Daily Roshni News

پلوٹو کا ایک سال اور انسان کی مختصر زندگی کا راز

پلوٹو کا ایک سال اور انسان کی مختصر زندگی کا راز

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اگر انسان ذرا ٹھہر کر کائنات کے نظام پر غور کرے تو اسے اپنی حیثیت اور وقت کی حقیقت کا اندازہ ہونے لگتا ہے۔ ہم زمین پر رہتے ہوئے وقت کو اپنے محدود پیمانوں سے ناپتے ہیں، جہاں ایک سال بارہ مہینوں پر مشتمل ہوتا ہے اور زندگی چند دہائیوں میں سمٹ جاتی ہے، مگر جب یہی پیمانہ ہم کائنات کے دوسرے اجسام پر لاگو کرتے ہیں تو حقیقت یکسر بدل جاتی ہے۔ مثال کے طور پر پلوٹو، جو ہمارے نظامِ شمسی کا ایک نہایت دور دراز اور سرد سیارہ ہے، وہاں کا ایک سال زمین کے تقریباً 248 سالوں کے برابر ہوتا ہے۔

یہ تصور ہی انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے کہ اگر وہاں کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو جب وہ اپنی پہلی سالگرہ منائے گا، زمین پر کئی نسلیں گزر چکی ہوں گی۔ یہاں کے بچے بوڑھے ہو کر دنیا سے رخصت ہو جائیں گے، مگر وہ بچہ ابھی تک اپنے پہلے سال میں ہی ہوگا۔ اس مثال سے نہ صرف وقت کے فرق کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے مختلف حصوں میں وقت کا بہاؤ کس قدر مختلف ہے۔

پلوٹو کی رفتار سست ہونے کی بنیادی وجہ اس کا سورج سے بہت زیادہ فاصلہ ہے۔ جتنا کوئی سیارہ سورج سے دور ہوتا ہے، اتنی ہی اس کی رفتار کم ہوتی ہے اور وہ اپنے مدار کا چکر مکمل کرنے میں زیادہ وقت لیتا ہے۔ زمین سورج کے نسبتاً قریب ہے، اسی لیے وہ صرف 365 دنوں میں اپنا ایک سال مکمل کر لیتی ہے، جبکہ پلوٹو کو اسی عمل میں تقریباً ڈھائی صدی لگ جاتی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب 1930 میں پلوٹو دریافت ہوا تھا، تب سے لے کر آج تک وہ سورج کے گرد اپنا ایک مکمل چکر بھی پورا نہیں کر سکا۔

یہ حقیقت انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جس وقت کو ہم بہت قیمتی اور تیز رفتار سمجھتے ہیں، وہ دراصل کائنات کے بڑے پیمانے پر نہایت مختصر اور معمولی ہے۔ ہماری زندگی کے چند سال، پلوٹو کے حساب سے شاید چند لمحوں سے بھی کم ہوں۔ اس سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور ہمیں اسے سمجھداری اور مقصد کے ساتھ گزارنا چاہیے۔

کائنات کی وسعت اور اس میں موجود نظام ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا واضح ثبوت دیتے ہیں۔ ایک ہی خالق نے ایسے بے شمار نظام بنائے ہیں جہاں وقت، فاصلے اور رفتار سب مختلف ہیں، مگر ہر چیز اپنے مقررہ اصول کے تحت چل رہی ہے۔ یہ نظم و ضبط اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کائنات کا ایک ہی رب ہے جو ہر چیز کو سنبھالے ہوئے ہے۔ انسان جتنا اس نظام پر غور کرتا ہے، اتنا ہی اس کے دل میں اپنے خالق کی عظمت کا احساس بڑھتا ہے۔

یہ سوچ بھی دل کو جھنجھوڑ دیتی ہے کہ ہم اپنی مختصر زندگی میں کن چیزوں کو اہمیت دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ جب ایک سیارے کا ایک سال صدیوں پر محیط ہو سکتا ہے تو ہماری چند دہائیوں کی زندگی کتنی مختصر ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے وقت کو ضائع کرنے کے بجائے اسے نیکی، علم اور بھلائی کے کاموں میں صرف کریں تاکہ ہماری زندگی کا مقصد پورا ہو سکے۔

بے شک اللہ تعالیٰ واحد اور یکتا ہے، وہی اس عظیم کائنات کو چلا رہا ہے اور ہر چیز اسی کے حکم سے جاری ہے۔ انسان کی کامیابی اسی میں ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے، اس کی اطاعت کرے اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستہ اختیار کرنے کی توفیق دے، ہماری آخرت کو سنوار دے اور ہمیں اپنے انعام یافتہ بندوں میں شامل فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔

#پلوٹو

#کائنات

#وقت

#اللہ_کی_قدرت

#اسلامی_تحریر

#علم_و_حکمت

#حقیقت_زندگی

Loading