Daily Roshni News

نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )نگاہِ عشق و مستی میں وہی اوّل، وہی آخر

 وہی قُرآں، وہی فُرقاں، وہی یٰسیں، وہی طٰہٰ

تشریح:اگر عشق و مستی کی نگاہ سے دیکھا جائے تو آپ ﷺ کی ذاتِ پاک اول بھی ہے اور آخر بھی۔

اول تو اس طرح کہ دنیا و آخرت ہر جگہ سب سے اول ہی ہیں۔ سب سے پہلے آپ  ﷺ کا نور پیدا ہوا جیسا کہ فرمایا اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہ  نُوࣿرِیࣿ۔ سب سے پہلے نبوت آپ ﷺ کو عطا ہوئی خود فرماتے ہیں کُنࣿتُ نَبِیًّا وَّ اٰدَمُ بَیࣿنَ الطِّیࣿنِ والࣿمَاء ہم اس وقت نبی تھے جب حضرت آدم اپنی آب و گل میں جلوہ گر تھے۔ میثاق کے دن اَلَسࣿتُ بِرَبِّکُمࣿ کے جواب میں سب سے پہلے بلیٰ فرمانے والے حضور ﷺ ہی ہیں۔ بروز قیامت سب سے پہلے آپ ﷺ کی قبرِ انور کھولی جائے گی۔ بروز قیامت اول حضور ﷺ کو سجدہ کا حکم ملے گا۔ سب سے پہلے حضور ﷺ شفاعت فرمائیں گے۔ اور شفاعت کا دروازہ حضور ﷺ ہی کے دست اقدس پر کھلے گا۔ اول حضور ﷺ ہی جنت کا دروازہ کھلوائیں گے۔ اول حضور ﷺ ہی جنت میں تشریف فرما ہوں گے بعد میں تمام انبیاء۔ پہلے حضور ﷺ ہی کی امت جنت میں جائے گی بعد میں باقی امتیں، غرضیکہ ہر جگہ اولیت کا سہرا ان ہی کے سر پر ہے۔

اس قدر اولیت کے باوجود پھر آپ ﷺ آخر بھی ہیں۔ سب سے آخر حضور ﷺ کا ظہور ہوا خاتم النبین آپ ہی کا لقب ہوا۔ سب سے آخر حضور ﷺ ہی کو کتاب ملی۔ سب سے آخر حضور ﷺ ہی کا دین آیا۔ سب سے آخر دن قیامت تک حضور ﷺ ہی کا دین رکھا گیا ہے۔

آپ ﷺ کا قلبِ مطہر مہبطِ وحی ہے، اس لیے آپ ﷺ قرآن (باطنی) بھی ہیں۔ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ قرآن کی عملی تفسیر ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کَانَ خُلقہُ القران یعنی آپ ﷺ کو اگر سیرت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو آپ ﷺ مجسم قرآن ہیں۔

آپ ﷺ کی ذات مبارک چونکہ معیار حق و باطل ہے اس لیے آپ ﷺ کو فرقان بھی کہہ سکتے ہیں یعنی حق اور باطل کے درمیان امتیاز کرنے والا۔ اور قرآن میں اللّٰہ ﷻ نے آپ ﷺ کو یٰسین اور طٰہ کے مقدس القاب سے بھی نوازا ہے۔

حوالہ

کلام علامہ محمد اقبال

کتاب بالِ جبریل ( غزلیات حصہ دوم)

غزل نمبر ۱

تیسرا حصہ

Loading