Daily Roshni News

اقتدار کی بقا تلوار یا دوا سے نہیں، بلکہ انصاف اور لوگوں کی دعاؤں سے جڑی ہوتی ہے۔

اقتدار کی بقا تلوار یا دوا سے نہیں، بلکہ انصاف اور لوگوں کی دعاؤں سے جڑی ہوتی ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ قصہ ایک ایسے وقت کا ہے جب حکمرانوں کی طاقت صرف تلوار اور خزانے تک محدود نہیں تھی، بلکہ ان کے فیصلے لوگوں کی زندگی اور موت کا تعین کرتے تھے۔

کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہِ ترکستان کو لمبی عمر کی شدید خواہش تھی۔ وہ ہر حال میں زندہ رہنا چاہتا تھا۔ اس کے درباری حکیموں اور طبیبوں نے اسے مشورہ دیا کہ:

“ہندوستان کی سرزمین پر کچھ ایسی نایاب جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جن میں زندگی کو طول دینے کی تاثیر موجود ہے۔ اگر وہ حاصل ہو جائیں تو ہم ایسی دوا بنا سکتے ہیں جو بادشاہ کو طویل عمر دے سکتی ہے۔”

بادشاہ نے اس امید پر فوراً ایک اعلیٰ سطح کا وفد تیار کیا۔ اس وفد میں اس کے قابلِ اعتماد مشیر، سپاہی اور طبیب شامل تھے۔ انہیں ہندوستان کے حکمران کے پاس بھیجا گیا تاکہ وہ یہ جڑی بوٹیاں حاصل کر سکیں۔

جب یہ وفد ہندوستان کے بادشاہ کے دربار میں پہنچا اور اپنا مقصد بیان کیا، تو بادشاہ نے ان کی بات سن کر مسکرا دیا۔

لیکن یہ مسکراہٹ فوراً سخت فیصلے میں بدل گئی۔

اس نے حکم دیا کہ ان سب کو گرفتار کر لیا جائے۔

گرفتار وفد کو ایک بلند پہاڑ کے دامن میں لے جایا گیا۔

وہاں ایک خیمہ لگایا گیا اور انہیں اس کے اندر بند کر دیا گیا۔

حکم واضح تھا:

“جب تک یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل نہ جائے، یہ لوگ یہیں قید رہیں گے۔”

سپاہی پہرہ دینے لگے، اور بادشاہ اپنے شہر واپس چلا گیا۔

امید صرف اللہ سے

وہ دس افراد اب مکمل مایوسی میں تھے۔

نہ راستہ تھا، نہ مدد۔

اس لمحے انہوں نے صرف ایک سہارا لیا:

اللہ تعالیٰ

وہ بار بار سجدے میں جاتے اور دعا کرتے۔

صرف ضروری حاجات کے لیے اٹھتے، پھر دوبارہ سجدے میں گر جاتے۔

یہ کیفیت محض عبادت نہیں تھی بلکہ بے بسی میں مکمل توکل کی علامت تھی۔

کچھ دنوں بعد زمین ہلنے لگی۔

شدید زلزلہ آیا، پہاڑ لرز گیا، چٹانیں گرنے لگیں۔

سپاہی خوفزدہ ہو گئے اور بھاگنے لگے۔

اسی موقع پر قیدیوں کو بھی موقع ملا اور وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

یوں ایک ناممکن قید قدرتی آفت کے ذریعے ختم ہو گئی۔

جب یہ سب لوگ واپس دربار پہنچے اور واقعہ سنایا، تو ہندوستانی بادشاہ نے حیرت انگیز بات کہی:

 “اپنے بادشاہ کو جا کر یہ بات بتاؤ”

 “اگر دس افراد کی دعا پہاڑ ہلا سکتی ہے، تو سوچو لاکھوں لوگوں کی بددعائیں ایک بادشاہ کے اقتدار کو کیسے نہیں ہلا سکتی ہیں۔”

 اصل سبق کیا ہے؟

یہ کہانی ہمیں چند بڑی حقیقتیں سمجھاتی ہے:

طاقت ہمیشہ محفوظ نہیں ہوتی

ظلم کے خلاف دعا ایک بڑی قوت ہے

عوام کی بددعائیں کسی بھی نظام کو کمزور کر سکتی ہیں

حقیقی طاقت انسانوں کے دلوں میں ہوتی ہے، صرف تخت پر نہیں

 نتیجہ:

یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ

اقتدار کی بقا تلوار یا دوا سے نہیں، بلکہ انصاف اور لوگوں کی دعاؤں سے جڑی ہوتی ہے۔

Loading