Daily Roshni News

علم، حکمت اور معرفت — قرآن میں علم کے تین درجے

علم، حکمت اور معرفت — قرآن میں علم کے تین درجے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تمہید:انسان صرف گوشت پوست کا ایک وجود نہیں… وہ ایک سوال ہے۔ ایک بےقرار سوال… جو کبھی رات کی خاموشی میں جاگ اٹھتا ہے، کبھی سجدے کی گہرائی میں پگھل جاتا ہے، اور کبھی دنیا کے شور میں خود کو کھو دیتا ہے۔ یہ سوال اس کے اندر ایک مسلسل دستک ہے… ایک ایسی آواز جو اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتی۔

کبھی وہ ہنستے ہوئے بھی اداس ہوتا ہے… کبھی لوگوں کے درمیان بیٹھ کر بھی تنہا محسوس کرتا ہے… اور کبھی اپنی کامیابیوں کے عروج پر کھڑے ہو کر بھی اندر سے ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔

کیوں؟

کیونکہ اس کے اندر ایک خلا ہے… اور یہ خلا کسی چیز سے نہیں بھرتا… سوائے “اللہ” کے۔

یہ سوال کیا ہے؟

یہ سوال ہے: “میں کون ہوں؟” “میں کیوں ہوں؟” “اور مجھے کہاں لوٹنا ہے؟”

یہ سوال صرف الفاظ نہیں… یہ روح کی چیخ ہے۔ اور قرآن اسی چیخ کا جواب ہے… مگر یہ جواب ہر ایک کو ایک جیسا نہیں ملتا۔

کوئی اسے پڑھتا ہے تو گزر جاتا ہے… کوئی اسے سمجھتا ہے تو رک جاتا ہے… اور کوئی اسے محسوس کرتا ہے تو ٹوٹ جاتا ہے۔

یہی تین درجے ہیں:      علم… حکمت… اور معرفت۔

پہلا درجہ: علم — جاننے کی روشنی

علم وہ پہلا چراغ ہے جو تاریکی میں جلتا ہے۔ مگر یہ چراغ باہر نہیں… اندر جلتا ہے۔

“اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”

یہ آواز جب پہلی بار دل تک پہنچتی ہے… تو انسان کے اندر کچھ ہلتا ہے۔ جیسے کوئی سویا ہوا وجود جاگنے لگے۔

وہ پہلی بار خود کو دیکھتا ہے… اپنے اندر جھانکتا ہے… اور اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ اب تک کتنا بےخبر تھا۔

وہ سوچتا ہے…

میں نے کتنی چیزیں سیکھیں… مگر خود کو نہ جان سکا۔

میں نے دنیا کو سمجھا… مگر اپنے رب کو نہ پہچان سکا۔

یہی علم کی پہلی چوٹ ہے… اور یہی اس کی پہلی رحمت۔

علم انسان کو بےچین کرتا ہے… کیونکہ وہ اسے اس کی حقیقت دکھاتا ہے۔

وہ راتوں کو جاگنے لگتا ہے… سوالوں میں ڈوبنے لگتا ہے… اور کبھی کبھی خاموشی میں بیٹھ کر رونے لگتا ہے… بغیر کسی وجہ کے۔

کیونکہ اب اسے محسوس ہونے لگتا ہے… کہ وہ اپنے رب سے دور ہے۔

یہی علم ہے… مگر یہاں ایک خطرہ بھی ہے…

اگر یہی علم دل تک نہ پہنچے… تو یہی روشنی اندھیرا بن جاتی ہے۔

پھر انسان الفاظ کا عالم بن جاتا ہے… مگر حقیقت سے خالی۔

وہ دوسروں کو نصیحت کرتا ہے… مگر خود خالی ہوتا ہے۔

وہ بولتا بہت ہے… مگر اس کی بات میں اثر نہیں ہوتا۔

کیونکہ علم اس کے دل میں نہیں اترا… صرف زبان پر آ کر رک گیا۔

اصل علم وہ ہے جو دل کو توڑ دے…

وہ علم جو انسان کو اپنے گناہوں کا احساس دلا دے…

وہ علم جو سجدے کو لمبا کر دے…

وہ علم جو آنکھوں کو نم کر دے…

جب انسان علم کے ساتھ تنہائی میں بیٹھ کر روتا ہے… تو سمجھ لو علم نے دل کو چھو لیا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں علم “نور” بن جاتا ہے… اور یہی نور آگے لے جاتا ہے…

دوسرا درجہ: حکمت — سمجھ کی گہرائی

جب علم دل کو توڑ دیتا ہے… تو اس کے بعد حکمت پیدا ہوتی ہے۔

حکمت… ٹوٹے ہوئے دل کی زبان ہے۔

یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان شور نہیں کرتا… بلکہ خاموش ہو جاتا ہے۔

وہ پہلے بحث کرتا تھا… اب سمجھنے لگتا ہے۔

وہ پہلے جلدی فیصلہ کرتا تھا… اب ٹھہرنے لگتا ہے۔

کیونکہ اب وہ جان چکا ہے کہ زندگی صرف “صحیح” ہونے کا نام نہیں… بلکہ “درست” ہونے کا نام ہے۔    “يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ”

جب اللہ کسی پر حکمت کا دروازہ کھولتا ہے… تو اس کی نظر بدل جاتی ہے۔

وہ لوگوں کو دیکھ کر ان کے الفاظ نہیں… ان کے درد کو سمجھنے لگتا ہے۔

وہ غلطی دیکھ کر غصہ نہیں کرتا… بلکہ دعا کرتا ہے۔

وہ تکلیف میں بھی اللہ کی حکمت تلاش کرتا ہے۔

یہاں انسان سیکھتا ہے کہ ہر چیز کا جواب دینا ضروری نہیں…

کبھی خاموش رہنا… سب سے بڑی بات ہوتی ہے۔

کبھی معاف کر دینا… سب سے بڑی جیت ہوتی ہے۔

اور کبھی چھوڑ دینا… سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔

حکمت انسان کو نرم بنا دیتی ہے… مگر کمزور نہیں۔

وہ جھکتا ہے… مگر ٹوٹتا نہیں۔

وہ معاف کرتا ہے… مگر خود کو مٹاتا نہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب کی طرف اور قریب ہو جاتا ہے…

کیونکہ اب وہ صرف جانتا نہیں… بلکہ سمجھتا ہے۔

اور جب سمجھ بھی مکمل ہونے لگتی ہے… تو ایک اور دروازہ کھلتا ہے…

تیسرا درجہ: معرفت — پہچان کی روشنی

یہ وہ مقام ہے جہاں دل مکمل طور پر بدل جاتا ہے۔

یہاں انسان اللہ کو تلاش نہیں کرتا… بلکہ محسوس کرتا ہے۔

وہ رات کو اٹھتا ہے… اور اسے لگتا ہے جیسے کوئی اسے بلا رہا ہے۔

وہ سجدے میں جاتا ہے… اور واپس آنے کو دل نہیں چاہتا۔

وہ دعا کرتا ہے… اور الفاظ خود بہنے لگتے ہیں۔

یہ معرفت ہے…

یہ وہ کیفیت ہے جہاں انسان کو ہر چیز میں اللہ دکھائی دیتا ہے۔

وہ آسمان کو دیکھتا ہے… اور اس میں رب کی عظمت دیکھتا ہے۔

وہ اپنے گناہوں کو دیکھتا ہے… اور رب کی رحمت کو محسوس کرتا ہے۔

وہ اپنی کمزوریوں کو دیکھتا ہے… اور رب کی طاقت کو پہچانتا ہے۔

یہاں انسان ٹوٹ کر جڑ جاتا ہے…

وہ روتا ہے… مگر سکون میں ہوتا ہے۔

وہ جھکتا ہے… مگر بلند ہو جاتا ہے۔

وہ کھو جاتا ہے… مگر مل جاتا ہے۔

یہ وہ مقام ہے جہاں دعا زبان سے نہیں… دل سے نکلتی ہے۔

جہاں “یا اللہ” صرف لفظ نہیں… ایک چیخ بن جاتی ہے… ایک پکار… جو سیدھا عرش تک جاتی ہے۔

یہاں انسان کو دنیا چھوٹی لگنے لگتی ہے…

وہ چیزیں جو پہلے بہت بڑی لگتی تھیں… اب بےمعنی لگتی ہیں۔

کیونکہ اب اس نے اصل کو پا لیا ہے۔

یہی معرفت ہے…

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان خود کو کھو دیتا ہے… اور اللہ کو پا لیتا ہے۔

اختتامیہ

علم… جگاتا ہے۔

حکمت… سنوارتا ہے۔

اور معرفت… مٹا کر بنا دیتی ہے۔

یہ تینوں درجے ایک سفر ہیں…

اور یہ سفر باہر نہیں… اندر ہوتا ہے۔

مگر اس سفر کی ایک اور گہرائی بھی ہے… جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

یہ سفر سیدھا نہیں ہوتا…

یہ بار بار ٹوٹنے کا سفر ہے… بار بار سنورنے کا سفر ہے… بار بار گرنے اور پھر اٹھنے کا سفر ہے۔

انسان جب علم کے راستے پر چلتا ہے… تو اسے لگتا ہے کہ وہ سمجھ گیا ہے… مگر پھر ایک واقعہ، ایک آزمائش، ایک لمحہ… اسے دوبارہ یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ابھی بھی سیکھ رہا ہے۔

یہی عاجزی… یہی جھکاؤ… یہی سفر کو زندہ رکھتا ہے۔

حکمت کے مقام پر پہنچ کر بھی انسان مکمل نہیں ہوتا… بلکہ اور زیادہ محتاط ہو جاتا ہے۔

وہ اپنے الفاظ کو تولتا ہے… اپنے جذبات کو سمجھتا ہے… اور اپنے فیصلوں میں اللہ کو شامل کرتا ہے۔

پھر بھی کبھی وہ غلطی کرتا ہے… اور یہی غلطی اسے اور نرم بنا دیتی ہے۔

معرفت کے مقام پر بھی انسان فرشتہ نہیں بنتا… بلکہ ایک سچا انسان بنتا ہے…

جو اپنے رب سے جڑا ہوتا ہے… مگر اپنی کمزوریوں کو بھی پہچانتا ہے۔

یہی حقیقت ہے…

یہ سفر “کامل” ہونے کا نہیں… “قریب” ہونے کا ہے۔

اور جو جتنا قریب ہوتا جاتا ہے… وہ اتنا ہی خود کو کم محسوس کرتا ہے… اور اپنے رب کو زیادہ۔

یہاں ایک اور راز ہے…

انسان جب اس سفر میں آگے بڑھتا ہے… تو اس کی دعائیں بدل جاتی ہیں۔

پہلے وہ مانگتا تھا:

یا اللہ مجھے دے دے…

پھر وہ کہتا ہے:

یا اللہ مجھے سمجھ دے…

اور آخر میں وہ صرف کہتا ہے:

یا اللہ مجھے اپنے قریب کر لے…

یہی معرفت کی انتہا ہے…

جہاں انسان کو کچھ نہیں چاہیے ہوتا… سوائے اللہ کے۔

اور جب انسان اس مقام پر پہنچتا ہے… تو اللہ اسے وہ سب کچھ دے دیتا ہے… جو اس نے کبھی مانگا بھی نہیں ہوتا۔

یہی قرآن کا راز ہے…

یہ صرف کتاب نہیں… یہ ایک سفر ہے… ایک دعوت ہے… ایک پکار ہے…

جو ہر دل کو بلا رہی ہے…

کہ آؤ… علم سے شروع کرو… حکمت میں سنورو… اور معرفت میں گم ہو جاؤ…

اور پھر خود کو پا لو…

اللہ ہمیں اس سفر کا مسافر بنا دے…     آمین۔

Loading