Daily Roshni News

حضرت عمرؓ اور قیصر روم کا ایلچی

حضرت عمرؓ اور قیصر روم کا ایلچی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اسلامی تاریخ میں بعض واقعات ایسے ہیں جو نہ صرف اپنے وقت کی حقیقت کو واضح کرتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی کا روشن چراغ بن جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک ایمان افروز واقعہ حضرت عمر بن خطاب کے دورِ خلافت کا ہے، جب قیصر روم نے اپنا ایک خاص ایلچی مدینہ منورہ بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کے خلیفہ کی شان و شوکت اور طرزِ حکمرانی کا جائزہ لے سکے۔

یہ ایلچی طویل اور صبر آزما سفر طے کر کے مدینہ منورہ پہنچا۔ اس کے ذہن میں یہ تصور تھا کہ مسلمانوں کے خلیفہ کا محل بھی دیگر بادشاہوں کی طرح شاندار اور عالی شان ہوگا، جہاں پہرے داروں کی قطاریں اور دربانوں کی سخت نگرانی ہوگی۔ مگر جب اس نے لوگوں سے دریافت کیا کہ خلیفہ کا محل کہاں ہے، تو لوگوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ ان کا کوئی محل نہیں۔ وہ ایک سادہ انسان کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں، حالانکہ ان کے نام کی ہیبت سے بڑے بڑے حکمران لرزتے ہیں۔

یہ جواب سن کر ایلچی حیرت میں ڈوب گیا۔ اس کے اندر تجسس بڑھ گیا کہ آخر ایسا کیسا حکمران ہے جس کا کوئی محل نہیں، مگر اس کی ہیبت دلوں پر راج کرتی ہے۔ اس نے اپنا سامان اور گھوڑا وہیں چھوڑ دیا اور خلیفہ کی تلاش میں نکل پڑا۔ وہ ہر ایک سے دیوانہ وار پوچھتا پھرتا تھا، یہاں تک کہ ایک بدو عورت نے اسے بتایا کہ خلیفہ کو اس نے ایک کھجور کے درخت کے نیچے آرام کرتے دیکھا ہے۔

ایلچی فوراً اس مقام کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو اس نے ایک عجیب منظر دیکھا: حضرت عمر بن خطاب زمین پر ایک درخت کے سائے تلے تنہا سو رہے تھے، نہ کوئی محافظ، نہ کوئی خادم، نہ کوئی ظاہری شان و شوکت۔ یہ منظر دیکھ کر وہ ششدر رہ گیا اور دور کھڑا ہو کر دیکھنے لگا۔ اچانک اس کے دل پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ اس کے جسم پر کپکپی چھوٹ گئی اور دل میں بے اختیار محبت اور ہیبت پیدا ہوگئی۔

وہ اپنی اس کیفیت پر خود حیران تھا۔ اس نے سوچا کہ وہ ایک بہادر سپاہی ہے، بے شمار جنگوں میں حصہ لے چکا ہے، کئی بار زخمی ہوا مگر کبھی خوف محسوس نہیں کیا۔ وہ بڑے بڑے بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا مگر کبھی ان کی ہیبت سے مرعوب نہیں ہوا۔ اس نے جنگلوں میں شیروں کا شکار کیا اور کبھی اس کے چہرے کا رنگ نہیں بدلا۔ لیکن آج ایک ایسے شخص کو دیکھ کر، جو بغیر کسی ہتھیار کے زمین پر سو رہا ہے، اس کے دل میں عجیب خوف اور احترام پیدا ہوگیا ہے۔

وہ سوچنے لگا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ اللہ کا خاص بندہ ہے، جس کی ہیبت خود اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں ڈال دی ہے۔ وہ کافی دیر تک خاموش کھڑا رہا اور انتظار کرتا رہا کہ خلیفہ خود بیدار ہوں، کیونکہ اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ انہیں جگا سکے۔

کچھ دیر بعد حضرت عمر بن خطاب بیدار ہوئے تو ایلچی آگے بڑھا، ادب و احترام کے ساتھ سلام کیا اور گفتگو کا آغاز ہوا۔ اس ملاقات نے اس کے دل پر گہرا اثر چھوڑا اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اصل طاقت ظاہری جاہ و جلال میں نہیں بلکہ اللہ کے خوف، عدل اور تقویٰ میں ہے۔

یہ واقعہ ہمیں ایک عظیم سبق دیتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اللہ اسے دل کا سکون عطا کرتا ہے اور مخلوق کے دلوں میں اس کی عزت اور ہیبت پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس جو اللہ سے غافل ہو جائے، وہ بظاہر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کا دل اندر سے کمزور رہتا ہے اور وہ معمولی چیزوں سے بھی خوفزدہ ہو جاتا ہے۔ حقیقی کامیابی اور عزت اسی میں ہے کہ انسان سادگی، عدل اور تقویٰ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔

کروڑوں درود وسلام ہو حضرت محمد صلی اللّٰہ  علیہ وآلہ وسلم پر

‎اگر آپ کو ہماری پوسٹ پسند آئی ہو تو لائک ضرور کریں، اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور مزید خوبصورت مواد کے لیے ہمارا پیج فالو کرنا نہ بھولیں۔

#حضرت_عمر #عدل_و_انصاف #اسلامی_تاریخ #سادگی #خلافت #ایمان #سبق_آموز #اسلام #واقعہ #حکایت

Loading