اوڑھنی کا پردہ
تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اوڑھنی کا پردہ ۔۔۔ تحریر : حقیقت اور فسانہ )یہ بات قیامِ پاکستان سے دس برس پہلے کی ہے۔ وقت بھی کچھ اور تھا، رسمیں بھی کچھ اور تھیں۔ پنجاب کے ایک دیہات میں، جہاں حویلیاں پکے ایٹوں کی بجائے کچی مٹی اور مضبوط لکڑی کی بنی ہوتی تھیں، وہاں ایک خاندان رہتا تھا۔ اس خاندان کی بہو تھی صوفیہ۔ میری والدہ کی پھوپھی۔
صوفیہ جب سولہ برس کی ہوئی تو اس کی شادی زمیندار گھرانے میں ہوئی۔ اس کے شوہر کا نام سجاد تھا۔ بیاہ کے بعد جب وہ حویلی میں آئی تو سب نے کہا، “حویلی کی رونق آگئی۔” صوفیہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس کی آنکھوں میں وہ شرم تھی جو اس دور کی بہوؤں کا زیور ہوا کرتی تھی، اور ہونٹوں پر وہ خاموش مسکراہٹ جو کبھی الفاظ میں نہیں بدلتی تھی۔
لیکن اس کی زندگی کا دھاگہ جلد ہی الجھنے لگا۔ سجاد صاحب کا مزاج عجیب تھا۔ وہ نہ تو پورے دن حویلی میں رہتے، نہ ہی کبھی دیہات میں ٹھہرتے۔ کبھی شہر چلے جاتے، کبھی زمینوں پر نکل جاتے۔ صوفیہ شام ڈھلے ان کا انتظار کرتی، لیکن اکثر یہ انتظار ادھوری راتوں میں بدل جاتا۔
شادی کو چھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ ایک دن سجاد صاحب نے بغیر کچھ کہے حویلی سے اپنا سامان اٹھایا اور بنگال کے لیے رختِ سفر باندھ لیا۔ صوفیہ نے ساس سے پوچھا تو جواب ملا، “کام ہے، جائیں گے، کچھ دنوں میں آجائیں گے۔”
لیکن دن ہفتوں میں بدلے، ہفتے مہینوں میں، اور سجاد صاحب واپس نہ آئے۔ نہ خط آیا، نہ کوئی پیغام۔ صوفیہ کے سسرال والوں نے بھی اس معاملے پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ وہ زمانہ اور تھا۔ بہو کا مقام بھی کچھ اور تھا۔
حویلی میں صوفیہ کے علاوہ ساس، دو نندیں، اور ایک چھوٹی سی بھابھی تھی۔ سب عورتیں اپنے اپنے کمروں میں رہتیں۔ دیواروں کے پار مردوں کی دنیا تھی، جہاں مہمان آتے، کھیتوں کی باتیں ہوتیں، اور فیصلے ہوتے۔ عورتوں کی دنیا چاردیواری تک محدود تھی، اور پردہ ان کی پہچان تھا۔
ایک دن دوپہر کا وقت تھا۔ گرمی اتنی تھی کہ حویلی کے صحن میں چھپکلیاں بھی سائے کی تلاش میں تھیں۔ صوفیہ اپنی ساس کے کمرے میں بیٹھی تھی۔ ساس بیمار تھیں، بخار میں تھیں۔ صوفیہ ان کے سرہانے بیٹھ کر پنکھا جھول رہی تھی۔
اچانک حویلی کے دروازے پر ایک ہلکی سی کھٹکھٹ ہوئی۔ پھر دروازہ کھلا۔ صوفیہ نے سوچا شاید کوئی مہمان ہے۔ لیکن دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی عورتوں کے کمروں سے چیخیں بلند ہونے لگیں۔
“غیر مرد! غیر مرد!”
صوفیہ نے دیکھا تو ایک اجنبی شخص حویلی کے درمیانی صحن میں کھڑا تھا۔ اس نے شاید غلطی سے عورتوں والا دروازہ کھول لیا تھا۔
جس لمحے عورتوں نے اسے دیکھا، گویا حویلی میں طوفان آ گیا۔ نندیں اپنے کمروں میں گھس گئیں۔ چھوٹی بھابھی نے اوڑھنی منہ پر تان لی اور بھاگتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔ سب کے چہروں پر خوف تھا۔ اس دور میں کسی غیر مرد کا عورتوں کے حصے میں آ جانا اتنا بڑا مسئلہ تھا جتنا آج شاید کوئی اور چیز ہو۔
لیکن صوفیہ کی ساس بیمار تھیں، اٹھنے کی طاقت نہیں تھی۔ صوفیہ نے دیکھا کہ وہ بے بس پڑی ہیں۔ وہ اٹھی اور دوڑ کر ساس کے پاس گئی، انہیں اٹھانے کی کوشش کی۔
اس جلدی میں اس کی اوڑھنی اس کے سر سے کھسک گئی۔ وہ گھونگھٹ نکالنا بھول گئی۔ اس کی ساس نے دیکھا تو آواز دی، “بیٹا! اوڑھنی! اوڑھنی!”
لیکن اس سے پہلے کہ صوفیہ کچھ کر پاتی، وہ شخص جو صحن میں کھڑا تھا، نے اسے دیکھ لیا۔ صرف ایک لمحے کے لیے ان کی نگاہیں مل گئیں۔ پھر وہ شخص بھی گھبرا کر پیچھے ہٹ گیا اور دروازہ بند کر کے چلا گیا۔
شور شرابا تھم گیا۔ حویلی میں سنّاٹا چھا گیا۔
لیکن اس ایک لمحے نے صوفیہ کی زندگی کا رُخ بدل دیا۔
شام کو جب سسر اور دیور گھر واپس آئے تو عورتوں نے انہیں ساری بات بتائی۔ صوفیہ کی ساس نے کہا، “وہ بے پردہ ہو گئی۔ سارے گھر کے سامنے۔ اس کا سر کھلا تھا۔”
صوفیہ نے کہا، “اماں، میں آپ کو بچانے دوڑی تھی۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا۔”
لیکن اس دور میں نیتوں کی نہیں، صورتوں کی اہمیت تھی۔ یہ بات پورے موضع میں پھیل گئی کہ فلاں گھر کی بہو غیر مرد کے سامنے بے پردہ ہو گئی۔ کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ وہ اپنی ساس کو بچانے دوڑی تھی۔ لوگوں نے صرف اتنا دیکھا کہ اس کا سر کھلا تھا۔
چند دنوں بعد سجاد صاحب کا خط آیا۔ خط میں صرف دو سطریں تھیں۔ “میں یہاں بنگال میں بس گیا ہوں۔ تم اپنے میکے چلی جاؤ۔ طلاق کا کاغذ بعد میں بھیج دوں گا۔”
صوفیہ کے ہاتھ سے خط گر گیا۔ اسے طلاق مل رہی تھی۔ اور قصور؟ ایک ایسی اوڑھنی جو اس کے سر سے گر گئی تھی۔
صوفیہ کا سامان باندھ دیا گیا۔ کوئی اس کے ساتھ جانے کو تیار نہیں تھا۔ اس کے سسرال والوں کا موقف تھا، “اب وہ ہمارے گھر کی بہو نہیں رہی۔ سجاد نے اسے چھوڑ دیا۔”
صوفیہ جب میکے واپس آئی تو اس کے والد بھی بہت پریشان تھے۔ اس زمانے میں بیٹی کا میکے آنا کوئی اچھی علامت نہیں ہوتی تھی۔ پڑوسی پوچھتے، “کیا ہوا؟ کیوں آگئی؟”
صوفیہ کی ماں نے اسے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ لوگ اس کی بیٹی کو دیکھیں اور پھر سے وہی پرانی بات چھیڑ دیں۔
صوفیہ تنہا بیٹھی رہتی۔ اسے یہ سمجھ نہ آتا کہ اس نے کیا غلط کیا تھا۔ اس نے تو صرف اپنی ساس کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اس دنیا میں ایک عورت کی عزت اس کی اوڑھنی سے ماپی جاتی تھی، اس کے دل سے نہیں۔
مہینوں گزر گئے۔ سجاد صاحب کا کوئی خط نہ آیا، نہ طلاق کا کاغذ آیا۔ صوفیہ نہ یہاں کی رہی، نہ وہاں کی۔ اس کی عمر اب سترہ برس تھی۔ اتنی کم عمر میں اس کی زندگی کا ایک باب بغیر کسی قصور کے بند کر دیا گیا تھا۔
ایک دن صوفیہ کے والد نے اس سے کہا، “بیٹا، اب یوں نہیں رہ سکتا۔ تمہارے شوہر نے تمہیں چھوڑ دیا ہے، طلاق بھی نہیں دی۔ تم نہ بیوی ہو نہ بیوہ۔”
صوفیہ نے سر جھکا لیا۔ وہ جواب نہیں دے سکتی تھی۔ کیونکہ اس کے پاس الفاظ نہیں تھے۔ اسے تو صرف یہ معلوم تھا کہ اس نے ایک دن اپنی اوڑھنی کھو دی تھی، اور اس کے ساتھ اپنی ساری دنیا کھو دی تھی۔
پھر ایک دن صوفیہ کے والد نے اسے بتایا کہ ایک شخص ان سے ملنے آیا ہے۔ وہ پڑوس کے گاؤں کا رہنے والا تھا۔ اس کا نام رشید تھا۔ وہ کہتا تھا کہ وہ صوفیہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔
صوفیہ حیران رہ گئی۔ اس نے کہا، “ابا، میرا کوئی شوہر تو ہے نہیں۔ سجاد صاحب نے مجھے نہ طلاق دی، نہ چھوڑا۔”
اس کے والد نے کہا، “ہم نے فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ طلاق کا کاغذ کبھی بھیجے گا نہیں۔ تمہاری زندگی یونہی ختم ہو جائے گی۔”
صوفیہ کو اس فیصلے میں کوئی رائے نہیں دی گئی۔ اس کی شادی رشید سے کر دی گئی۔ سجاد صاحب کے بغیر طلاق کے۔
یہ دوسری شادی بھی زیادہ دن نہ چل سکی۔ جب سجاد صاحب کو پتہ چلا کہ صوفیہ نے دوسری شادی کر لی ہے تو وہ غصے میں آ گیا۔ اس نے کہا کہ اس نے کبھی طلاق نہیں دی۔ صوفیہ اس کی بیوی ہے۔
بات عدالت تک جا پہنچی۔ وہ زمانہ بھی کچھ اور تھا۔ عدالتوں میں بھی وہی روایات تھیں۔ صوفیہ سے پوچھا گیا، “تمہارے شوہر نے تمہیں طلاق دی تھی؟”
صوفیہ نے کہا، “نہیں، میں نے صرف ایک خط دیکھا تھا جس میں لکھا تھا کہ وہ مجھے چھوڑ رہے ہیں۔”
عدالت نے فیصلہ سنایا کہ صوفیہ اب بھی سجاد کی بیوی ہے، اور اس کی دوسری شادی غلط تھی۔
صوفیہ کا دوسرا نکاح ختم کر دیا گیا۔ اور وہ پھر سے اسی الجھن میں آ گئی۔ نہ اسے پہلا شوہر لینے آیا، نہ دوسرا۔ وہ اپنے میکے میں تھی، لیکن کسی کی نہیں تھی۔
اب صوفیہ کے والد بھی اس سے کنارہ کرنے لگے۔ معاملہ بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکا تھا۔ پورے علاقے میں لوگ ان کی زندگی کا مذاق اڑاتے تھے۔ ایک عورت جس نے دو شادیاں کیں، دونوں ٹوٹ گئیں۔
صوفیہ اپنے کمرے میں بیٹھی رہتی۔ اسے یاد آتا وہ دن جب اس کی اوڑھنی سر سے گری تھی۔ اگر وہ اوڑھنی نہ گری ہوتی تو شاید آج اس کی زندگی کچھ اور ہوتی۔ لیکن پھر وہ سوچتی، کیا واقعی اتنی بڑی سزا تھی ایک گرتی ہوئی اوڑھنی؟
اس نے کبھی کسی سے یہ سوال نہیں کیا۔ وہ خاموش رہی۔
پھر ایک دن صوفیہ کو پتہ چلا کہ سجاد صاحب نے بنگال میں دوسری شادی کر لی ہے۔ اب وہ نہیں چاہتا تھا کہ صوفیہ اس کی بیوی کہلائے۔ اس نے عدالت میں درخواست دے دی کہ وہ صوفیہ سے طلاق چاہتا ہے۔
عدالت نے طلاق منظور کر لی۔ بیس برس کی عمر میں صوفیہ بالآخر آزاد ہو گئی۔ لیکن یہ آزادی کس کام کی تھی؟ اس کی زندگی کے بہترین سال کسی کے انتظار میں، کسی کے فیصلوں میں، کسی کی اوڑھنی کے پیچھے گزر چکے تھے۔
ⓕ ⓞ ⓛ ⓛ ⓞ ⓦ
Ⓗ Ⓐ ⓠ Ⓔ Ⓔ ⓠ Ⓐ Ⓣ
Ⓐ Ⓤ Ⓡ Ⓕ Ⓐ Ⓢ Ⓐ Ⓝ Ⓐ
صوفیہ نے پھر شادی نہیں کی۔ وہ اپنے بھائی کے گھر رہنے لگی۔ وقت گزرتا گیا، اور صوفیہ بوڑھی ہو گئی۔ میری والدہ جب بھی ان سے ملنے جاتیں، وہ انہیں بہت پیار کرتیں۔ لیکن کبھی اپنی زندگی کی بات نہیں کرتی تھیں۔
ایک روز میری والدہ نے ان سے پوچھ ہی لیا، “پھوپھی جان، آپ نے دوسری شادی کیوں نہیں کی؟”
صوفیہ نے کچھ دیر خاموش رہ کر کہا، “بیٹا، ایک اوڑھنی گرنے کا مطلب سمجھنے میں پوری زندگی لگ گئی۔ پھر دوسری شادی کا وقت کہاں تھا؟”
وہ مسکرائیں۔ لیکن اس مسکراہٹ کے پیچھے کتنی راتیں تھیں جو بے خوابی میں گزری تھیں، کتنی اوڑھنیاں تھیں جو کبھی سر سے گریں اور کبھی لوگوں کی نظروں میں گر گئیں۔
🌙
خلاصہ یہ کہ: ایک عورت کی ساری زندگی اس کی اوڑھنی کے ایک لہراؤ میں بدل گئی۔ اس نے کبھی کسی کا دل نہیں دکھایا، لیکن اس کی زندگی میں آنے والوں نے اسے بار بار دکھایا۔ یہ کہانی اس سوال کی طرح ہے کہ کیا کسی عورت کی پوری شناخت واقعی اس کی چادر کے پیچھے ہوتی ہے؟
اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ ایسی اور سچی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔ اگر آپ کے خاندان میں بھی کوئی ایسی داستان ہے تو تبصرے میں ضرور بتائیں۔
![]()

