Daily Roshni News

🌙 حضرت صفوان بن امیہؓ کے قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ 🌙

🌙 حضرت صفوان بن امیہؓ کے قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ 🌙

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )حضرت عبداللہ بن زبیرؓ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن صفوان بن امیہ کی بیوی حضرت بغوم بنت معدل مسلمان ہوگئیں۔ ان کا تعلق قبیلہ کنانہ سے تھا، لیکن خود صفوان بن امیہ مکہ سے بھاگ کر ایک گھاٹی میں جا چھپے تھے۔ ان کے ساتھ صرف ان کا غلام یسار تھا۔ انہوں نے کہا: “تیرا ناس ہو! دیکھو کون آرہا ہے؟” اس نے کہا: “یہ عمیر بن وہب ہیں۔” صفوان کہنے لگے: “میں عمیر کے ساتھ کیا کروں؟ اللہ کی قسم! یہ تو مجھے قتل کرنے کے ارادے سے آرہے ہیں، کیونکہ انہوں نے میرے خلاف محمد ﷺ کی مدد کی ہے۔”

اتنے میں حضرت عمیر وہاں پہنچ گئے۔ صفوان نے کہا: “اتنا کچھ میرے ساتھ کرنے کے بعد بھی تمہیں چین نہ آیا؟ تم نے اپنے قرض اور اہل و عیال کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی، میں نے سب برداشت کیا، اور اب تم مجھے قتل کرنے آگئے ہو؟”

حضرت عمیرؓ نے کہا: “اے ابو وہب! میں تم پر قربان ہوں، میں تمہارے پاس ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو سب سے زیادہ نیک، سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔”

حضرت عمیرؓ نے پہلے حضور ﷺ سے عرض کیا تھا: “یا رسول اللہ! میری قوم کا سردار صفوان سمندر میں چھلانگ لگانے کے لیے بھاگ گیا ہے، کیونکہ اسے ڈر ہے کہ آپ اسے امان نہیں دیں گے۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ اسے امان عطا فرمادیں۔”

حضور ﷺ نے فرمایا: “میں نے اسے امان دے دی۔”

چنانچہ حضرت عمیرؓ صفوان کی تلاش میں نکلے اور کہا: “رسول اللہ ﷺ نے تمہیں امان دے دی ہے۔”

صفوان نے کہا: “میں اللہ کی قسم تمہارے ساتھ مکہ واپس نہیں جاؤں گا، جب تک تم کوئی ایسی نشانی نہ لاؤ جسے میں پہچانتا ہوں۔”

حضرت عمیرؓ واپس آئے اور حضور ﷺ سے نشانی طلب کی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: “میرا عمامہ لے جاؤ۔”

یہ وہی دھاری دار عمامہ تھا جسے باندھ کر حضور ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے۔

حضرت عمیرؓ دوبارہ صفوان کے پاس گئے اور کہا: “اے ابو وہب! میں تمہارے پاس ایسے انسان کے پاس سے آیا ہوں جو سب سے زیادہ نیک، بردبار اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ ان کی عزت تمہاری عزت ہے، ان کی شرافت تمہاری شرافت ہے، اور ان کا ملک تمہارا ملک ہے۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ سے ڈرو۔”

صفوان نے کہا: “مجھے اپنے قتل کا خوف ہے۔”

حضرت عمیرؓ نے جواب دیا: “رسول اللہ ﷺ تمہیں اسلام کی دعوت دے رہے ہیں، اگر قبول کرو تو بہتر، ورنہ تمہیں دو ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔ اور یہ عمامہ دیکھو جسے تم پہچانتے ہو۔”

صفوان نے کہا: “ہاں! یہ وہی ہے۔”

چنانچہ صفوان حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس وقت آپ ﷺ مسجدِ حرام میں عصر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ نماز کے بعد صفوان نے بلند آواز میں کہا:

“اے محمد! عمیر بن وہب آپ کا عمامہ لے کر آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ نے مجھے بلایا ہے، اگر میں اسلام قبول کروں تو ٹھیک، ورنہ دو ماہ کی مہلت ہے۔”

حضور ﷺ نے فرمایا: “اے ابو وہب! نیچے اتر آؤ۔”

انہوں نے کہا: “میں اس وقت تک نہیں اتروں گا جب تک آپ واضح نہ فرمادیں۔”

آپ ﷺ نے فرمایا: “دو نہیں، بلکہ چار ماہ کی مہلت ہے۔”

چنانچہ صفوان اتر آئے۔

اس کے بعد حضور ﷺ صحابہؓ کے ساتھ ہوازن کی طرف روانہ ہوئے اور صفوان بھی ساتھ گئے، حالانکہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے حضور ﷺ کو سو زرہیں بطور عاریت دیں۔ انہوں نے پوچھا: “آپ یہ خوشی سے لے رہے ہیں یا زبردستی؟”

آپ ﷺ نے فرمایا: “ہم عاریت لے رہے ہیں اور واپس کریں گے۔”

وہ غزوہ حنین اور طائف میں شریک رہے۔ پھر جب جعرانہ واپس آئے تو حضور ﷺ مالِ غنیمت کا جائزہ لے رہے تھے۔ صفوان بھی ساتھ تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ پوری وادی جانوروں اور مال سے بھری ہوئی ہے اور دیر تک اسے دیکھتے رہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا: “اے ابو وہب! کیا یہ پوری وادی اور اس کا مال تمہارا ہو؟”

یہ سن کر صفوان بول اٹھے: “اتنی بڑی سخاوت صرف نبی ہی کرسکتا ہے!”

اور فوراً کلمہ پڑھ لیا:

“میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں۔”

حضرت صفوانؓ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن حضور ﷺ نے ان سے زرہیں عاریت مانگیں۔ انہوں نے کہا: “کیا آپ چھین کر لینا چاہتے ہیں؟”

آپ ﷺ نے فرمایا: “نہیں، میں ذمہ داری پر لے رہا ہوں، اگر ضائع ہوئیں تو تاوان دوں گا۔”

چنانچہ کچھ زرہیں ضائع ہوگئیں۔ حضور ﷺ نے تاوان دینا چاہا تو صفوانؓ نے عرض کیا:

“یا رسول اللہ! اب میرے دل میں اسلام کی محبت ہے، مال کی نہیں۔”

📚 حوالہ: عبداللہ عزام | حیات الصحابہؓ

واللہ اعلم بالصواب۔ اگر تحریر میں کوئی کمی بیشی ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، آمین۔

دوستو…!!! اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ یا تحریر اچھی لگے تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچایا کریں۔ آپ کا ایک لمحہ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔ ہماری سپورٹ کے لیے پوسٹ اچھی لگے تو فالو ضرور کریں۔ ❤️

#Islam #SeeratUnNabi ﷺ #Sahaba #SahabaStories #SafwanBinUmayyah #FatahMakkah #RahmatulLilAlameen ﷺ #ForgivenessInIslam #MercyOfProphet ﷺ #IslamicHistory #StoryOfGuidance #PowerOfCharacter #TruthPrevails #FaithJourney #IslamForHumanity

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں

Loading