔ پھر میں بھاگا اور ایک ٹوٹی ہوئی عمارت میں داخل ہو گیا۔مگر افسوس ،میرے پیچھے حربوش بھی اندر داخل ہو گئی ۔اب میری موت شاید یقینی تھی ۔مگر میں کسی نہ کسی طور کود کو بچا کر بھاگنے میں کام یاب ہو گیا ،گھر جا کر سو گیا۔مجھے نہیں معلوم تھا کہ باقی دوستوں کے ساتھ کیا ہوا۔اگلے روز پپو مجھ سے ملنے آیا۔وہ بہت پر جوش تھا ۔اس نے عجیب بات بتائی کہ وہ اپنی جون بدل کر بلی بننے میں کام یاب ہو گیا ہے ۔یہ ناقابل یقین اور انوکھی بات تھی ،میں بے یقینی سے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔وہ مجھ سے کہنے لگا کہ تم بھی اپنی صلاحیت استعمال کرو ۔ تمہارے بغیر ہم خلائی مخلوق ’’ دَیّوش ‘‘ کا مقابلہ نہیں کر سکتے ۔میں اس پر تیار نہیں تھا ۔وہ ایک بار بلی کیا بن گیا ۔شیر جیسی باتیں کرنے لگا۔میں نے اس کے ایما پر اپنا کتا ٹائیگر بننے کی کوشش کی ،اس نے جو طریقہ بتایا ،اس پر عمل کرتے ہوئے اپنے کتے ٹائیگر کا ڈی این اے پیٹرن اپنے ڈی این اے میں ملایا ،اور پھر ارتکاز و دھیان لگا کر خود کو کتے کی جون بدلنے میں کام یاب ہو گیا۔اسی وقت میرا بھائی طارق وہاں آگیا۔وہ مجھے کتے کے روپ میں پہچان ہی نہیں سکا۔اس کے جانے کے بعد میں نے سب کو فون کیا اور کاشی کے فارم ہاؤس میں ملنے کا قصد کیا ۔جب میں مقررہ وقت پر پہنچا تو نیلی ،مراد اور پپو وہاں موجود تھے ،باتوں کے دوران ایک گھوڑی وہاں آگئی ،میں پہچان نہیں سکا۔وہ کاشی تھی جو خود کو اپنی پسندیدہ گھوڑی کے روپ میں ڈھال چکی تھی ،اس نے ہم سے ٹیلی پیتھی کے ذریعے ہمارے اندر گفتگو کی اور پھر وہ اپنی جون بدل کر کاشی بننے لگی ،ابھی اس کا اوپری دھڑ کاشی کا اور نچلا دھڑ گھوڑی کا ہی تھا کہ پولیس کی گاڑی فارم ہاؤس میں داخل ہو تی دکھائی دی ۔ہمارے دل دھڑکنے لگے ۔ہم پکڑے جانے والے تھے ۔مگر ہم بچ گئے ۔دوسرے روز مرادمیرے گھر آیا،تب ہی کھڑکی کے ذریعے پپو ایک عقاب کی جون میں اندر آگیا۔اس نے پورے عزم سے کہا کہ وہ دیوش کے خلاف لڑے گا ۔ہماری دنیا کو اس مخلوق سے بچانے کی پوری کوشش کرے گا ۔ہم سب ساحل پر ” گڈ گیدرنگ ” کے اجلاس میں پہنچے ۔وہاں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ہمیں یوں لگا کہ سب کچھ ٹھیک ہے ۔مگر کچھ نہ کچھ غلط تھا۔گڈ گیدرنگ کے پکے اراکین کا اجلاس ذرا فاصلے پر تھا۔ہم نے اپنی جون بدل کر وہاں جانے اور سن گن لینے کا فیصلہ کیا۔پپو عقاب کے روپ میں بہت کچھ معلوم کر چکا تھا۔میں نے اپنے کتے ٹونی کی جون میں کتے کے روپ میں تبدیل ہونے کا فیصلہ کیا۔ جون تبدیل کرنے کے عمل کے بعد ہم نے اس خلائی مخلوق سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ۔مختلف حالات سے گزر کر ہم اب اس تالاب میں جانے والے تھے جہاں انسانوں کی کھوپڑی میں دیوش منتقل کرکے انہیں غلام یا قابوض بنایا جاتا تھا۔یہ تالاب ،یقینیا ہمارے اسکول کی عمارت کے نیچے بنایا گیا تھا ۔
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
یہ تھا گذشتہ قسطوں کا خلاصہ ۔۔۔
اب آپ آگے ملاحظہ فرمائیں ۔
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
قسط نمبر 26
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔
اگلے کوریڈور میں روشنی تھی ۔
روشنی میں بہت سے لوگ قطار میں کھڑے تھے ۔ ایک ایک کرکے دھیرے دھیر ے اس چھوٹے سے کمرے میں جا رہے تھے ،جس میں نیچے جانے کا راستہ تھا ۔
میں واپس کمرے میں گیا ۔ تینوں دوست سائنس لیب میں میرے منتظر تھے ۔
میں نے اندر آتے ہی سرگوشی میں کہا :
” کچھ لوگ موجود ہیں اس کوریڈور میں ،جہاں نیچے جانے کا راستا ہے ۔۔”
نیلی نے جھٹ کہا :
” یہ’’ قابوض‘‘ ہی ہیں ۔۔ میرا خیال ہے کہ یہ دِیّوش ‘‘ کا خوراک لینے کا وقت ہے ۔۔”
ہم ذہنی دباؤ میں تھے ،پھر بھی ہمارے ہونٹوں پہ مسکراہٹ رینگ گئی ۔
مراد نے پوچھا :
” اب ہم کیا کریں ۔۔ اندر کیسے جائیں گے ۔۔؟ تم بتا رہے ہو وہاں تو لوگ موجود ہیں ۔۔ ان کی موجودی میں نیچے کیسے جاسکیں گے ۔۔؟”
ہم سب سوچ میں ڈوب گئے ۔
نیلی نے کچھ دیر بعد سر اٹھا کر پوچھا:
” تمہارا کیا خیال ہے ۔۔ جتنے بھی ’’قابوض ‘‘ہیں ،کیا یہ سب ایک دوسرے کو شکلوں سے پہچانتے ہیں ۔۔؟”
” مطلب ۔۔ ؟”
” مطلب یہ ۔۔ کیا ضروری ہے کہ سارے ’’قابوض‘‘ ایک دوسرے کے واقف کار ہوں ۔۔ ایک دوسرے کو چہروں سے پہچانتے ہوں ۔۔ ممکن ہے وہ ایک دوسرے کو نہ جانتے ہوں ۔۔”
مراد نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا :
” ایسا ممکن ہے ۔۔ سب ایک دوسرے کو کہاں جانتے ہوں گے ۔۔ تو پھر ۔۔؟”
” تو پھر یہ کہ ہم دیدہ دلیری سے ان کے سامنے اندر چلتے ہیں ۔۔ وہ ہمیں بھی ’’قابوض ‘‘ سمجھیں گے ۔۔ انہیں کیا معلوم کہ ہم ’’ دَیّوش ‘‘ کے قابوض ہیں یا نہیں ۔۔”
نیلی نے بہت زبردست بات کی تھی ۔وہ ٹھیک کہہ رہی تھی ۔
اس علاقے میں ’’ دَیّوش‘‘ کے ’’قابوضوں ‘‘کے تعداد بہت زیادہ ہوگئی تھی ۔
یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی تھی ۔ ہر روز کچھ نئے لوگ ’’ قابوض ‘‘ بن رہے تھے ۔
ایسے میں ضروری تو نہیں تھا کہ سب ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔’’گڈ گیدرنگ کلب ‘‘ کے بے شمار ممبر تھے ۔ سب ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے ۔ جاننے کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔
میں نے تائیدی انداز میں کہا :
” نیلی ٹھیک کہہ رہی ہے ۔”
مراد پرجوش لہجے میں بولا:
” تو ٹھیک ہے پھر ۔۔ ہم بے فکری سے یہاں سے نکلتے ہیں ۔۔ اس لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔۔ اگر کوئی جان پہچان والامل بھی گیا ۔۔۔ ا س نے دیکھ بھی لیا تو وہ یہی سمجھے گا کہ ہم بھی ’’ قابوض ‘‘ ہیں ۔۔۔ یا ’’قابوض‘‘ بننے آئے ہیں ۔۔”
پھراس نے نیلی کی طرف دیکھتے ہو ئے کہا :
’’ ویری گڈ نیلی ۔۔ تم نے تو اندر جانے کا مسئلہ ہی حل کردیا ۔۔ میں تو یہی سوچ سوچ کر پریشان ہو رہا تھا کہ ہم اندر کیسے جائیں گے ۔۔ اب تو ہم آسانی سے اور سینہ چوڑا کر کے ،سب کے سامنے اندر جا سکتے ہیں ۔۔ بہترین آئیڈیا ۔۔ چلو۔۔ ماردو یا مرجا ؤ ۔۔ وقت آگیا ہے ۔۔”
میں نے اثبات میں سرہلادیا ۔ مراد کی طرح میں نے بھی نیلی کو شاباش دی ۔ وہ شاید خوش ہوئی تھی ،مگر اندھیرے کی وجہ سے ہمیں معلوم نہیں ہو سکا۔
مراد نے اچانک چونک کر کہا :
“لیکن تمہارا بھائی ۔۔ طارق بھی تووہاں ہو گا ۔۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ تم ’’ قابوض ‘‘ ہو یا نہیں ۔۔”
میں نے لیب کا دروازہ کھول کر باہر جھانکتے ہوئے کہا :
” طارق بہت پہلے گھر سے نکل گیا تھا ۔۔ اس کے بعد میں گھر سے نکلا تھا ۔۔ میرا خیال ہے وہ بہت پہلے نیچے جا چکاہو گا ۔۔ باہر لائن میں نہیں کھڑا ہو گا ۔۔”
پھرباہر جھانک کر میں نے پلٹ کر کہا :
“کوریڈور خالی ہو چکا ہے ۔۔ شاید اب تک آنے والے سب لوگ اندر چلے گئے ہیں ۔۔ چلیں ہم بھی ۔۔؟”
مجھے باہر عجیب سا سناٹا محسوس ہو رہا تھا ۔ سب کے نیچے جانے کے بعد کوریڈور میں خاموشی ہو گئی تھی ۔ کوئی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔
میں نے کوریڈور میں قدم رکھے ہی تھے کہ چونک گیا۔
” کیاہوا ۔۔ رُک کیوں گئے ۔۔؟”
” شاید کوئی اس طرف آرہا ہے ۔۔”
میں جھٹ پیچھے ہو گیا ۔الماری کے عقب سے جھانک کر دیکھنے لگا ۔
اس طرف روشنی تھی ۔ میری آنکھوں میں براہ راست روشنی آرہی تھی ۔ایسے میں آنے والوں کے چہرے شناخت کرنا آسان نہیں تھا ۔
مجھے دو لوگ دکھائی دیے ۔ ان میں سے ایک نے پولیس کی یونی فارم پہنی ہوئی تھی ۔۔ اور ۔۔ اور ۔۔
میری ہمت نہیں ہوئی مزید دیکھنے کی ۔میں نے پپو کو مخاطب کیا :
” پپو ۔۔ بات سنو ۔۔؟”
پپو کی آواز مجھے اپنے اندر سنائی دی ۔
” ہاں ۔۔ کہو ۔۔ کیا بات ہے ۔۔؟”
” مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔۔ تمہاری تیز بینائی کی ضرورت پڑ گئی ہے ۔۔ شاید ۔۔ شاید ۔۔!”
میں اس سے زیادہ کچھ کہہ نہیں سکا۔ہمت ہی نہیں تھی۔
پپو جو کہ عقاب کے روپ میں تھا۔اس نے اپنے پر پھیلائے ۔ ایک جست لگا کر میرے کاندھے پر بیٹھ گیا ۔
میں نے پپو کو آگے کر دیا تھا ۔ جو کچھ میں نے دیکھا تھا ،اس کو دیکھنے کا حوصلہ نہیں تھا ۔
میں نے دیکھا کہ وہ وہی پولیس انسپکٹر ہے ۔ کسی کو بڑی بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے لا رہا ہے ۔
یہ منظر دیکھ کرمیں شاید غشی کے مارے گرنے والاتھا ۔
یوں محسوس ہوا جیسے میرے پیروں تلے فرش کھسکنے والاہے ۔
وہ جس کو گھسیٹ کر لارہا تھا ۔وہ ایک لڑکی تھی ۔
وہ لڑکی کوئی او ر نہیں تھی ۔
میری دوست کاشی تھی ۔ ہماری دوست کاشی ۔۔۔
نیلی نے پریشانی سے پوچھا :
” کیا ہو گیا۔۔ پریشان کیوں ہو گئے اچانک۔۔ ؟”
میں نے سرگوشی میں کہا ۔
” انہوں نے اس کو پکڑ لیا ہے ۔۔؟”
’’ کس نے پکڑ لیا ہے ۔۔؟”
میں نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا ۔
” قابوض نے ۔۔۔”
نیلی نے جھنجھلا کر کہا :
” یوں پہلیاں کیوں بجھو ارہے ہو ۔۔ ٹھیک سے بتا ؤ کس کو پکڑ لیا ہے ۔۔؟”
میں نے اپنی منتشر سانسوں کے ساتھ کہا :
” کاشی کو ۔۔ انہوں نے کاشی کو پکڑ لیا ہے ۔۔”
ہم سب سناٹے میں آگئے ۔
۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔ ۔۔۔
نیلی میری بات سن کر لڑ کھڑا کر رہ گئی ۔ ہکلا کر بولی :
“کک ۔۔ کک ،کیا مطلب ۔۔ ؟ کس نے پکڑ لیا کاشی کو ۔۔؟”
میں نے مختصر جواب دیا :
’’ قابوض‘‘ پولیس انسپکٹر نے ۔۔ کاشی کو پکڑ لیا ہے ۔۔”
“اوہ ۔۔ اب ۔۔ ؟ اب کیا کریں ہم ۔۔ ؟”
کہانی ایک دَم پلٹ گئی تھی ۔
ہم یہاں ،دَیّوش تالاب تباہ کرنے آئے تھے۔
انہوں نے ،ہماری ایک ساتھی کو پکڑ کرہمارا پورا منصوبہ ہی چٹکیوں میں اُڑا دیا تھا ۔
کاشی سر شام سے ہی گھر سے غائب تھی ۔
کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ کہاں گئی ہے ۔
اس کی مما پریشان تھیں ۔ہم بھی فکرمند تھے ۔
اب ہمیں معلوم ہو گیا تھا کہ وہ ان کے قبضے میں آگئی ہے ۔ اس کو پولیس انسپکٹر گھسیٹتے ہوئے یہاں لایا تھا۔ شاید نیچے لے جا رہا تھا ۔
یہ وہی پولیس انسپکٹر تھا جو اُس شام کاشی کے فارم ہاؤس پہ ہم سے پوچھ گچھ کرنے آیا تھا ۔ پھرہم نے اسے ’’گڈ گیدرنگ ‘‘ کی پکنک میں دیکھا تھا ۔ وہاں معلوم ہوا تھا کہ وہ بھی ’’ دَیّوش ‘‘ کا قابض ہے ۔ وہ ’’ قابوض ‘‘ کی خفیہ میٹنگ کی نگرانی کر رہا تھا ۔ا س نے کاشی کو اس خفیہ میٹنگ کی جگہ کے پاس منڈلاتے ہوئے دیکھا تھا ۔
اب وہ اس کو پکڑ کر یہاں لے آیا تھا ۔
ساری کہانی ہی پلٹ گئی تھی ۔
سارا منصوبہ چوپٹ ہو گیا تھا ۔
میں نے سرگوشی میں ساری بات ان کو بتادی ۔ سب سناٹے میں آگئے ۔ نیلی بڑ بڑا کر رہ گئی ۔کچھ بولنا چاہتی تھی بول نہیں پائی۔
ابھی ہم نے ان کے خلاف کچھ کارروائی شروع بھی نہیں کی تھی کہ سب برباد ہو گیا ۔ساری پلاننگ دَھری کی دَھری رہ گئی ۔
ہم کچھ دیر تک سناٹے کی کیفیت میں کھڑے رہے ۔ سب کے چہرے دھواں دھواں ہو رہے تھے ۔
میں نے ایک عزم کے ساتھ کہا :
’’ کوئی بات نہیں ۔۔ جو ہو نا تھا ہو گیا ۔۔ ہم اپنا منصوبہ ہر حال میں پوراکریں گے ۔۔ اب تو ہم کسی صورت بھی واپس نہیں جا سکتے ۔۔ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ۔۔ ہم اندر جائیں گے ۔۔ جیسا کہ نیلی نے کہا ۔۔ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ یہاں اندر بہت سارے لوگ جا چکے ہیں ۔۔ ضروی نہیں کہ سارے ’’ قابوض ‘‘ ایک دوسرے کو جانتے ہوں ۔۔ میرا مطلب ہے ۔۔ یہ لوگ ،ہر مرتبہ کچھ نئے لوگوں کو شامل کرتے ہیں ۔۔ ان کے دماغ میں ’’ دَیّوش ‘‘ پہنچاتے ہیں ۔۔ کیوں ۔۔ہم ممکنہ طور پر ان سب کے لیے نئے لوگ ہوں گے جو ’’ قابوض ‘‘ بننے آئے ہیں ۔۔ کوئی بھی ہماری موجودی پر چونکے گا نہیں ۔۔ یہی سمجھے گا کہ ہم ’’ دَیّوش ‘‘ کے نئے شکار ہیں ۔”
مراد نے کراہتے ہوئے لہجے میں کہا :
” یہ خو د کو شدید خطرے میں ڈالنے والی بات ہے ویسے ۔۔”
میں نے اطمینان سے کہا :
” ٹھیک ہے ۔۔ تمہارے پاس اس سے بہتر کوئی ترکیب ہے ۔۔؟”
اس نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا :
” نہیں ۔۔ میرے پاس کوئی ترکیب ہی نہیں ہے ۔۔ بہتر یا بدتر کی تو بات ہی چھوڑ دو۔۔ بس میری سمجھ میں بھی یہی آرہا ہے کہ ہمیں آگے ہی بڑھنا چاہیے ۔۔ واپسی کا کوئی راستا نہیں ہے ہمارے سامنے ۔۔ اب تو کاشی کے پکڑے جانے کے بعد واپس جانے کا سوال ہی پید انہیں ہوتا ۔۔”
میں نے سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا :
” ٹھیک ہے پھر ۔۔ ہم سب کو بہترین کارکردگی دکھانا ہے ۔۔ کوئی بھی کسی قسم کی حماقت نہیں کرے گا ۔۔”
میں نے پپو کی طرف دیکھتے ہوئے ،ٹیلی پیتھی کے ذریعے اس کے اندر کہا :
” پپو ۔۔ تمہیں اپنی جون میں واپس آنے میں بہت دیر ہو گئی ہے ۔۔ کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے ۔۔ تم اپنی جون بدل کر پپو بن جاؤ اور پھر سے عقاب بن جانا ۔۔ سستی مت دکھانا۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ ہم جا رہے ہیں ۔۔ تم سے بعد میں ملتے ہیں ۔۔”
نیلی ،مراد اور میں جی کڑا کرکے ،الماری کے پیچھے اور کمرے سے نکل آئے ۔تاریک راہ داری میں داخل ہو گئے۔روشن راہداری کی طرف بڑھنے لگے ۔
میں نے محسوس کیا کہ میری ٹانگیں ،اَکڑی ہوئی تھیں ۔ میرے گھٹنے اچانک ہی درد کرنے لگے تھے ۔ ہم یوں چل رہے تھے جیسے زندگی کا کوئی بھیانک فیصلہ کرنے جا رہے ہیں ۔ ہمارے چہرے پر ایسے تاثرات تھے ،جیسے ہم واقعی یہاں ’’ قابوض ‘‘ بننے آئے ہیں ۔
روبوٹ کی طرح قدم اٹھاتے ہوئے ہم اس چھوٹے کمرے میں داخل ہو گئے ۔ سامنے والے چبوترے پر وہ واش بیسن تھا جس کا نلکا سلطان سر نے جھٹکے سے نیچے کیا تھا تو وہاں راستا نمودار ہو گیا تھا۔
میں نے دماغ پر زور دے کر ،دروازہ کھولنے کا طریقہ یاد کرنے کی کوشش کی ،سلطان سر کی طرح ،نلکے کو جھٹکے سے پہلے اُلٹی طرف کھینچا،پھر اسے گھمایاتو ہلکی سی سرسراہٹ کے ساتھ دروازہ نمودار ہو گیا ۔
پہلے میں جب یہاں چھپکلی بن کر،یعنی چھپکلی کی جون میں،چھپکلی کے روپ میں موجود تھا تو مجھے نیچے کی جانب سے شور سنائی دیا تھا ۔ ہلکی ہلکی چیخیں سنائی دی تھیں ۔ یہ شوراس وقت کے مقابلے میں اب کہیں زیادہ تھا۔ ممکن ہے اس بار مجھے اپنے انسانی کانوں کی وجہ سے یہ شور زیادہ محسوس ہو رہا تھا۔اس وقت میں چھپکلی بنا ہوا تھا ،اس کے چھوٹے کانوں کو شور اتنا زیادہ محسوس نہیں ہو اہوگا۔
ایک گہری اور تیز آواز سنائی دے رہی تھی ،جیسے سمندر کا پانی کہیں گہری کھائی میں گررہا ہو۔ یہ آواز اتنی بری محسوس نہیں ہو رہی تھی ۔اس کا تاثربھی ناگوار ہر گز نہیں تھا۔
اس کے سوا دوسری آوازیں بہت مکروہ اور تکلیف دہ تھیں ۔ بے حدبھیانک تھیں ۔
یہ انسانوں کی ملی جلی آوازیں تھیں ۔ ان آوازوں کے تاثر میں مایوسی تھی ،خوف کے مارے نکلی ہو ئی ٹھٹھری ہوئی آوازیں تھیں ، دیوانے پن میں ہنسنے کی مسلسل آوازیں تھیں ۔ جیسے نیچے جاکر لوگ پاگل ہوگئے ہیں۔ مسلسل ہذیانی انداز میں ہنس رہے ہیں ۔
مراد نے کپکپاتی ہوئی سرگوشی میں کہا :
” جیم ۔۔ کیا تمہیں پوار یقین ہے کہ نیچے صرف ’’دَیّوش ‘‘تالاب ہی ہے ۔۔ یا ا س کے علاوہ بھی کچھ ہے ۔۔ مجھے ایسا لگ رہا ہے کہ نیچے موجود لوگ کسی انسان کو بھون کر کھا رہے ہیں ۔۔ کھاتے ہوئے پاگل ہو رہے ہیں۔۔”
میں نے ا س کی اس فضول بات کا جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ اللہ کا نام لیا ،اور دروازے میں داخل ہو کر نیچے جاتی ہوئی سیڑھی پر قدم رکھ دیا۔
سیڑھیاں ،بہت نیچے تک جاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں ۔اندھیرے میں گم سی ہو رہی تھیں ۔ ان کے ساتھ کوئی ریلنگ بھی نہیں تھی جس کو پکڑ کر آسانی سے نیچے اُترا جاسکتا۔ ہر قدم کے ساتھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے جھٹکا کھا کر گرجائیں گے اور لڑھکتے ہو ئے نیچے چلے جائیں گے ۔ بہت دھیرے دھیرے اور پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑ رہا تھا ۔
میرے پیچھے پیچھے مراد اور نیلی بھی سیڑھیوں پر آگئے۔
ہمارے پیچھے دروازہ خود بخود بند ہو گیا تھا۔
میرا خیال تھا کہ سیڑھیاں زیادہ نیچے تک نہیں جا رہی ہوں گی ۔ زیادہ سے زیادہ دس بارہ قدمچے ہوں گے ،لیکن ہم اُترتے ہی چلے جا رہے تھے۔
سیڑھیاں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔
روشنی کم تھی جس کی وجہ سے نیچے تک بہت کچھ دکھائی بھی نہیں دے رہا تھا ۔ایسالگ رہا تھا کہ ہم کسی کنویں میں موجود سیڑھیوں پر بس اُترتے ہی چلے جا رہے ہیں ۔پھر اچانک ہی سیڑھیاں چٹانی ہو تی چلی گئیں ،جیسے چٹانی پتھروں کو تراش کر نیچے جانے کا راستا بنا یا گیا ہو ۔یہ بھی نیچے ہی نیچے لیے چلی جا رہی تھیں ،ساتھ ساتھ گھومتی بھی جا رہی تھیں ۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ سیڑھیوں کا سلسلہ شاید کبھی ختم نہیں ہو گا،ہم نیچے ہی نیچے جاتے ہوئے پاتال میں پہنچ جائیں گے۔
مراد نے سرگوشی میں کہا :
” خلائی مخلوق نے ہمیں حیران کر دیا ہے ۔۔ تم یہی سمجھ رہے تھے نا کہ یہاں ہمیں نیچے لے جانے کے لیے کسی لفٹ کا انتظام کیا گیا ہو گا ۔۔”
ہم سب ا س کی بات پر دھیرے سے ہنس پڑے ۔اپنے خوف اور ڈر کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگے ۔
اچانک ہی پتھریلی سیڑھیاں ،ختم ہو گئیں۔
ہم ایک بہت بڑے غار میں داخل ہو گئے ۔جہاں لوگ ہی لوگ تھے ۔ایک جم غفیر تھا جو دور دور تک دکھائی دے رہا تھا ۔
بہت بڑے کا مطلب ۔۔ بہت بڑا ہی تھا ۔
اتنا بڑا غار کہ شاید کوئی اس کی توقع ہی نہ کر سکے ۔
یہ اتنا بڑا غار تھا کہ ہم اس میں کرکٹ کھیل سکتے تھے۔
اطراف کی دیواروں میں جا بجا اس طرح کمرے بنے ہوئے تھے کہ حیرانی ہو رہی تھی ۔یہ کمرے چٹانوں کو تراش کر بنائے گئے تھے ۔ اوپر تلے اتنے کمرے تھے کہ جیسے کوئی بلند عمارتیں موجود ہوں اطراف میں ۔۔
پورا غار ،ایک بہت بڑے پیالے کی طرح تھا۔ گولائی میں گھوما ہو اتھا ۔
درمیان میں دور ایک بہت بڑا زرد سا تالاب دکھائی دے رہا تھا۔
ہر طرف مضبوط چٹانیں تھیں ۔جنہیں جانے کس چیز سے تراشا گیا تھا ۔اس پیالے نماغار کے عین اوپر ۔۔ بہت اوپر ایک خلا تھا ،جو بہت بلندی کی وجہ سے چھوٹا سا محسوس ہو رہا تھا ۔ یہاں سے ستارے آسانی سے دیکھے جا سکتے تھے ۔ یا آکسیجن کے لیے بنایا گیا ہوگا ۔
تمام کمروں کو ایک دوسرے سے ملانے کے لیے کئی سیڑھیاں نظر آرہی تھیں ،یعنی سیڑھیوں کے ذریعے نیچے سے اوپر کسی بھی کمرے میں جایا جا سکتا تھا ،آیا جا سکتا تھا ۔
یہ سیڑھیاں ،صرف وہیں نہیں ،جگہ جگہ دکھائی دے رہی تھیں ،یہاں سے وہاں ،وہاں سے کہاں ۔۔ کہیں بھی ان سیڑھیوں سے پہنچنا آسان تھا ،یوں سمجھ لیں کہ اس غار میں سیڑھیوں کا جال بنا ہوا تھا ۔اور ہر طرف سے سیڑھیاں نیچے فرش کی طرف جا رہی تھیں ۔
ہم نیچے اتر کر سیڑھیوں کے قریب چھپ سے گئے۔
یہ وہ جگہ تھی جہاں سے کئی سیڑھیاں اُتر کر ایک ساتھ جمع ہو رہی تھیں جس کی وجہ سے کچھ ایسی جگہ بن گئی تھی کہ دوسروں کی نظروں میں آئے بغیر یہاں چھپا جا سکتا تھا ۔
مراد نے سرسراتی ہوئی آواز میں کہا :
” یہ تو بہت بڑی جگہ ہے ۔۔ میں سمجھ رہا تھا کہ ان کا یہ ٹھکانا ،اسکول کے نیچے ہے ۔۔یہ صرف اسکول کے نیچے نہیں ہے۔۔یہ تو آدھے شہر کے نیچے ہے ۔۔اس کے اوپر آدھا شہر آجائے ۔۔ یہ جو سیڑھیاں اوپر جا رہی ہیں ۔۔ مجھے لگ رہاہے کہ یہ سب درجنوں خفیہ راستے ہیں جن کے ذریعے نیچے آیا جاتا ہے ۔۔ بالکل اسی طرح کے راستے جن میں سے ایک کے ذریعے ہم نیچے آئے ہیں ۔۔”
پھر اس نے خوف زدہ اندا زمیں چاروں طرف کا جائزہ لیتے ہوئے کہا :
” جیم ۔۔ انہوں نے اتنی بڑی جگہ کیسے بنالی زمین کے نیچے ۔۔ اس میں تو انہیں بہت وقت لگا ہو گا ۔۔ یہ معمولی کام نہیں ہے ۔۔ یہ تو ۔۔ یہ تو ۔۔ بہت بڑا منصوبہ ہے ۔۔ کسی بلڈر کو یہ جگہ بنانے کا ٹھیکا دیاجائے تو وہ اس کو بنانے میں برسوں لگادے گا ۔۔”
مراد ٹھیک کہہ رہا تھا ۔یہ محض اسکول کے نیچے کو ئی تہہ خانہ یا خفیہ جگہ نہیں تھی ۔ پورا ایک شہر تھا،پوری ایک دنیا تھی ۔
اسکول کے جس راستے سے ہم آئے تھے ،وہ محض ایک راستا تھا ۔ دور دور تک ایسے کئی راستے دکھائی دے رہے تھے ۔جہاں جہاں نظر جا رہی تھی غار پھیلا ہو اتھا ۔
اب احساس ہو اکہ ہم بہت بے وقوف تھے ۔ یہ محض کچھ لوگوں کے چھوٹا سا ’’ گڈ گیدرنگ ‘‘ کلب کا معاملہ نہیں تھا ۔ یہ معاملہ ہماری سوچوں سے بھی بہت بڑا تھا ۔انہوں نے تو شہر کے نیچے ایک پورا شہر بنا لیا تھا ۔ا س مخلوق کے پا س جتنی طاقت تھی ہم اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے تھے ۔
کسی کو معلوم ہی نہیں تھا کہ شہر کے نیچے ایک پورے کا پورا زیر زمین شہر موجود ہے ۔
اب ہم ملگجی ،اور پیلی روشنی میں کچھ دیکھنے کے قابل ہو ئے تو ہماری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ دور دور تک پھیلے ہوئے غار کے وسط میں ایک بہت بڑا پیالے نما تالاب تھا ،جس میں پیلا سا گاڑھا گاڑھا سوپ نما پانی اُبل رہا تھا۔اس میں بلبلے بن رہے تھے ۔
اس کے اطراف میں اوپر تک ،کئی منزلوں تک کمرے نہیں تھے ۔وہ دراصل عمارتیں تھیں جو اندر ہی اندر تعمیر کرلی گئی تھیں ۔چٹانوں کو تراش تراش کر نیچے پوری پوری عمارتیں بنا لی گئی تھیں ۔
ہمارے سانس سینوں میں اٹکنے لگے ۔خوف سے آنکھیں پھیلتی ہی چلی جا رہی تھیں۔
پھر ہماری سانس جیسے رکنے لگی ۔
ہمیں وہاں کئی حربوش دکھائی دیے ۔
وہی خلا سے آنے والی خوف ناک مخلوق ’’ حربوش ‘‘جن کے ہاتھ سے ، ہم بڑی مشکل سے بچ کر بھاگے تھے ۔
وہ یہاں اتنی تعداد میں تھے کہ ہم بے ہوش ہوتے ہوتے بچے ۔
ہماری آنکھوں کے سامنے درجنوں ’’حربوش‘‘ منڈلاتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔
ان کے پیچھے ہمیں دوسری خوف ناک اور بھیانک مخلوق ’’ بکسون ‘‘ دکھائی دی ۔
ہمارے اوسان خطا ہو گئے ۔
ہم سمجھ گئے کہ یہ غار شاید ہماری قبر بن جائے گا ۔
یہاں موجود ’’ دَیّوش تالاب” تباہ کرناتو دور کی بات ہے ۔ یہاں سے بچ کرنکلنا بھی ناممکن معلوم ہو رہا تھا ۔
( جاری ہے )
۔۔۔۔۔۔۔۔
سنسنی خیز ناول “دجال “تمام اقساط کے لنک
۔۔۔۔۔
تمام اقساط کے لنک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی قسط کا لنک :
[https://www.facebook.com/share/p/1BQGJbCjhY/]
۔۔۔۔
دوسری قسط کا لنک
https://www.facebook.com/share/p/14JyP1r46Kn/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیسری قسط کا لنک
https://www.facebook.com/share/p/17JfVij8aw/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چوتھی قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1C83rTfMwi/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچ ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/19nSe4itLo/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھٹی قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/16jhNhC1GV/
۔۔۔۔۔
سات ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/19rof7Rpts/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھ ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1AcN3gfnwq/
۔۔۔۔۔۔۔
نو ویں قسط :
https://www.facebook.com/share/p/178w5HVzts/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دس ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1D6wXhVRJR/
۔۔۔۔۔۔
گیارہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/17TiQR1iD8/
۔۔۔۔۔۔۔۔
بارہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1AH6sqsvDG/
۔
تیرہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1CwsQaHfvC/
۔۔۔۔۔۔
چودھویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1BUdXaeUh2/
۔۔۔۔۔۔
پندرھویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1C6MwvFhkr/
۔۔۔۔۔۔۔۔
سولہویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1EZncQ4TtA/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سترہ ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1aNTNeLmF1/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھارویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/17oQFB9BgV/?mibextid=Nif5oz
۔
انیس ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1K6coRBZd7/
۔۔۔۔۔۔۔
بیس ویں قسط :
https://www.facebook.com/share/p/1C1FtBqy39/
۔۔۔۔۔۔۔۔
اکیس ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1G2mbbRRxR/
۔۔۔۔۔۔۔
22 ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1R1Gdgg9us/
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23 ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1CbhyDZg7s/
۔اس ناول کی قسطیں ، ان دو گروپس میں لگائی جاتی ہیں ۔:
۔۔۔۔۔۔۔
24 ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/17fuYBtaN6/
,.,…….
25ویں قسط کا لنک :
https://www.facebook.com/share/p/1B5vGL7LXE/
……..
گروپ بچوں کی کہانیاں
https://www.facebook.com/groups/bachchonkikahaniyan/?ref=share&mibextid=NSMWBT
۔۔۔۔۔۔
گروپ لنک :
ابن آس فین کلب
https://www.facebook.com/groups/ibneaaasfanclub/?ref=share&mibextid=NSMWBT
……………..
#DajjalSeries
#IbnAasMuhammad
#UrduNovel
#UrduFiction
#SciFiAdventure
#ScienceFictionStory
#UrduSciFi
#TelepathyStory
#AlienAdventure
#SpaceMystery
#ThrillerStory
#MysteryAdventure
#SuspenseThriller
#DajjalNovel
#PakistaniWriter
#UrduLiterature
#FantasyInUrdu
#UrduStoryTime
#FictionLovers
#AdventureSeries
#ScienceFictionFans
#AlienEncounter
#ParanormalAdventure
#ImaginationUnbound
#MustReadUrduNovel
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#دجال
#اردو_ناول
#سنسنی_خیز
#پراسرار_ناول
#سائنسی_ایڈونچر
#خلائی_مخلوق
#ٹیلی_پیتھی
#خوف_اور_تجسس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#اردو_سائنس_فکشن
#ایڈونچر_اسٹوری
#جاری_ہے
#مطالعہ
#کتاب_دوستی
#اردو_ریڈرز
#پاکستانی_ادب
#ابن_آس_محمد
#اردوناول
#اردو_ادب
#اردو_فکشن
#سنسنی_خیز
#پراسرار_ناول
#سائنسی_ایڈونچر
#خوف_اور_تجسس
#نوجوانوں_کا_ادب
#بچوں_کا_ادب
#قسط
#مطالعہ
#کتابدوستوستی
#پاکستانتانی_ادب
#dajjalseriesjal
#dajjalserieslseries
#episodeod
#urduscifinovel
#urduliteraturerature
#urdupoetryiction
#southasianloveiterature
#islamicfinancingction
#MysteryStory
#thrillerrstory
#SciFiStorytelling
#paranormalalfiction
#AdventureStory
#youngadultministry
#seriallizednovel
#readingcommunitymmunity
#bookloverovers
#storytellinging
#urdunovelsvel
#urdufictionction
#fantasyinurdu
#DajjalSeries
#IbnAasMuhammad
#urdunovels
#UrduFiction
#SciFiAdventure
#sciencefacts
#urduscifi
#telepathystory
#alienadventure
#SpaceMystery
#ThrillerStory
#MysteryAdventure
#suspense
#dajjalnovel
#pakistaniwriters
#urduliterature
#fantasyinurdu
#urdustorytime
#FictionLovers
#adventureseries
#sciencefictionfantasy
#AlienEncounter
#ParanormalAdventure
#ImaginationUnbound
#mustreadurdunovel See less
![]()

