Daily Roshni News

جھوٹا نبی، سچی موت تحریر ۔۔۔ حقیقت اور فسانہ ۔

🌙 جھوٹا نبی، سچی موت 💔

تحریر ۔۔۔ حقیقت اور فسانہ ۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی  نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر ۔۔۔ حقیقت اور فسانہ )یمن کے پہاڑوں میں ایک ایسا طوفان اٹھا جس نے پوری جزیرہ نما عرب کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ طوفان ہوا کا نہیں تھا، بلکہ فتنے کا تھا۔ اس کی آندھی میں ایک شخص تھا، جس کا نام تھا اسود عنسی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب مدینہ منورہ میں آفتاب رسالت ﷺ کی شعاعیں پوری دنیا کو منور کر رہی تھیں۔ لیکن جہاں نور ہوتا ہے، وہاں اندھیرے بھی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسود عنسی نے یہی کیا۔ وہ یمن کا باسی تھا، جادو اور شعبدہ بازی میں اسے غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔

اس کا پورا نام عہیلہ بن کعب تھا، لیکن وہ اپنے گھوڑے کی سیاہی اور چہرے کے مہیب رنگ کی وجہ سے “اسود” کہلاتا تھا۔ لوگ اس کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر کانپ جاتے تھے۔ وہ اپنی گھٹی ہوئی آواز اور پراسرار حرکات سے لوگوں کے ذہنوں پر جادو کر دیتا تھا۔

نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں میں یہ سب سے پہلا تھا جو خود سرکار دو عالم ﷺ کی حیات مبارکہ میں میدانِ باطل میں اترا۔

اس کا طریقہ کار انتہائی عجیب تھا۔ وہ لوگوں سے کہتا، “مجھے اللہ نے نبی بنا کر بھیجا ہے۔” اور پھر لوگوں کو دکھانے کے لیے وہ چالیں چلتا۔ ایک بار اس نے ایک کنویں میں کھانا ڈال دیا، پھر لوگوں کو بتایا کہ آسمان سے کھانا برسا ہے۔ سادہ لوح اور جاہل لوگ اس کے جھانسے میں آ جاتے۔

مگر یمن کے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقت کو پہچانتے تھے۔ ان کے دلوں میں نبی کریم ﷺ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ انہیں یہ خبر پہنچی تو ان کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کیسا جرات مند ہے یہ اسود، جو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے؟

اسود عنسی نے پہلے نجران پر قبضہ کیا۔ پھر اس کی نظر صنعاء پر پڑی۔ اس نے اپنا لشکر تیار کیا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی عظاد بھی تھی، جو اس کی ہر حرکت میں شریک تھی۔ وہ اسے نہ صرف بیوی بلکہ ساتھی سمجھتی تھی۔ لیکن جلد ہی اسے بھی حقیقت کا پتہ چلنا تھا۔

صنعاء کا گورنر شہر بن باذان تھا۔ وہ ایک مضبوط اور باکمال حکمران تھا۔ جب اسے پتہ چلا کہ اسود عنسی شہر کی طرف بڑھ رہا ہے تو اس نے مقابلے کی تیاری کی۔ مگر اسود کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ وہ اپنے جادو اور فریب سے لوگوں کے دل جیت لیتا تھا۔

ایک رات اسود نے صنعاء پر حملہ کر دیا۔ شہر باذان کے سپاہی بھاگ کھڑے ہوئے۔ شہر باذان خود اپنے محل میں محصور ہو گیا۔ اسود نے اسے گرفتار کر کے قتل کر دیا۔ یوں یمن کا طاقتور ترین گورنر اس جھوٹے نبی کے ہاتھوں مارا گیا۔

اس کے بعد اسود کی طاقت ساتویں آسمان پر پہنچ گئی۔ اس نے اپنی حکومت کا اعلان کر دیا۔ لوگ خوف سے اس کے سامنے جھکنے لگے۔ اس کی بیوی عظاد کو اس کی چالوں پر پورا یقین تھا۔ وہ اسے سچا نبی سمجھتی تھی۔

مگر اسود کے ظلم کی کوئی حد نہ تھی۔ وہ کسی کو امان نہیں دیتا تھا۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لوگوں کو ذلیل کیا۔ عورتوں کی عزتیں لوٹیں۔ مال و دولت ضبط کر لی۔ جو بھی اس کے سامنے سر نہ جھکاتا، اس کی گردن اڑ جاتی۔

یمن کے دیہاتوں میں آہ و بکا تھی۔ ہر گھر میں ماتم تھا۔ لوگ چپکے چپکے دعائیں مانگ رہے تھے کہ یا اللہ، اس فتنے کو ختم کر دے۔

ادھر مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کو یہ سب خبریں پہنچ رہی تھیں۔ آپ ﷺ کو اسود عنسی کے ظلم کی ہر تفصیل معلوم تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا، “یمن میں ایک فتنہ اٹھا ہے۔ یہ اسود کذاب ہے۔ عنقریب یہ اللہ کے عذاب میں آ جائے گا۔”

یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں میں اطمینان آ گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی یہ پیشین گوئی ضرور پوری ہو گی۔

اسود عنسی نے اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لیے ہر طرف اپنے جاسوس بھیج رکھے تھے۔ اسے پتہ چلا کہ اس کی ہی قوم میں کچھ لوگ اس کے خلاف بغاوت کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان میں ایک شخص تھا فیروز دیلمی۔ وہ ایک بہادر اور دانا جوان تھا۔ اس کا دل اسلام کی روشنی سے منور تھا۔

فیروز دیلمی نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا۔ ان میں قیس بن عبد یغوث، اور دادہ بن عجردان شامل تھے۔ ان سب نے مل کر فیصلہ کیا کہ اس جھوٹے نبی کا خاتمہ کیا جائے گا۔

انہوں نے اسود کی بیوی عظاد سے رابطہ کیا۔ عظاد اب اپنے شوہر کی حقیقت سمجھ چکی تھی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ اسود جادوگر ہے، نبی نہیں۔ اس کا دل بدل چکا تھا۔

فیروز نے عظاد سے کہا، “اگر تم سچ مچ مسلمان ہو تو ہماری مدد کرو۔ ہمیں اسود کے محل کا راستہ دکھاؤ۔”

عظاد نے کہا، “میں تمہاری مدد کروں گی۔ لیکن خبردار، وہ بہت طاقتور ہے۔ اس کے پاس جادو ہے۔ تمہیں بڑی چالاکی سے کام لینا ہو گا۔”

ایک اندھیری رات کا وقت تھا۔ فیروز اور اس کے ساتھی چپکے چپکے اسود کے محل کے قریب پہنچے۔ عظاد نے انہیں اندر جانے کا خفیہ راستہ بتایا۔

محل کے اندر اسود اپنے تخت پر بیٹھا تھا۔ اس کے گرد محافظ کھڑے تھے۔ لیکن عظاد نے محافظوں کو شراب پلا کر بے ہوش کر دیا تھا۔

فیروز نے آہستہ سے پردہ اٹھایا۔ اسود اپنے کمرے میں سو رہا تھا۔ وہ گہری نیند میں تھا، کیونکہ اسے کسی خطرے کا گمان تک نہ تھا۔

فیروز نے اپنے ساتھیوں سے کہا، “یہ وہی شخص ہے جس نے اللہ کے نبی ﷺ کی توہین کی ہے۔ یہ وہی ہے جس نے لوگوں پر ظلم ڈھائے ہیں۔”

پھر انہوں نے اسود پر وار کیا۔ اس کے چیخنے کی آواز محل میں گونجی۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اسود عنسی اپنے جادو اور شعبدہ بازی کے باوجود اپنی جان نہ بچا سکا۔

اس کے ساتھیوں نے جب دیکھا کہ ان کا جھوٹا نبی مر چکا ہے تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ لیکن فیروز اور اس کے ساتھی پہلے ہی محل کے دروازے بند کر چکے تھے۔

جب صبح ہوئی تو صنعاء کی گلیوں میں اعلان کر دیا گیا، “اسود کذاب مر چکا ہے۔ اب تم سب آزاد ہو۔”

لوگوں کو یقین نہ آیا۔ وہ گھروں سے نکل کر محل کے سامنے جمع ہو گئے۔ جب انہوں نے اسود کی لاش دیکھی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ لیکن یہ آنسو رحم کے نہیں، خوشی کے تھے۔

کچھ لوگ روتے ہوئے کہہ رہے تھے، “یا اللہ، تو نے ہمیں اس ظالم سے نجات دے دی۔”

اسی دن فیروز دیلمی نے خط لکھ کر مدینہ منورہ بھیجا۔ اس خط میں اس نے پوری تفصیل لکھ دی کہ اسود کذاب کو کیسے ہلاک کیا گیا۔

یہ خط جب مدینہ پہنچا تو نبی کریم ﷺ کی طبیعت مبارک ناساز تھی۔ لیکن جیسے ہی خط کی خبر آپ ﷺ تک پہنچی، آپ ﷺ نے فرمایا، “اللہ اکبر! یمن کا فتنہ ختم ہو گیا۔”

پھر آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا، “مجھے یقین ہے کہ اسود کذاب فلاں رات کو ہلاک کیا گیا ہے۔”

صحابہ نے حیرت سے پوچھا، “یا رسول اللہ ﷺ، آپ کو کیسے پتہ چلا؟”

آپ ﷺ نے فرمایا، “مجھے اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ اسود کذاب ہلاک کر دیا گیا ہے۔”

یہ سن کر سب نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ چند روز بعد فیروز دیلمی کا خط آیا تو اس میں جو تاریخ تھی، وہ بالکل وہی رات تھی جس کا نبی کریم ﷺ نے ذکر کیا تھا۔

یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ جھوٹ اور باطل کی بنیاد کبھی مضبوط نہیں ہوتی۔ اسود عنسی نے نبوّت کا جھوٹا دعویٰ کیا، اس نے لوگوں کو جادو سے بہکایا، اس نے ظلم و جبر سے حکومت کی، مگر اس کا انجام کچھ نہ تھا۔

اس کی بیوی عظاد نے خود اس کے خلاف ہاتھ بٹایا۔ اس کے ساتھی اسے تنہا چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس کا جادو اس کے کام نہ آیا۔ اس کی طاقت اس کے کام نہ آئی۔

یہ سنتِ الٰہی ہے کہ ظالم جتنا بھی طاقتور ہو، اس کا انجام تباہی ہوتی ہے۔ اور جو اللہ کے نبی ﷺ کی توہین کرے، اس کی ذلت دنیا میں ہی کر دی جاتی ہے۔

اسود عنسی کا انجام ایک عبرتناک داستان ہے۔ ایک ایسے شخص کی داستان جس نے آنکھوں دیکھا جادو اور فریب کو اپنا ہتھیار بنایا، مگر حقیقت کو نہیں بھولا جا سکتا۔ حقیقت یہ تھی کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔

اسود عنسی نے اپنی جھوٹی نبوّت کے ذریعے دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں تو حاصل کر لیں، مگر اس کی جان بچانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔

وہ رات جب اس کی لاش صنعاء کے محل کے اندر پڑی تھی، وہ رات تاریخ کی سب سے بڑی عبرت بن گئی۔

ایک جھوٹا نبی، جس کے سامنے ہزاروں لوگ جھک رہے تھے، آج اس کی اپنی بیوی نے اس کے خلاف سازش کی۔ اس کے اپنے محافظ اسے بھول گئے۔ اس کا اپنا جادو اس کی پناہ نہ بن سکا۔

🌙

خلاصہ یہ کہ :

باطل چاہے کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اس کی عمارت کبھی پائیدار نہیں ہوتی۔ سچائی کے سامنے ہر جھوٹ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ اسود عنسی کا انجام یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ کی توہین کرنے والا دنیا میں بھی ذلیل ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔

اس کہانی نے آپ کے دل کو چھوا تو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

ایسی اور تاریخی کہانیوں کے لیے، ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو ضرور فالو کریں۔

اگر آپ نے یمن یا تاریخ اسلام کے ایسے واقعات پڑھے ہیں تو تبصرے میں ضرور بتائیں۔

Loading