رسم ستم ہے کتنی پرانی؟
تحریر۔۔فاریہ اسلم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ رسم ستم ہے کتنی پرانی؟ تحریر۔۔فاریہ اسلم) کرو وہ ابھی بچی ہے۔ سمجھ آنے پر خود بخود راہ راست پر آجائے گی۔ لیکن ماجدہ کا رویہ نہ بدلا۔ اس نے سارے گھر کو وہ تگنی کا ناچ نچایا کہ سب کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ گھر کی خوشیاں اور سکون اجڑ گئے، خاور نے ہر وقت کی تکرار، معرکہ آرائیوں اور کوفت سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنے ٹھکانے باہر بنا لیے مگر فاخرہ شدید ذہنی انتشار اور بے چینی میں مبتلا ہو گئی۔ اس نے بہو کے طعنے تشنوں کو بڑی بے جگری اور صبر سے برداشت کیا۔ مگر اس کی زندگی عموں کے اندھیرے میں گھرتی چلی گئی۔
ماجدہ چاہتی تھی خاور اپنا آبائی مکان چھوڑ کر اسے علیحدہ گھر میں رکھے اور اپنی ساری تنخواہ اس کے حوالے کر دے اسے ساس سسر کی پر چھائیں تک گوارا نہ تھی۔
شام کو جب دفتر سے خاور تھکا ماندہ گھر آتا تو بجائے اس کا خیر مقدم کرنے کے ماہدہ دنیا جہان کی شکایتوں کی فہرست لے کر بیٹھ جاتی۔ خاور عموماً اس کی باتوں کا جواب خاموشی سے دیتا تھا مگر جب اس کے طعنے تشنے حد سے زیادہ تجاور کر جاتے تو وہ برس پڑتا۔
آخر تمہیں اس گھر میں کیا تکلیف ہے….؟ تم چاہتی ہو میں اپنے ضعیف والدین کو چھوڑ دوں۔ ان سے ترک تعلق کرلوں…؟ میری ماں جس نے عمر بھر اپنی زندگی ہم سب کی راحت و آرام کے لیے بے سکون کرلی۔ اس سے منہ موڑ لوں ….؟ تو یہ میں کبھی نہ کر سکوں گا۔ تم نے آج تک میرے والدین سے خوش دلی سے بات نہیں کی جبکہ میری ماں تمہاری ہر جا و بے جا خواہش و ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ تمہارے ناز و نخرے اٹھاتی ہیں۔ مگر تمہیں ہم سب سے شکایت ہے۔ ماجدہ پلٹ کر کہتی ہاں ہاں سارے جہاں کی برائیاں اور عیب تو مجھے ہی میں ہیں باقی گھر کے سارے لوگ اچھے ہیں۔“
میں پاگل ہو گئی ہوں نا تو مجھے میرے میکے بھیج دو۔ خاور جل کر جواب دیتا۔ میکا میکا سن سن کر میں تنگ آگیا ہوں۔ بڑی ریاست ہے نا تمہارے میکے میں ۔ وہاں جا کر عیش کرو گی۔
تمہاری بلا سے میں عیش کروں یا فاقے کاٹوں تم سے شکایت کرنے نہیں آؤں گی۔
ہاں تو پھر ضرور جاؤ۔ مجھے بھی دیکھنا ہے کہ تمہارا وہاں کتنے دن گزارا ہو گا۔ تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ تمہارے ابا جان شہر بھر کے مقروض ہیں اور نجانے کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ رات دن جوا کھیلتے ہیں۔ یہ سن کر ماجد و رورو کر سارا گھر سر پر اٹھا لیتی۔ خبر دار جو ایک لفظ بھی میرے میکے والوں کے خلاف کہا۔ جیسے تمہارے گھر میں تو دھن برس رہا ہے۔ دو نکے کی نوکری پر بڑا گھمنڈ ہے تمہیں۔
بس اب خاموش ہو جاؤ۔ خاور غصے سے کہتا مگر وہ بڑبڑاتی رہتی۔ اسے بے سکون کرنے کے لیے کوئی کسر نہ اٹھار کھتی اور اس طرح وہ چھوٹا ساکنبہ جہنم بن کر رہ گیا۔
ماجدہ کے یہاں دو بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بچوں کو فاخرہ نے اپنی جان سے بڑھ کر چاہا۔ موسم سرما کی برفیلی راتوں میں اٹھ اٹھ کر وہ روتے ہوئے بچوں کو لوریاں سنا سنا کر اپنے کلیجے سے لگا کر ٹھیک ٹھیک کر سلاتی۔
جب بچے بڑے ہوئے اور دادی کے پاس آتے تو فاخرہ انہیں فوراً محبت سے اپنے کلیجے سے لگا لیتی۔ مٹھائیاں اور بسکٹ دیتی تو ماجدہ ناک بھویں چڑھا کر ساس سے کہتی۔ آپ میرے بچوں کی عادتیں نہ بگاڑے۔ مجھے یہ چونچلے بازیاں اچھی نہیں لگتیں۔
اس لمحے فاخرہ کی آنکھیں بے اختیار برس پڑتیں۔ یہ بچے کیا اس کے اپنے نہیں تھے ….؟ اسے کیا اتنا بھی حق نہ تھا کہ وہ انہیں پیار کرتی …. ؟ کیا اس کی حیثیت بہو کی نظر میں محض ایک کنیز کی سی تھی….؟ جس کا کام صرف خدمت گزاری سے زیادہ نہ تھا۔ مگر اس نکتے اور ان جذبات کو سمجھنے سے قاصر تھی۔
ایک دن ایک بڑی روح فرما اور درد ناک خبر آئی۔ دوسرے بچے کی ولادت میں فاخرہ کی ملکہ گزر گئی تھی۔ جس نے فاخرہ کو زندہ درگور کر دیا۔ اس کی کشتی زیست طوفان کی نذر ہو گئی۔ فارغ البالی اور راحت کی زندگی تو اسے پہلے بھی کبھی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ مگر اب آنسو اس کی بربادی اور تباہی کی خاموش دستان بن گئے۔
ملکہ کی بے وقت موت اس کی زندگی کا آخری عظیم صدمہ نہ تھا۔ بلکہ اب تو اس کے غموں کی ابتداء ہوئی تھی۔ سبھی کو فاخرہ سے ہمدردی تھی۔ اپنے و پرائے اس کے غم میں شریک تھے سوائے ایک ماجدہ کے ۔ اس چہرے پر اس سانحے کا کہیں گزر تک نہ تھا۔ اس کے رویے میں اب بھی نرمی اور ہمدردی کا فقدان تھا۔ گھر کے حالات ماجدہ کی آئے دن کی نوک جھونک اور تلخ مزاجی سے عاجز آکر خاور بغیر کسی سے کہے سے ایک دن چپ چاپ گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا۔ اس کے جانے سے والدین اور نڈھال ہو کر ٹوٹ گئے۔ ان کی رہی سہی توانائی اور اس تہہ خاک ہو گئی۔ عموں اور ممتا کی ماری ماں بلک بلک کر رولی۔ رضا سر اسمیگی کے عالم میں پریشان وسرگرداں جگہ جگہ خاور کو ڈھونڈتا پھرا مگر اس کا کہیں نشان نہ ملا۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ آئے دن کی جھک جھک اور لڑائیوں سے تنگ آکر خاور چلا گیا ہے۔ مگر جب بھی اس نے بہو سے شکوہ نہیں کیا۔ بس اس کے عمر رسیدہ چہرے پر غموں کی گہری اداسی چھا گئی۔ ایک رات رضا کو دل کا شدید دورہ پڑا کہ وہ سوتے کا سو تارہ گیا۔
شوہر کی موت نے فاخرہ کے رہے سہے ہوش و حواس اڑا دیے۔ اب وہ اپنے نصیب سے لڑتے لڑتے شل ہو گئی تھی۔ اسے اپنی زندگی کے خالی، بے مقصد اور لاحاصل ہونے کا احساس بے چین کر گیا۔ اتنے عرصے سے وہ کسی نہ کسی طرح زندگی کا سفر طے کر رہی تھی مگر اب تو سانس لینے سے بھی اذیت ہونے لگی تھی، ہر امید ہر اس ٹوٹ چکی تھی۔ اب اس کے چاہنے والوں میں سے وہاں کوئی نہ تھا۔ سوائے غموں اور آنسوؤں کے۔ بچے بھی اس کے ہر وقت کے رونے اور آہیں بھرنے سے اس سے دور بھاگتے تھے۔
ایک رات اس کے رونے کی آواز سن کر ماجدہ جاگ اٹھی تو اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ بلند آواز سے بگڑ کر بولی۔ آپ کا ہر وقت کا رونا سنتے سنتے میرے کان پک گئے ہیں۔ آپ کا گھر تو اجڑ گیا اور اب آپ میرے گھر میں ہر وقت رورو کر منحوست پھیلا رہی ہیں۔
ماجدہ کے الفاظ تیر کی طرح فاخرہ کے دل کو چھلنی کر گئے۔ اس کا سارا جسم لرز اٹھا۔ صدمے کے ایک پل نے سارے واقعے کی نوعیت اس پر عیاں کر دی۔
اس نے فیصلہ کیا …. کہ اب وہ اس گھر میں ایک سیکنڈ بھی نہیں ٹھہرے گی۔ اب وہاں کی ہر چیز پرائی تھی…. ہر شے سے غیریت ٹپک رہی تھی۔ جن کے کارن اس نے عمر بھر دکھ ہے۔ غم اٹھائے اور الفاظ کے نشتر برداشت کیے تھے۔ وہ سب کے سب بچھڑ چکے تھے اب وہاں …. اس کے لیے صرف ذات اور دل شکنی رہ گئی تھی ….. اس کے چاروں طرف ویرانی سمٹ آئی …. آنکھ کے سامنے سے اندھیرے کا ریلا تیزی سے گزر گیا….
فاخرہ جس کی زندگی کا ہر لمحہ نیکیوں، اطاعت، صداقت اور عبادت میں گزرا تھا۔ آج پہلی مرتبہ اپنے پالنے والے سے بلک بلک کر پوچھ رہی تھی کہ۔ بے عزتی اور دکھوں کی زندگی جو میں بھگت رہی ہوں۔ یہ میرے کس گناہ عظیم کی سزا ہے….؟ یہ تیراکیسا امتحان ہے کہ اس ضعیفی میں تو نے مجھ سے میر اہر سہارا ہر اس چھین لی ….؟ مگر آج سوال میری غیرت نفس، آن اور ظرف کا آگیا ہے جو ناقابل برداشت ہے مجھے معاف کر دینا میرے معبود۔ وہ لرزتے اور لڑکھڑاتے قدموں سے اٹھی۔ کسی شے سے ٹھوکر کھا کر گرتے گرتے بچی۔ پلنگ سے چادر اٹھا کر اوڑھی۔ بڑی پاس و حسرت سے اس کمرے کو دیکھا جہاں اس کے پوتے پوتی محمو خواب تھے۔ آنگن پار کر کے دروازے کی چوکھٹ پر پاؤں رکھ کر اس نے آخری مرتبہ مڑ کر ایک الوداعی نگاہ اس گھر کے دروبام پر ڈالی جہاں اس کی زندگی کے اچھے اور دکھ کے دن گزرے تھے۔ اس گھر میں وہ زر تار سرخ کپڑوں میں دلہن بنی، عطر و پھولوں سے مہکتی آئی تھی۔ یہیں خاور اور ملکہ کی ولادت ہوئی تھی۔ خاور اور ملکہ کی شادی پر شہنائیاں بھی تھیں اور ملکہ کی موت پر اس نے انہی دیواروں سے اپنا سر ٹکرایا تھا اور رضا کی موت پر اپنے سہاگ کی چوڑیاں توڑی تھیں۔ اس کا پہلی مرتبہ جی چاہا کہ چھینیں مار کر وہ روئے لیکن بڑے ضبط و تحمل سے اپنے کو سنبھالا اور دروازہ کھول کر سڑک پر نکل گئی۔
چار دن بعد گومتی سے ایک ضعیفہ کی بے حد شکستہ حالت میں چادر سے لپٹی لاش برآمد ہوئی۔ لیکن یہ شناخت نہ ہو سکی کہ وہ عورت کون تھی مگر ماجدہ جانتی تھی کہ وہ لاش کس کی تھی ….!
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2018
![]()

