ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ایک صبح کا منظر ہے، گرمیوں کا موسم ہے اور فجر کے بعد کا وقت۔خوبصورت ماحول اور خوبصورت سادہ لوگ۔
میں صبح اٹھتے ہی اپنی ساتھ والی گلی میں جامعہ کے اندر جا کر ترجمے والی کلاس کے باہر کھڑی ہو جاتی ہوں کیونکہ وہاں میری آپی ہر صبح ترجمہ پڑھنے آتی ہیں۔ میں ہر صبح بہت شوق سے وہاں جاتی ہوں اور آپی کو دیکھنے کے لیے کھڑی ہو جاتی تھی۔ آپی ہر روز اپنی باجی سے اجازت لے کر باہر آتی اور مجھے واپس جانے کا کہتی۔
پھر میرا ناظرہ قرآن مجید مکمل ہوا اور میری والدہ نے مجھے اس کے ساتھ ہی آپی کے ساتھ ترجمہ پڑھنے کے لیے جامعہ بھیجنا شروع کر دیا۔ مجھے بالکل مشکل نہیں ہوئی اور نہ ہی کچھ نیا محسوس ہوا ایسا ہی تھا کہ جیسے یہ تو ہونا ہی ہے جو آپی نے پڑھا وہ ہم نے پڑھنا ہی ہے۔
پھر میرا ترجمہ مکمل ہوا۔ ترجمے کے امتحان ہوئے اور میں اول آئی الحمدللہ! پھر وقت گزرا۔ سکول اور کالج کی پڑھائی کے دوران ترجمے اور تفسیر سے واقفیت کی وجہ سے میرے نمبر اسلامیات میں ہمیشہ اچھے آتے الحمدللہ!
پھر مزید وقت گزرا۔ مجھے جب قرآن مجید مکمل ہوا تھا تو مدرسے سے بڑا سا ترجمے اور تفسیر والا قرآن مجید انعام یا تحفے میں ملا تھا۔
آیات کا ترجمہ یاد ہوتا تھا لیکن ابھی سورہ اور پارے اتنے پکے دوست نہیں بنے تھے۔ ابھی رشتے میں جان پہچان تک ہی بات تھی۔ پھر وقت گزرا۔ والدہ کی وفات ہوئی اور دل شدید بے قرار ہوا۔ کہیں چین ہی نہیں آتا تھا پھر ایک بار پھر گرمیوں کی صبح میں میرا مقدر بدلا۔
قرآن مجید کے لیکچر سنے تو ایسا محسوس ہوا کہ اسی کی ضرورت تھی۔ دوبارہ سے مجھے قرآن مجید کی طرف بلا لیا گیا لیکن اب کی بلایا جانا پہلے سے بہت مختلف تھا۔ اب بات کچھ اور تھی۔ پہلے آیتیں لگتی تھیں اب سوالوں کے جواب ملنے لگے۔
دل کو پیغام ملنے لگے اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ ایک رمضان المبارک میں جامعہ میں دورہ قرآن کے دوران جب میں نے قرآن مجید کو ہاتھ میں لیا تو وہ مجھے اجنبی نہ محسوس ہوا۔ میں نے اللہ تعالیٰ کا بے شمار شکر ادا کیا کہ مجھے پیارے رب نے اپنا کلام سے محبت عطا فرما دی۔
پھر سفر مزید اس وقت خوبصورت ترین ہو گیا جب میں نے قرآن مجید کو حفظ کرنا شروع کیا۔ تین سالوں سے زیادہ عرصے سے میں قرآن مجید کو حفظ کر رہی ہوں الحمدللہ!
آپ بھی کر سکتے ہیں۔ آپ سب کے لیے اور ہر اس انسان کے لیے میں نے اپنی کتاب قرآن مجید حفظ کیسے کریں مکمل لکھ دی تا کہ ہر کوئی بھی اپنی خواہش پوری کر سکے۔ اپنے والدین کو بہترین تحفہ دینے کا جب میں نے سوچا تو اس سے بہتر مجھے کوئی تحفہ نہ لگا کہ میرے قرآن مجید سے محبت اور اس پر عمل کی وجہ سے انہیں قیامت کے دن سورج سے بھی روشن تاج اور عزت کے لباس پہنائے جائیں۔ تو میں اپنے اس سفر پر ہوں الحمدللہ!
پھر ایک اور ادارے سے سورہ کہف کے کورس امتحانات میں شرکت کی اور اس میں بھی اول پوزیشن حاصل کی۔
اور پھر حفظ کے سفر کے ساتھ ایک بار پھر سے ترجمے اور تفسیر کا سفر شروع کیا۔ مولانا مودودی، مولانا صلاح الدین یوسف، استاذه فرحت ہاشمی صاحبہ، ڈاکٹر اسرار احمد ، عبدالسلام بھٹوی اور بہت سارے معزز مفسرین کی تفاسیر سے علم حاصل کر رہی ہوں۔ میں اس وقت بھی قرآن مجید کی طالبہ ہوں اور مرتے دم تک رہنا چاہتی ہوں۔
و پھر میں نے سیرت مبارکہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھی اور اب میرا دل چاہا کہ جو مجھے مل رہا ہے اسے دوسروں کے ساتھ بھی بانٹ دوں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت خیر کے کاموں کی توفیق عطا فرمائی۔ میں نے سورہ الحدید مکمل کروائی۔
قرآن مجید کی تین سورہ مبارکہ سے آیات چن کر عباد الرحمان کورس کروایا جسے دو ہزار سے زیادہ لوگوں نے مکمل کیا۔
اپنی مزید کتابیں تحریر کیں۔ سیانی عائشہ ، ٹائم مینجمنٹ اور قرآن کے موتی۔
اور اب میں ایک خوبصورت ترین سفر پر ہوں۔ موسوعہ فقہ القلوب کو لکھنے کے سفر پر۔
قرآن سے جڑ کر اللہ تعالیٰ نے میرے دل کی بہت ساری آرزو پوری فرمادیں۔ ایک دن بھلا کیا ہوا؟ میں نے اپنا جرنل لیا تھا اور قرآن مجید سے وہ آیات چن کر لکھنے لگی تھیں جو اللہ تعالیٰ کی پہچان کے بارے میں تھیں اور پھر کچھ سالوں بعد بھلا کیا ہوا؟
مجھے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی پہچان خود مجھے اور دوسروں کو کروانے کی توفیق عطا فرمادی۔ میں اللہ تعالیٰ کی پہچان کا سفر لکھ رہی ہوں۔
فقہ القلوب دلوں کی اصلاح قرآن وسنت کے ذریعے اس کو اس کتاب کو جو کہ عربی میں ہے اسے اردو میں لکھ رہی ہوں اور اس کی مختصر شرح بھی کر رہی ہوں۔
اللہ تعالیٰ کی عظمت، قدرت ، رحمت اور علم کے بارے میں ہم بہت تفصیل سے پڑھ چکے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی خوبصورتی کے بارے میں پڑھ رہے ہیں اور اس کے بعد ہم اسماء مبارکہ کا خوبصورت ترین سفر شروع کرنے والے ہیں۔ میری فقہ القلوب کتاب اسی سلسلے کی پہلی کتاب ہے ، اس کی دوسری جلد بہت جلد آنے والی ہے ان شاء اللہ تعالیٰ۔
قرآن مجید کے باغ میں جا کر زندگی بہار بن جایا کرتی ہے۔
مجھے بہت انعام ملے مجھے آپ سب ملے۔
اور میں اس سفر پر ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بہت معجزے کیے اور بہت نوازا اب اللہ تعالیٰ کے گھر جانا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد بلائے گا۔ یہ میں ہوں۔
میرا نام عائشہ ملک بنت یعقوب ہے۔ میرا تعلق گوجرانوالہ شہر سے ہے مجھے اپنے وطن سے بہت محبت ہے ، سچ تو یہ ہے مجھے وفاداری سے محبت ہے۔
میرا لکھنے کا مقصد اپنے اور دوسروں کے دلوں کو سکون پہچانا ہے۔ انہیں رب سے ملانا ہے۔
آپ میرے ساتھ رہ کر قرآن مجید کے پیغام پڑھ سکتے ہیں اور بہت کچھ۔
اور اپریل سے اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ کو سمجھنے کا معزز اور خوبصورت ترین سفر شروع ہو رہا ہے تو میرے ساتھ آپ بھی اس سفر میں شامل ہو سکے گے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو خیر پر جمع فرمائے اور میری اس مجلس میں میرے اور آپ کے آنے کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنا دے آمین ثم آمین۔
اللہ کے عفو کی طالب
عائشہ ملک بنت یعقوب
![]()

