Daily Roshni News

لمحۂ فکریہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )  هَلْ نَحْنُ مُسْلِمُونَ ؟               (کیا ہم مسلمان ہیں؟)

ابتدائی کلمات:زیرِ نظر مضمون محض ایک تحریر نہیں بلکہ ایک سنجیدہ دعوتِ فکر ہے۔ راقم الحروف نے نہایت دردمندی کے ساتھ موجودہ مسلم معاشرے کی دینی کیفیت، عبادات کی حقیقت، اور ایمان کے عملی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ اس مضمون میں بیان کردہ نکات ہر صاحبِ ایمان کے لئے آئینہ ہیں، جن میں وہ اپنی دینی حالت کو دیکھ سکتا ہے۔ بالخصوص آخر میں مذکور احادیث کی روشنی میں یہ مضمون مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جو ہمارے حال پر صادق آتی محسوس ہوتی ہیں۔

   کئی دہائیوں قبل کی بات ہے کہ میں نے ایک مصری عالم محمد قطب (1919ء-2014ء) کی ایک کتاب پڑھی تھی، جس کا نام یہ تھا:

               هَلْ نَحْنُ مُسْلِمُونَ ؟

             (کیا ہم مسلمان ہیں؟)

اس کتاب کا مکمل مضمون تو اب ذہن میں نہیں رہا، مگر اس کا عنوان آج بھی ایک زندہ سوال بن کر سامنے کھڑا ہے: کیا واقعی ہم مسلمان ہیں؟ جب بھی میں اس سوال پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرتا ہوں تو سب سے پہلے علامہ اقبال کی کتاب “بانگِ درا” کی نظم “جوابِ شکوہ” کے یہ اشعار ذہن میں گونج اٹھتے ہیں:

  شور  ہے  ،  ہوگئے  ،   دنیا   سے  مسلمان  نا بود

  ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود

  وضع  میں  تم  ہو  نصاریٰ  تو  تمدن  میں  ہنود

  یہ مسلمان  ہیں  جنہیں  دیکھ  کے شرمائے یہود

  یوں تو سید بھی ہو ، مرزا بھی ہو،افغان بھی ہو

  تم  سبھی کچھ  ہو ، بتاؤ تو مسلمان  بھی  ہو ؟

   ایک صدی پہلے کہے گئے یہ اشعار آج بھی ہمارے سامنے وہی سوال رکھتے ہیں کہ خود کو مسلمان کہنے والے اسلام پر کس حد تک عمل پیرا ہیں؟ کیا اسلام کا کوئی حقیقی اثر ہماری زندگیوں میں نظر آتا ہے؟ اس کا جواب اقبال ہی کے اس شعر میں ملتا ہے:

    قلب میں سوز نہیں، روح میں احساس نہیں

    کچھ بھی پیغامِ محمد ﷺ تمہیں پاس نہیں

   حقیقت یہ ہے کہ آج مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد محض موروثی طور پر مسلمان ہے۔ ان کے عقائد اور اعمال میں اسلام کی جھلک کم ہی دکھائی دیتی ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور دیگر عبادات رسمی حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ رمضان المبارک میں مساجد آباد ہوتی ہیں، مگر جونہی رمضان ختم ہوتا ہے، صفیں سکڑ جاتی ہیں اور نمازی غائب ہونے لگتے ہیں۔

     یہ صورت حال اس بات کی علامت ہے کہ عبادت ہمارے ہاں روح سے خالی ایک رسم بن چکی ہے۔ لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ چند دنوں کی عبادت سال بھر کے گناہوں کے لیے کافی ہے۔ حالانکہ دین ایک مسلسل ذمہ داری ہے، نہ کہ موسمی عمل۔

   مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ قرآن، حدیث اور سیرت کا براہِ راست مطالعہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ لوگ دین کو سمجھنے کے بجائے محض سنی سنائی باتوں پر اکتفا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ پڑھے لکھے افراد بھی، جو دنیاوی علوم میں مہارت رکھتے ہیں، اکثر قرآن کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کرتے۔ ان کی زندگی کا محور صرف دنیاوی کامیابی رہ جاتا ہے۔

اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کے مشن سے واقفیت بھی نہایت سطحی رہ گئی ہے۔ لوگ آپ کو نبی تو مانتے ہیں، مگر آپ کی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں جگہ نہیں دیتے۔

یہی وہ پس منظر ہے جسے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام نے پہلے ہی بھانپ لیا تھا اور اس حوالے سے ایسی پیشنگوئیاں بیان کیں جو آج ہمارے سامنے حقیقت بن کر کھڑی ہیں۔

  اسے چنانچہ سلسلہ میں مشہور صحابی سیدنا عبداللہ بن عمرو کی یہ پیشنگوئی نہایت غور طلب ہے ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ، يَجْتَمِعُونَ فِي الْمَسَاجِدِ، وَلَيْسَ فِيهِمْ مُؤْمِنٌ۔

( المستدرك للحاكم : كتاب الفتن والملاحم : رقم الحديث 8365/ إسناده صحيح)

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں: یقیناً لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مسجدوں میں جمع ہوں گے، لیکن ان میں (حقیقی معنوں میں) کوئی مومن نہیں ہوگا۔

    اس پیشنگوئی کا مفہوم یہ ہے کہ عبادات کی ظاہری صورت باقی رہے گی، مگر اس کی روح، یعنی ایمان، اخلاص اور خشوع ختم ہو جائے گا۔ لوگ مسجدوں میں تو ہوں گے، مگر ان کے دل دنیا میں گم ہوں گے۔ عبادت ایک عادت بن جائے گی، نہ کہ اللہ سے تعلق کا ذریعہ۔

اسی طرح سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت امت مسلمہ کے حکمرانوں کے حوالے سے تدریجی زوال کی ایک اور تصویر پیش کرتی ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «يَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَتْرُكُونَ مِنَ السُّنَّةِ مِثْلَ هَذَا – وَأَشَارَ إِلَى أَصْلِ إِصْبَعِهِ – وَإِنْ تَرَكْتُمُوهُمْ جَاءُوا بِالطَّامَّةِ الْكُبْرَى، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ أُمَّةٌ إِلَّا كَانَ أَوَّلُ مَا يَتْرُكُونَ مِنْ دِينِهِمُ السُّنَّةُ، وَآخِرُ مَا يَدَعُونَ الصَّلَاةُ، وَلَوْلَا أَنَّهُمْ يَسْتَحْيُونَ مَا صَلُّوا»

 ( المستدرك للحاكم : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ : رقم الحديث 8584 )

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو اتنی اتنی سنت چھوڑیں گے ۔ یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنی انگلی کی جڑ کی طرف اشارہ کیا ۔ اور اگر تم ان کو (اس پر) چھوڑ دو گے تو بڑی عام مصیبت آئے گی ۔ وہ امت سب سے پہلے سنتوں کو چھوڑے گی ، اور ان کی انتہا ، نماز چھوڑنے پر ہو گی ۔ اور اگر ان کو حیاء کا معاملہ درپیش نہ ہو تو وہ نماز نہیں پڑھیں گے ۔

   یہ پیشنگوئی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ دین کا زوال اچانک نہیں آتا بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ ابتدا سنتوں کو معمولی سمجھ کر چھوڑنے سے ہوتی ہے، پھر یہی بے توجہی بڑے فرائض تک پہنچ جاتی ہے۔ جب معاشرہ برائی کو معمولی سمجھ کر برداشت کرنے لگے تو فساد عام ہو جاتا ہے۔

ان دونوں پیشنگوئیوں کو اگر موجودہ حالات پر منطبق کیا جائے تو ایک واضح تصویر سامنے آتی ہے: ایک طرف مساجد میں ہجوم ہے مگر ایمان کی کیفیت مفقود، اور دوسری طرف سنتوں سے غفلت بڑھتے بڑھتے دینی اساس کو کمزور کر رہی ہے۔

   گویا ایک پیشنگوئی ایمان کی باطنی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، اور دوسری دین کے عملی زوال کو۔ دونوں مل کر امت کے اس بحران کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں جس سے ہم گزر رہے ہیں۔

اس لئے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہمیں دعوت فکر دیتا ہے ۔

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ كَآفَّـةً ۖوَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ اِنَّهٝ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ۔

                ( البقرہ : 208)

اے ایمان والو ! اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے راستوں پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔

مولانا ابوالکلام آزاد نے اس آیت کا جو جامع تفسیری نوٹ لکھا ہے ، اس کے آخری یہ الفاظ بھی نہایت غور طلب ہیں ۔

” ایمان کی برکتیں اور سعادتیں حاصل کرنے کے لیے صرف یہی کافی نہیں کہ اسلام کے دائرے میں اجاؤ بلکہ چاہیے کہ پوری طرح اجاؤ یعنی اعتقاد و عمل کے ہر گوشے میں ایمان کی روح تمہارے اندر پیدا ہو جائے اور عصر تاپا پیکر ایمان ہو جاؤ “

      ( ترجمان القرآن : ج 1 ، ص 317)

  خلاصہ یہ ہے کہ آج کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ ہم مسلمان ہونے کے دعوے میں کتنے سچے ہیں۔ اگر ایمان دل میں زندہ نہیں، عبادت میں اخلاص نہیں، اور زندگی میں سنت کا اثر نہیں، تو ہمیں سنجیدگی سے اپنے حال کا جائزہ لینا ہوگا۔

نجات کا راستہ یہی ہے کہ ہم دین کو رسم نہیں بلکہ حقیقت بنائیں، قرآن و سنت سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اور اپنی زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جب ہم ظاہراً مسلمان ہوں گے، مگر حقیقت میں دین ہم سے دور ہو چکا ہوگا۔

                    و ما علینا الا البلاغ

                                    __________________________

Loading