جنگ، تنہائی اور نورِ وحی…. قرآن کی گواہی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )قرآن…اللہ سبحان تعالیٰ کا کلام۔ایسا کلام جو صرف پڑھا نہیں جاتا، بلکہ انسان کے اندر اترتا ہے۔ جو شخص یہ جان لے کہ کائنات کا رب اپنے بندے سے کیا چاہتا ہے، وہ قرآن کو سرسری نظر سے نہیں پڑھتا، بلکہ اس کی تہوں میں اترنے لگتا ہے۔
یہ صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ آسمانی پیغام ہے۔ ایسا پیغام جو زمانے، قوموں اور سرحدوں سے بلند ہے۔
بے شک یہ خداۓ بزرگ و برتر کا آفاقی کلام ہے۔
ذرا ایک لمحہ ٹھہریے اور منظر کو تصور میں لائیے…
محمد ﷺ امی تھے…. نہ پڑھنا جانتے تھے، نہ لکھنا۔
ان کے پاس کوئی کتابوں کا ذخیرہ نہیں تھا، نہ کمپیوٹر، نہ کیلکولیشن کے آلات، نہ تحقیق کے جدید وسائل۔
نہ کوئی سرچ پروگرام، نہ لائبریریوں کی دنیا۔
پھر بھی ایک ایسی کتاب دنیا کے سامنے آئی…
جس میں کائنات کی نشانیاں ہیں، انسان کی نفسیات ہے، تاریخ کی گواہیاں ہیں اور آنے والے زمانوں کے لیے ہدایت ہے۔
اور یہ سب اُس ماحول میں نازل ہوا جہاں سکون نہیں تھا۔
وہ زمانہ…آسان نہیں تھا۔
آپ ﷺ کو ستایا گیا، مارا گیا، راستوں میں کانٹے بچھائے گئے، طعن و تشنیع کی گئی۔ معاشی بائیکاٹ کیا گیا۔ بھوک اور خوف کے دن آئے۔ اپنوں کی جدائی کا غم بھی سہنا پڑا۔
جنگیں بھی ہوئیں، حملے بھی ہوئے۔
اب ذرا اس حقیقت کو محسوس کریں:
اگر کوئی انسان جنگ کے ماحول میں ہو…
گولیوں کی آوازیں، خوف، بے یقینی، اور مسلسل دباؤ…
تو کیا وہ اس حالت میں ایک ایسی کتاب پیش کر سکتا ہے
جو صدیوں بعد بھی انسان کو حیران کر دے؟
یہاں رک کر دل خود گواہی دیتا ہے:
یہ انسانی ذہن کی تخلیق نہیں ہو سکتی۔
یہ واقعی رب العلمین کا کلام ہے۔
قرآن کی ترتیب، اس کی حکمت، اس کی معنوی ساخت…
یہ سب ایک الٰہی نظام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اسی حقیقت کو صحابہؓ کی روایتیں اور واضح کر دیتی ہیں۔
زید بن ثابتؓ ،جو وحی کے بڑے کاتبوں میں سے تھے، بیان کرتے ہیں:
“میں رسول اللہ ﷺ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا۔ جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ کو شدید گرمی محسوس ہوتی اور پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح بہنے لگتے۔ جب یہ کیفیت ختم ہوتی تو میں ہڈی یا کسی چیز کا ٹکڑا لاتا، آپ فرماتے اور میں لکھتا۔
جب میں لکھ چکتا تو وحی کے وزن کی شدت سے مجھے محسوس ہوتا کہ میری ٹانگ ٹوٹ جائے گی۔ پھر آپ فرماتے: “پڑھو!”
میں پڑھ کر سناتا، اگر کوئی کمی ہوتی تو آپ اسے درست فرماتے، پھر اسے لوگوں تک پہنچایا جاتا۔”
(مجمع الطبرانی الاوسط)
یہ منظر صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں…
یہ اس بات کی علامت ہے کہ قرآن محض الفاظ نہیں بلکہ وحی کا وزن رکھتا ہے۔
یہ وہ کلام ہے جو آسمان سے دلوں تک اترا اور پھر دلوں سے دنیا تک پھیل گیا۔
اسی لیے جو شخص قرآن کو گہرائی سے پڑھتا ہے، وہ ایک مقام پر جا کر یہ ضرور کہتا ہے:
یہ انسان کا کلام نہیں ہو سکتا۔ یہ اللّٰہ سبحان تعالیٰ کا کلام ہے۔ ❤️
#مقیتہ وسیم
#Quran #قرآن #ReflectionOnQuran #Tadabbur #IslamicThought
#وحی #قرآنی_تدبر #نور_قرآن #QuranMessage #IslamicWriting
#MoquitaWasim #قرآن_کا_پیغام #FaithAndReflection #DivineWords #SpiritualJourney
![]()

