آییے قرآن کی اس آیت پر تدبر کرتے ھیں جو دلوں کو بدل دینے والی آیت ھے
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) “يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ”(الشعراء 88-89)
قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد،سوائے اس کے جو اللہ کے پاس سلیم دل لے کر آئے۔ قلب سلیم دراصل ایک ایسی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کا دل اندر سے صاف، نرم اور بیدار ہو جاتا ہے۔ یہ صرف ایک اصطلاح نہیں بلکہ قرآن کا وہ معیار ہے جس پر انسان کی اصل کامیابی کا فیصلہ ہونا ہے۔ قیامت کے دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد، صرف وہ دل کام آئے گا جو سلامت ہو—جو حسد، تکبر، کینہ اور دنیا کی آلودگیوں سے پاک ہو۔
ہم اکثر عبادت کو ایک عمل سمجھتے ہیں، ایک فریضہ جو ادا کرنا ہے، مگر حقیقت اس سے کہیں گہری ہے۔ نماز صرف جھکنا نہیں، روزہ صرف بھوکا رہنا نہیں، اور استغفار صرف الفاظ دہرانا نہیں۔ یہ سب دراصل دل کی صفائی کے مراحل ہیں۔ جیسے کوئی آئینہ گرد سے بھر جائے تو اس میں روشنی منعکس نہیں ہوتی، ویسے ہی دل جب گناہوں اور غفلت سے بھر جاتا ہے تو وہ نور کو قبول نہیں کر پاتا۔
اسی لیے استغفار کا اصل مقصد صرف مشکلات کا حل یا رزق میں اضافہ نہیں، بلکہ دل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اللہ کے نور کو جذب کر سکے۔ جب انسان بار بار “استغفراللہ” کہتا ہے تو وہ صرف گناہ نہیں مان رہا ہوتا، وہ اپنے دل کی تہوں کو صاف کر رہا ہوتا ہے۔ آہستہ آہستہ ایک بھاری پن ہلکا ہونے لگتا ہے، ایک دھند چھٹنے لگتی ہے۔
ذکر بھی یہی کام کرتا ہے۔ جب زبان “سبحان اللہ” کہتی ہے اور دل اس کے ساتھ جڑ جاتا ہے تو ایک عجیب سا سکون اترنے لگتا ہے۔ یہ سکون صرف روحانی نہیں بلکہ جسمانی بھی ہوتا ہے۔ دل کی دھڑکن نرم پڑتی ہے، سانسیں ہموار ہوتی ہیں، اور انسان اندر سے پرسکون محسوس کرتا ہے۔ گویا ذکر دل کو اس کی اصل حالت میں واپس لے آتا ہے۔
قلبِ سلیم وہ دل ہے جو ہر حال میں اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ خوشی میں بھی اور غم میں بھی۔ ایسا دل حالات سے نہیں ٹوٹتا، بلکہ ہر حال میں ایک اندرونی استحکام رکھتا ہے۔ وہ لوگوں کی باتوں سے کم متاثر ہوتا ہے اور اللہ کے ساتھ تعلق سے زیادہ جیتا ہے۔ اس میں ایک نور پیدا ہو جاتا ہے جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کو واضح کر دیتا ہے۔
لیکن یہ حالت خود بخود نہیں آتی۔ اس کے لیے انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ اپنے دل کے اندر چھپے ہوئے کینے، حسد اور انا کو پہچاننا پڑتا ہے۔ کبھی کسی کو معاف کرنا پڑتا ہے، کبھی خود کو جھکانا پڑتا ہے، کبھی خاموش ہو کر اللہ کے سامنے بیٹھنا پڑتا ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جہاں دل آہستہ آہستہ نرم ہوتا ہے۔
ہماری سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم عبادت کو جسم تک محدود رکھتے ہیں اور دل کو ساتھ نہیں لاتے۔ اسی لیے ہم پڑھتے بہت ہیں مگر بدلتے نہیں۔ حالانکہ اصل تبدیلی دل سے شروع ہوتی ہے۔ جب دل بدلتا ہے تو انسان کا دیکھنے کا زاویہ بدل جاتا ہے، اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے۔
قلبِ سلیم دراصل وہ دل ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کا غلام نہیں بنتا۔ جو لوگوں کے درمیان رہ کر بھی اللہ کے ساتھ جڑا رہتا ہے۔ جو خاموشی میں بھی اللہ کو یاد کرتا ہے اور ہجوم میں بھی اپنے رب کو نہیں بھولتا۔
اور شاید یہی اصل کامیابی ہے—کہ انسان اس حال میں دنیا سے جائے کہ اس کا دل بوجھل نہ ہو، اس میں کوئی میل نہ ہو، بلکہ وہ ایک صاف، روشن اور نرم دل لے کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہو۔ کیونکہ آخرکار اللہ کو ہمارے اعمال سے زیادہ ہمارا دل درکار ہے۔
![]()

