موضوع علم تصوف*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کسی علم کے موضوع کا تعین اس کے عوارضاتِ ذاتیہ کی بحث سے ہوتا ہے پس علم تصوف کا موضوع مکلفین کے احوال ہیں مگر مطلقاً احوال نہیں بلکہ اس حیثیت سے کہ کونسا فعل قرب الٰہی کا سبب بنتا ہے اور کونسا فعل اللہ سے دوری کا موجب۔ جیسا کہ علم طب میں موضوع بدن انسانی ہے لیکن مطلقاً بدن نہیں بلکہ مِنْ حَیْثُ الصِّحَّتِ وَالْمَرَضِ (صحت اور بیماری کی حیثیت سے)۔ پس علمِ تصوف میں بھی احوال مکلفین کے متعلق اللہ تعالیٰ کے قرب و بُعد کی حیثیت سے بحث ہوگی۔
*علمِ تصوف کی تعریف اور غایت*
ھُوَ عِلْمٌ تُعْرَفُ بِہٖ اَحْوَالُ تَزْکِیَۃِ النُّفُوْسِ وَ تَصْفِیَۃِ الاَخْلَاقِ وَ تَعْمِیْرِ الْبَاطِنِ وَالظَّاھِرِ لِنَیْلِ السَّعَادَۃِ الْاَبَدِیَّۃِ وَیَحْصِلُ بِہٖ اِصْلَاحُ النَّفْسِ وَالمَعْرِفَۃُ وَرَضَا ئُ الرَّبِّ وَمَوْضُوْعُہُ التَزْکِیَۃُ والتَّصْفِیَۃُ وَالتَّعْمِیْرُ الْمَذْکُوْرَاتِ وَغَایَتُہ’‘ نَیْل’ السَّعَادَۃِ الْاَبَدِیَّۃِ۔
تصوف وہ علم ہے جس سے تزکیہ نفوس اور تصفیہ اخلاق اور ظاہر و باطن کی تعمیر کے احوال پہچانے جاتے ہیں۔ تاکہ سعادت ابدی حاصل ہو نفس کی اصلاح ہواور رب العالمین کی رضا اور اسکی معرفت حاصل ہواور تصوف کا موضوع تزکیہ تصفیہ اور تعمیر باطن ہے اور اس کا مقصد ابدی سعادت کا حصول ہے۔
تعریف، موضوع اور غایت کا بیان اس لئے کیا گیا ہے کہ ہر علم کی شان ان امور سہ گانہ سے واضح ہو جاتی ہے اور ہماری غرض یہ ہے کہ تصوف و سلوک کا دین اسلام میں جو مقام اور مرتبہ ہے وہ ظاہر ہو جائے اور کسی کے لئے اس امر کی گنجائش نہ رہے کہ محض اس احتمال سے یہ علم ظنی ہے وہ اسے قابل اعتنا نہ سمجھے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ دین کے دوسرے شعبوں میں ہزاروں مسائل ایسے ہیں جن کی حیثیت ظنی مسائل کی ہے۔ انہیں قبول کرلینا اور علم تصوف میں صرف ظنی کا احتمال پیدا کرکے اسے چھوڑ دینا اور اس عقیدہ میں غلو کرنا علمی دیانت سے بعید ہے ایسا کرنا در حقیقت ارباب تصوف یعنی اولیاء اللہ سے عداوت کرنے کے مترادف ہے جس کے لئے مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہ‘ لِلْحَرْب (جس نے میرے ولی سے عداوت کی میں اس کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہوں) کی وعید موجود ہے اس لئے تصوف کے معاندین اپنی عاقبت کی فکر کریں۔
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جو شخص کسی فن میں مہارت نہیں رکھتا۔ اسے اس فن اور اہل فن پر تنقید کا حق نہیں پہنچتا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ فلاسفہ جنہیں علم و تحقیق پر بہت ناز ہے۔ جب تصوف پر بحث کرتے ہوئے مسئلہ کشف پر آتے ہیں تو ان کے لئے اس عاجزانہ اعتراف کے بغیر اور کوئی راستہ نہیں ملتا۔
ھٰذَا طَوْر’‘ وَرَائَ طَوْرِ الْعَقْلِ لَا ُیدْرِکُہُ اِلَّا اَصْحَابِ قُوَّۃَ الْقُدْسِیَۃَ
*تصوف کیا نہیں*
تصوف کے لئے نہ کشف و کرامات شرط ہے نہ دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے نہ تعویذ گنڈوں کا نام تصوف ہے نہ جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے۔ نہ مقدمات جیتنے کا نام تصوف ہے نہ قبروں پر سجدہ کرنے، ان پر چادریں چڑھانے اور چراغ جلانےکا نام تصوف ہے۔ اور نہ آنے والے واقعات کی خبر دینے کا نام تصوف ہے۔ نہ اولیاء اللہ کو غیبی ندا کرنا۔ مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا تصوف ہے۔ نہ اس میں ٹھیکیداری ہے کہ پیر کی ایک توجہ سے مرید کی پوری اصلاح ہو جائے گی اور سلوک کی دولت بغیر مجاہدہ اور بدون اتباعِ سنت حاصل ہو جائے گی۔ نہ اس میں کشف و الہام کا صحیح اترنا لازمی ہے اور نہ وجد و تواجد اور رقص و سرود کا نام تصوف ہے یہ سب چیزیں تصوف کا لازمہ بلکہ عین تصوف سمجھی جاتی ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کسی ایک چیز پر تصوف اسلامی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ ساری خرافات اسلامی تصوف کی عین ضد ہیں۔
📗✨دلائل السلوک
![]()

