Daily Roshni News

ایک انمول خواب

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ نے ایک خواب  دیکھا جو بظاہر اچھا نہ تھا‘ جبکہ زبیدہ بڑی عابدہ‘ زاہدہ‘ نیک اور اللہ والی خاتون تھیں۔  اس نے دیکھا کہ وہ  ایک چورا ہے پر ہیں   اور جو شخص آ رہا ہے ان  سے گناہ کا ارتکاب کر کے جا رہا ہے۔  ایک عابدہ زاہدہ خاتون کے لئے ایسا خواب نظر آنا بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جوں ہی انہوں نے یہ خواب دیکھا تو سخت پریشان ہو گئیں   اور اپنی خادمہ کو کہا کہ “تم میرا نام لئے بغیر اس خواب کو اپنی طرف منسوب کر کے وقت کے مایہ ناز معبر علامہ ابن سیرینؒ سے اس کی تعبیر پوچھو”۔ زبیدہ نے اپنا نام بتانے سے اس لئے منع کیا کہ نامعلوم اس قسم کے خواب کی کیا تعبیر ہو جو رسوائی کا سبب بن جائے۔

(((((ملکہ زبیدہ کی خدمت کے لئے ایک سو نوکرانیاں تھیں جن کو قرآن کریم یاد تھا اور وہ ہر وقت قرآن پاک کی تلاوت کرتی رہتی تھیں۔ ان کے محل میں سے قرات کی آواز شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح آتی رہتی تھی)))))))

خادمہ حکم کے مطابق علامہ ابن سیرینؒ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ “حضرت! میں نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے۔  اس کی کیا تعبیر ہے “؟❣️

علامہ ابن سیرینؒ نے جب خواب سنا تو فوراً فرمایا  ’’یہ تمہارا خواب نہیں ہو سکتا۔ ایسا خواب ہر کس و ناکس نہیں دیکھ سکتا۔ یہ تو کسی خوش نصیب شخص کا خواب ہے۔  پہلے سچ سچ بتاؤ کہ کس کا خواب ہے ؟ پھر تعبیر بتاؤں گا‘‘۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

خادمہ نے کہا کہ ’’حضرت! جس کا یہ خواب ہے اس نے نام بتانے سے منع کیا ہے ‘‘۔

علامہ ابن سیرینؒ نے فرمایا کہ  ’’پہلے اس سے اجازت لو ورنہ میں خواب کی تعبیر نہیں بتاؤں گا‘‘۔

خادمہ زبیدہ کے پاس واپس آئی اور پوری بات نقل کی کہ ابن سیرینؒ فرماتے ہیں کہ ’’پہلے جس کا خواب ہے اس کا نام بتاؤ پھر تعبیر بتاؤں گا۔ ‘‘

زبیدہ نے خادمہ سے کہا ’’اچھا جا کر میرا نام بتا دو کہ زبیدہ نے یہ خواب دیکھا ہے ‘‘۔

خادمہ دوبارہ علامہ ابن سیرینؒ کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ ’’یہ خواب زبیدہ نے دیکھا ہے ‘‘۔

انہوں نے فرمایا کہ ’’میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ کوئی عام خواب نہیں۔ یہ کسی خوش قسمت کا خواب ہی ہو سکتا ہے ‘‘۔  اور پھر یہ تعبیر دی کہ  ’’اللہ تعالیٰ ملکہ کے ہاتھ سے ایسا صدقہ جاریہ قائم فرما دیں گے جس سے رہتی دنیا تک لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘،🌹🌹🌹🌹🌹

خادمہ نے زبیدہ کو جا کر جب خواب کی تعبیر بتائی تو زبیدہ نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا کہ بظاہر خواب تو بڑا عجیب تھا لیکن تعبیر بہت اچھی بتائی گئی ہے۔

پھر چند سالوں کے بعد ہارون الرشید نے جب حج پر جانے کا ارادہ کیا تو ملکہ زبیدہ بھی ساتھ تھیں۔

آج سے تقریباً بارہ سو سال پہلے ہارون رشید کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں پانی کی بے حد تنگی تھی اور حاجیوں کو پانی کی دستیابی میں خاصی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جب ہارون الرشید اور ملکہ مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ملکہ زبیدہ کے نرم دل ہونے کی وجہ سے ہارون رشید کے بجائے ملکہ زبیدہ سے درخواست کی کہ  ’’مکہ مکرمہ میں پانی کی بہت تکلیف ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو یہاں با آسانی پانی ملنے کا کوئی انتظام کر دیں ۔‘‘

ملکہ زبیدہ یہ بات سمجھ گئیں کہ یہ بہت اہم جگہ ہے جہاں دوسرے ملکوں سے بھی لوگ آتے رہتے ہیں۔  ان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ لہٰذا ان کی یہ تکلیف کسی بھی طرح دور ہونی چاہئے۔

زبیدہ نے ہارون الرشید سے پہلے اجازت چاہی جو اس کو جلد ہی مل گئی۔

اس وقت اسلام اپنے شباب پر تھا۔ کافر طاقتیں مسلمانوں کے زیر نگیں تھیں۔ مسلمان دنیا کے اندر غالب تھے اور ان کا ڈنکا بج رہا تھا۔  اس وقت ہر فن کے بڑے بڑے ماہرین مسلمانوں کے اندر موجود تھے۔ ملکہ زبیدہ نے پوری سلطنت کے اندر یہ اعلان کروا دیا کہ جہاں جہاں کوئی ماہر انجینئر ہیں، وہ سب مکہ مکرمہ آ جائیں۔  اعلان ہوتے ہی تمام بڑے بڑے شہروں کے ماہرین جمع ہو گئے اور ماہرین کی ایک بڑی جماعت وہاں حاضر ہو گئی۔ ملکہ زبیدہ نے ان سب کو بلا کر یہ کہا کہ ’’مجھے مکہ مکرمہ کے کونے کونے اور گلی گلی میں پانی چاہئے۔ کیسے آئے گا؟ اور کہاں سے آئے گا؟ یہ تمہارا کام ہے ۔‘‘

سارے کے سارے انجینئر سر جوڑ کر بیٹھ گئے۔ بہت کوشش کے بعد ماہرین نے بتایا کہ انھیں کئی کلومیٹر دور دو جگہوں سے بہتے چشموں کا سراغ ملا ہے مگر ان چشموں کے پانی کے مکہ پہنچنے میں جگہ جگہ پہاڑی سلسلے رکاوٹ بن گئے ہیں۔

مؤرخین کے مطابق ملکہ نے حکم دیا  ’’ان چشموں کا پانی مکہ تک پہچانے کے لیے ہر قیمت پر نہر کھودو چاہے کدال کی ایک ضرب پر ایک دینار ہی کیوں نہ دینا پڑے ۔‘‘

یہ جملہ کوئی معمولی جملہ نہیں ہے۔ یہ جملہ زبیدہ کی شخصیت کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔

ماہر انجینیئرز کے مشورے پر مسجدِ حرام سے 36 کلو میٹر کے فاصلے پر شمال مشرق میں وادئ حنین سے نہر نکالنے کا کام شروع کیا گیا۔ تین سال دن رات ہزاروں مزدور پہاڑیاں کاٹنے میں مشغول رہے۔💞

حنین سے وادئ نعمان، پھر وادی نعمان سے پانی پہلے عرفات لے جایا گیا۔ اس کے لیے ڈھلوان کی شکل میں پختہ انڈر گراؤنڈ واٹر چینل بنایا گیا تاکہ پانی خود بخود بہتا ہوا جائے۔ پانی کا لیول یکساں رکھنے کے لیے کہیں یہ چینل (نہر ) زمین سے اوپر ہے اور کہیں زمین سے نیچے ہے،❣️

چینل کو پتھر اور چونے کی مدد سے پختہ کیا گیا تاکہ زمین سے حاصل ہونے والا پانی دوبارہ جذب نہ ہو جائے یعنی پوری نہر زبیدہ کو خواہ وہ زمین کے اوپر ہو یا اندر، پتھروں کو چونے سے جوڑ کر پلاسٹر کیا گیا۔

مزدلفہ میں ’نہر زبیدہ ‘ مسجد مشعر الحرام کے قریب کنویں کی شکل میں تھی اور وہاں سے لوگ پانی نکالتے تھے۔ منیٰ کو بھی پانی یہاں سے فراہم کیا جاتا تھا بعد میں نہر پر پمپ لگا کر پانی منیٰ تک پہچانے کا بندوبست کیا گیا۔ منیٰ میں بھی حوض بنائے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق نہر زبیدہ  سے 600 سے 800 کیوبک میٹر پانی روزانہ مکہ مکرمہ آتا تھا۔

مورخ ابن خلیکان کے مطابق اس منصوبے پر، جس میں آبِ زم زم کے کنویں کو گہرا کرنا بھی شامل تھا، بیس لاکھ دینار خرچ ہوئے۔

جب نہر زبیدہ تیار ہو گئی تو وہ انجینئر جو اس پورے منصوبے کا ذمہ دار تھا، اس نے حساب و کتاب کی فائل تیار کر کے بغداد حاضری دی اور ملکہ زبیدہ کے محل میں پہنچا۔  ملکہ زبیدہ اس وقت دریائے دجلہ کے کنارے تفریح کر رہی تھیں۔ ا نہیں   اطلاع دی گئی کہ مکہ مکرمہ سے نہر زبیدہ کا حساب لے کر انجینئر حاضر ہوا ہے ۔

زبیدہ نے اسی وقت انجینئر کو طلب کر لیا۔ اس نے فائل پیش کی اور عرض کیا کہ ’’ملکہ صاحبہ! یہ نہر زبیدہ کے منصوبے کی تکمیل کے حساب و کتاب کی فائل ہے ۔ آپ نے جو حکم دیا تھا، وہ میں نے پورا کر دیا۔  مکہ مکرمہ کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں پانی کا وافر انتظام کر دیا گیا ہے۔  اب مکہ مکرمہ کے رہنے والوں اور حج و عمرہ کے لئے آنے والوں کو انشاءاللہ کسی قسم کی پانی کی تکلیف نہیں ہو گی۔ یہ حساب آپ کے سامنے ہے۔  آپ حساب لے لیجئے اور مجھے اجازت دیجئے۔‘‘

زبیدہ نے وہ فائل لی، اس پر دستخط کئے اور اس کو درمیان میں چاک کر کے دریائے دجلہ میں ڈال دیا اور وہ مشہور جملہ کہا جو تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے ،  بولیں:

’’ہم نے آخرت کے حساب کے لئے اس کا حساب چھوڑ دیا‘‘۔  اور کہا کہ  ’’اگر ہماری طرف کوئی حساب نکلتا ہے تو لے لو، اور اگر ہمارا تمہاری طرف کچھ نکلتا ہے تو ہم نے معاف کیا۔‘‘

زبیدہ کا یہ عمل ’نیکی کر دریا میں ڈال‘ والی ضرب المثل  پر صد فیصد صادق آتا ہے۔

نہر زبیدہ کا منصوبہ اس وقت کے  ماہرین نے 10 سال کے عرصے میں مکمل کیا۔ اس کی کُل لمبائی 38 کلو میٹر ہے۔ ایک اندازے کے مطابق  اس منصوبے پر 17 ملین دینار لاگت آئی تھی۔ آج اس کا حساب لگایا جائے تو ایک دینار   10 گرام سونے کے برابر ہو گا جو بہت بڑی رقم بنتی ہے۔

آج عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اس وقت کس طرح یہ کام انجام دیا گیا۔ سروے کے بغیر اتنا درست حساب کیسے لگایا گیا۔ نہر اونچے نیچے راستوں سے گھومتی ہے لیکن اس کا لیول برقرار رہتا ہے

نہر زبیدہ 1200 برس،   تک مشاعر مقدسہ اور مکہ مکرمہ میں حاجیوں کی پانی کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہی۔

ان واقعات کو آپ سے بیان کرنے کا مقصد لوگوں میں شوق بیدار کرنا ہوتا ہے تاکہ پیسے والے لوگ دوسروں کے لیے نیک کے کام کر سکیں اس لیے ایسی تحریروں کو دوسروں تک پہنچا دیا کریں شائید کسی پر اثر کر جائے ۔جزاک اللّہ ۔واللہ اعلم و رسُول اعلم ۔

حوالہ جات:

1) الکتاب:  تاریخ الخلفاء المؤلف:  عبد الرحمن بن أبی بکر، جلال الدین السیوطی

2) الف لیلہ و لیلہ (اردو ترجمہ)

3 ) الکتاب:  تاریخ بغداد او مدینة السلام المؤلف:  أبو بکر أحمد بن علی بن ثابت بن أحمد بن مہدی الخطیب البغدادی

#ملکہ_زبیدہ

#نہر_زبیدہ

#ہارون_الرشید

#اسلامی_تاریخ

#مکہ_مکرمہ

#حجاج_کرام

#اسلامی_شخصیات

#خیرات_اور_خدمت

#تاریخی_واقعات

#اللہ_کی_رحمت

Loading