🌙✨ دیوار کے اس پار ✨🌙
تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ دیوار کے اس پار۔۔۔ تحریر ۔۔۔ حقیقت اور فسانہ) میں نے جب بھی اپنی بیوی کو میکے چھوڑا تھا، دل ایک عجیب سے خلش سے بھرا ہوتا تھا۔ بیوی سے تو محبت تھی، مگر وہ پڑوس کی دیوار… وہ دیوار جو ہماری اور ان کے درمیان صرف ایک حد نہیں تھی، بلکہ ایک راز کی دیوار بن چکی تھی۔
ہمارا مکان اندرون لاہور کے ایک پرانے موہلے میں تھا، جہاں گلیاں تنگ تھیں مگر تعلقات بہت گہرے ہوا کرتے تھے۔ پڑوس میں ہماری ہمسائیگی میں ایک خاندان رہتا تھا، جس کے بارے میں ہم کچھ زیادہ نہیں جانتے تھے۔ صرف اتنا معلوم تھا کہ وہاں ایک بوڑھی ماں ہے اور اس کا بیٹا۔ بیٹے کا نام اسلم تھا، جو صاحبِ ثروت تو نہیں تھا، مگر ایک سادہ سے کپڑے کی دکان چلاتا تھا۔
میری بیوی کا نام فاطمہ تھا۔ وہ ہر دو تین ماہ بعد اپنے میکے جانے کا پروگرام بناتی۔ وہ میکے کو بہت شوق سے جاتی۔ پیکر میں چار دن گزار کر آتی۔ اور میں اسے چھوڑنے اور لینے جایا کرتا۔ لیکن ایک عجیب بات تھی جو میری آنکھوں کو ہر بار کھٹکتی۔
جب بھی میں فاطمہ کو میکے چھوڑ کر واپس لوٹتا، میرے گھر کی دیوار سے متصل اسلم کی دیوار پر، دھوپ میں کپڑے لٹکے ہوتے۔ یہ کوئی عام کپڑے نہیں ہوتے تھے۔ یہ وہی قمیضیں اور دوپٹے ہوتے تھے جو میری بیوی فاطمہ میکے پہن کر جاتی تھی۔ بالکل وہی رنگ، وہی کپڑا، یہاں تک کہ ایک دوپٹے پر جو باریک بیلٹ بنی ہوئی تھی، وہ بھی مماثل ہوتی۔
پہلی بار جب میری نظر پڑی تو میں نے دل میں کہا، “اتفاق ہوگا۔”
دوسری بار بھی یہی منظر دیکھا تو میری پیشانی پر بل پڑ گئے۔
تیسری بار تو میرے ہاتھ ٹھنڈے پڑ گئے۔
کیونکہ میری بیوی کا میکہ گوجرانوالہ میں تھا، اور ہمارا گھر لاہور میں۔ اتنی دور سے کپڑے دھو کر اسلم کی دیوار پر کیسے آ سکتے تھے؟ یہ سوال میرے ذہن میں گھن کی طرح گھستا رہتا۔
میں نے فاطمہ سے کچھ نہ پوچھا۔ مرد ہوں، نہیں پوچھتے۔ پوچھنا کمزوری ہے، یہی سکھایا گیا تھا مجھے۔ لیکن شک انسان کے دل کو اندھا کر دیتا ہے۔
ایک روز میں نے سوچا، اسرار کو پردے میں ہی رہنے دو، میں خود پردہ اٹھاؤں گا۔
میں نے فاطمہ کو کہا، “تم میکے چلی جاؤ، مجھے کچھ کام ہے، میں دو دن بعد آؤں گا تمہیں لینے۔”
وہ خوش ہو کر تیار ہوگئی۔ وہ ہمیشہ کی طرح اپنی پسندیدہ گہرے سبز رنگ کی قمیض اور سفید دوپٹے میں تیار تھی۔ میں نے اسے گوجرانوالہ چھوڑا اور واپس لاہور آگیا۔
دل دھڑک رہا تھا۔ آنکھیں اس دیوار پر جمی ہوئی تھیں۔
اگلی صبح، سورج نکلا تو میں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے جھانکا۔ اسلم کی دیوار پر وہی گہری سبز قمیض اور سفید دوپٹا لٹک رہا تھا۔ ابھی ابھی دھویا گیا تھا، پانی کے قطرے ابھی اس سے ٹپک رہے تھے۔
میرے ہاتھ کی رگیں کھچ گئیں۔ میں نے اپنے آپ کو روکا۔ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
پھر میرے ذہن میں ایک منصوبہ آیا۔ میں نے رات کا انتظار کیا۔ جب گلی سنسان ہوگئی اور چاند بادلوں میں چھپ گیا، میں نے اپنی چابی سے اسلم کی دیوار پر لٹکی ہوئی اس قمیض کے دامن کو تھوڑا سا پھاڑ دیا۔ ایک چھوٹا سا نشان، جو صرف میں پہچان سکتا تھا۔
اگلی صبح میں گوجرانوالہ پہنچا۔ فاطمہ میکے میں خوش تھی۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی مسکرا کر کہا، “آپ تو جلدی آگئے۔”
میں نے اسے غور سے دیکھا۔ وہ وہی گہری سبز قمیض پہنے ہوئے تھی۔ سفید دوپٹہ اس کے کندھوں پر تھا۔
میں نے دل کو جھنجھوڑ کر کہا، “یہ قمیض بہت اچھی ہے تم پر۔”
وہ بولی، “ہاں، امی نے بہت پسند کی۔”
میں نے کہا، “ذرا قریب آؤ، دامن تو دیکھوں۔”
وہ بے تکلف آگئی۔ میں نے اس کی قمیض کا دامن اٹھایا۔ میری آنکھیں پھٹ گئیں۔ وہاں وہی پھاڑ تھی جو میں نے کل رات اسلم کی دیوار والی قمیض میں کی تھی۔ بالکل وہی جگہ، وہی سائز۔
میں نے اپنے پیر تلے زمین نکلتی محسوس کی۔ میرا سارا وجود لرز اٹھا۔ لیکن میں خاموش رہا۔ میں نے کوئی بات نہیں کی۔ صرف کہا، “چلو، چلتے ہیں۔”
ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ
Ⓗ Ⓐ ⓠ Ⓔ Ⓔ Ⓠ Ⓐ Ⓣ
Ⓐ Ⓤ Ⓡ Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ
فاطمہ میرے ساتھ واپس لاہور آگئی۔ راستے میں وہ باتیں کرتی رہی، میں صرف ہاں میں میں کرتا رہا۔ میرے ذہن میں صرف وہ قمیض تھی، وہ دیوار تھی، اور اسلم کا چہرہ تھا جو میں نے کبھی غور سے نہیں دیکھا تھا۔
گھر آکر میں نے فاطمہ سے کہا، “میں بازار جا رہا ہوں۔”
لیکن میں بازار نہیں گیا۔ میں سیدھا اسلم کی دکان پر پہنچا۔ وہ اپنی چھوٹی سی دکان پر کپڑے سمیٹ رہا تھا۔
میں نے اس کے سامنے جا کر کہا، “اسلم بھائی، ایک بات پوچھنی ہے۔”
اس نے میری طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ خوف نہیں تھا جو کسی مجرم کی آنکھوں میں ہوتا ہے۔ بلکہ اس میں ایک عجیب سی سادگی تھی، ایک اداسی تھی۔
اس نے کہا، “پوچھیں بھائی صاحب۔”
میں نے کہا، “آپ کی دیوار پر جو کپڑے لٹکتے ہیں، وہ کس کے ہیں؟”
اسلم کی آنکھیں جھک گئیں۔ اس نے ایک گہری سانس لی۔ پھر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا، “آپ اندر آئیں۔”
میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ اسلم کی دکان کے پیچھے ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ وہاں اس کی بوڑھی ماں ایک چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں، سانس اتھلی چل رہی تھی۔
اسلم نے بتایا، “یہ میری اماں ہیں۔ ابھی دو سال ہوئے جب انہیں فالج ہوا تھا۔ بول نہیں سکتیں، چل نہیں سکتیں۔ لیکن ان کی آنکھیں دیکھتی ہیں۔ ان کا دماغ اب بھی وہیں ہے، اس موہلے میں، جہاں وہ بیٹیوں کی طرح لڑکیوں کو دیکھتی تھیں۔”
میں چونک گیا۔
اسلم نے آگے بتایا، “جب بھی آپ کی بیوی گوجرانوالہ جاتی ہیں، اماں مجھ سے کہتی ہیں کہ ‘اسلم، فاطمہ میکے گئی ہے، اس کے کپڑے دھو کر دیوار پر لٹکا دو، مجھے لگے گا وہ اپنے گھر میں ہے، گلی میں کھیل رہی ہے۔’ میں اماں کے لیے وہ کپڑے لاہور سے منگواتا ہوں۔ جی ہاں، میں فاطمہ کے میکے والوں سے بات کر کے وہی کپڑے خرید لاتا ہوں۔ اماں کو صرف یہ دیکھ کر سکون ملتا ہے کہ ‘فاطمہ’ کی قمیضیں دھوپ میں لٹک رہی ہیں۔ انہیں لگتا ہے وہ ابھی آئیں گی، ابھی آ کر چائے پوچھیں گی۔”
میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ سارا شک، سارا غصہ، ساری بے چینی ایک لمحے میں بے معنی ہو کر رہ گئی۔
میں نے اسلم کی ماں کی طرف دیکھا۔ اس کے ہونٹ خاموش تھے، لیکن اس کے چہرے پر ایک عجیب سی امن تھی، جیسے وہ کسی خواب میں کھوئی ہوئی تھی۔
میں نے پوچھا، “تم نے یہ سب مجھ سے کیوں نہیں کہا؟”
اسلم نے کہا، “بھائی صاحب، آپ کی بیوی بہت اچھی ہیں۔ وہ ہمیں سلام کرتی ہیں، کبھی کبھار چائے بھیج دیتی ہیں۔ لیکن اماں کی یہ عادت ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ فاطمہ ان کی بیٹی ہے۔ میں نے آپ کو بتانا مناسب نہ سمجھا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ کو تکلیف ہو۔”
میں نے اسلم کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ میری آنکھیں نم تھیں۔ میں نے کہا، “تکلیف نہیں ہوئی اسلم، حقیقت سامنے آگئی ہے۔”
میں اس کی ماں کے پاس گیا۔ اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کی آنکھیں کھلیں۔ اس نے مجھے دیکھا اور اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔
میں گھر آیا تو فاطمہ چائے بنا رہی تھی۔ میں نے اسے سب کچھ بتایا۔ سن کر وہ خاموش رہی۔ پھر بولی، “میں جانتی ہوں۔ اسلم نے مجھ سے کہا تھا۔ وہ کپڑے میں خود لاہور سے خرید کر لے جاتا ہے۔ میں نے سوچا، کوئی حرج نہیں، ایک بوڑھی ماں کو سکون ملتا ہے تو کیوں نہ دے دوں۔”
میں نے کہا، “تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟”
فاطمہ نے کہا، “تم اتنا شک کرنے لگے تھے کہ میں نے سوچا تم خود ہی حقیقت تک پہنچ جاؤ گے۔ اور تم پہنچ گئے۔”
🌙
خلاصہ یہ کہ :
کبھی کبھی دیوار کے اس پار جو نظر آتا ہے وہ کوئی سازش نہیں ہوتی، بلکہ کسی ٹوٹے دل کا سہارا ہوتی ہے۔ شک کی آنکھ سے دیکھو تو ہر چیز مشکوک لگتی ہے، مگر حقیقت کو سمجھنے کے لیے صرف تھوڑا سا صبر اور تھوڑی سی سچائی کافی ہوتی ہے۔
اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔
ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔
کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا کہ شک نے آپ کو کسی حقیقت سے دور کر دیا ہو؟ تبصرے میں ضرور بتائیں۔
![]()

