Daily Roshni News

شَطْر سے شطرنج تک اور رب کی خاموش چال۔۔۔تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم

شَطْر سے شطرنج تک اور رب کی خاموش چال

تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحریر۔۔۔مقیتہ وسیم )قرآن کے الفاظ صرف معنی نہیں رکھتے، وہ راستے کھولتے ہیں۔

لفظ “شَطْر” … بظاہر ایک سادہ سا لفظ، جس کا مطلب ہے “طرف”. مگر یہی طرف جب نگاہ میں آتی ہے تو شَطَرَ بَصَرُهُ بن جاتی ہے. یعنی نظر کا ٹیڑھا ہو جانا۔ گویا رخ بدلتے ہی دیکھنے کا زاویہ بھی بدل جاتا ہے۔

یہی اصول زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

انسان جس طرف کھڑا ہوتا ہے، وہی اس کی نظر کی سچائی بن جاتی ہے۔

پھر یہی “شطر” جب کھیل میں ڈھلتا ہے تو شطرنج بن جاتا ہے۔

ایک ایسا کھیل جہاں سیدھا وار نہیں ہوتا بلکہ چال ہوتی ہے۔

جہاں مقصد صرف مارنا نہیں ہوتا بلکہ بچانا بھی ہوتا ہے۔

جہاں ہر قدم کے پیچھے ایک خاموش حکمت چھپی ہوتی ہے۔

اور پھر قرآن ہمیں ایک اور سطح پر لے جاتا ہے:

وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ

یہاں “مکر” صرف دھوکہ نہیں، بلکہ تدبیر ہے۔

ایک ایسی تدبیر جو ان تدبیروں کے جواب میں آتی ہے جو انسان خود بُنتا ہے۔

اللہ کی سنت یہ نہیں کہ وہ ابتدا کرے بلکہ وہ جواب دیتا ہے…

اور ایسا جواب دیتا ہے جس میں حکمت بھی ہوتی ہے اور نشان بھی۔

وہ اپنی چال چھپا کر نہیں چلتا بلکہ اس میں اپنی پہچان چھوڑتا جاتا ہے۔ تاکہ جو دیکھنا چاہے، وہ پہچان لے۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن میں نام بھی بدلتے ہیں…

اور یہ تبدیلی محض لفظی نہیں ہوتی بلکہ حقیقت کا اعلان ہوتی ہے۔

جو ابلیس تھا، وہی جب تکبر کرتا ہے،حکم سے انکار کرتا ہے،

تو وہ شیطان بن جاتا ہے۔

یہ تبدیلی ہمیں بتاتی ہے کہ گمراہی ایک لمحے میں نہیں آتی،

وہ ایک رویے سے شروع ہوتی ہے… اور ایک شناخت بن جاتی ہے۔

یہاں سوال صرف نام کا نہیں، یہاں سوال انجام کا ہے۔

اللہ کی چالیں بھی عجیب ہیں…وہ بڑے کو گرانے کے لیے بڑے ہتھیار نہیں اٹھاتا۔

ابرہہ کے مقابلے میں ہاتھی نہیں، ابابیل آتی ہیں۔

اور ابو جہل جیسے غرور کے پیکر کو، طاقتور لشکر نہیں بلکہ کمزور ہاتھ ختم کر دیتے ہیں۔

یہ اللہ کی حکمت ہے…. وہ دشمن کے حجم کو نہیں دیکھتا، وہ اپنے منصوبے کی باریکی کو دیکھتا ہے۔

جتنا بڑا تکبر، اتنا ہی چھوٹا ذریعہ۔

یہی اس کی پہچان ہے۔

اور شاید یہی پیغام بھی…. کہ جنگ ہمیشہ طاقت سے نہیں جیتی جاتی….. کبھی کبھی ایک “چال” سب کچھ بدل دیتی ہے۔

لیکن فرق یہ ہے…..

انسان کی چال میں مکر ہے اور رب کی چال میں عدل۔

آخر میں بات وہی آ کر ٹھہرتی ہے:

رب سے ملاقات چالوں سے نہیں، محبت سے ہوتی ہے۔

جو دل سیدھا رکھتا ہے، اس کی نظر بھی سیدھی رہتی ہے…

اور وہ کسی شطرنج کا مہرہ نہیں بنتا۔

#مقیتہ وسیم

#قرآن_فہم #تدبر_قرآن #شطر #شطرنج #مکر_الٰہی #روحانی_تحریر #اسلامی_فکر #قرآنی_رموز #باطنی_معانی #اللہ_کی_حکمت #تفکر #ایمان #روحانیت

Loading