بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
* تھائی رائیڈ گلینڈ:
ﷲ رب العالمین کا عطا کردہ یہ نادر و نایاب تحفہ آپ کی سانس کی نالی کے ،دونوں جانب نرخرے کی ہڈی کے نیچے موجود ہے۔
اس غدود کا کام جسم کی اس عظیم دنیا (عالم اکبر)کو توانائی فراہم کرنا ہے۔
یہ توانائی جسم کے سو کھرب خلیوں میں موجود سوہزار کھرب توانائی گھروں (MITOCHONDRIA)کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔
تھائی رائیڈ گلینڈ ان سو ہزار کھرب توانائی گھروں کو کنٹرول کرتا ہے۔
* مرکزی توانائی گھر:
زندگی کے تمام اعمال و حرکات کے لیے توانائی کی ضرورت پڑتی ہے۔حتیٰ کہ خواب دیکھنے کے لیے بھی توانائی کی مخصوص مقدار درکار ہوتی ہے۔
توانائی کی فراہمی کا یہ پیچیدہ و پراسرار کام تھائی رائیڈ ہی کے ذریعے سرانجام پاتا ہے۔
مطلوبہ توانائی فوری طور پر تیار کر کے ٹھیک اسی مقدار میں فراہم کی جاتی ہے جتنی مقدار جہاں درکار ہوتی ہے۔
مثلاً جب آپ چھالیہ یا بادام کو توڑنے کے لیے داڑھوں کے درمیان رکھتے ہیں تو داڑھوں کا مواصلاتی نظام توا نائی کی ضرورت کا اندازہ کر کے اس کی اطلاع دماغ میں موجود ہائی پوتھیلمیس گلینڈ کو فراہم کرتا ہے۔
ہائی پو تھیلمیس گلینڈ فراہم کی جانے والی توانائی کی مقدار کا تعین کرتا ہے اور پیچوٹری گلینڈ کو سگنلز روانہ کرنا شروع کر دیتا ہے۔
ان سگنلز کو وصول کر کے پیچوٹری گلینڈ فوراً ہی ’’تھائی روٹروپن‘‘ نامی ہارمون خون میں شامل کر دیتا ہے۔یہ ہارمون پلک جھپکنے سے بھی کم مدت میں سیدھا آپ کی گردن پر موجود تھائی رائیڈ گلینڈ تک پہنچ جاتا ہے۔
اس حکم کے ملتے ہی تھائی رائیڈ گلینڈ ایک مخصوص ہارمون کے ذریعے جسم کے سو کھرب خلیوں کو یہ احکامات جاری کرتا ہے کہ ہر خلیہ اپنے اپنے ہزار توانائی گھر وں کو آن کر دے تاکہ چھالیہ یا بادام توڑنے کے لیے داڑھوں کو مطلوبہ طاقت فراہم کی جاسکے۔
اس کے ساتھ ہی سو ہزار ننھے منے توانائی گھر توانائی کی پیداوار شروع کر دیتے ہیں اور آپ چھالیہ یا بادام کو داڑھ سے دبا کر توڑ لیتے ہیں۔
یہ توانائی اس وقت تک آپ کی داڑھوں‘دانتوں اور جبڑے کو ملتی رہتی ہے جب تک چھالیہ باریک ذرّوں میں تبدیل نہ ہو جائے۔
جاری ہے
![]()

