Daily Roshni News

مگر مجرم نے پیروں میں گرنے کی بجائے مرنا مناسب سمجھا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سچا واقعہ : سزا۔ئے موت کے قیدی کی سزا پر عملدرآمد سے چند منٹ پہلے مدعی نے مجرم سے  کہا ” میرے پیروں میں گر کر معافی مانگو تو معاف کردونگا ، مگر مجرم نے پیروں میں گرنے کی بجائے مرنا مناسب سمجھا ۔۔۔۔۔

جیلوں کے اندر کئی ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں جنہیں سن کر دل لرز جاتا ہے ایسا ہی ایک واقعہ صوبہ پنجاب کی ایک جیل میں برسوں قبل پیش آیا تھا ۔ فجر سے پہلے جب ایک مجرم کو پھا۔نسی کی سزا دی جانے والی تھی ، مجرم کو تختہ دار پر پہنچایا جا چکا تھا ، قواعد کے مطابق افسران نے مدعی سے پوچھا اگر معافی کی کوئی گنجائش ہے تو بتائیں ۔ مدعی نے کہا مجرم میرے پیروں میں گر کر معافی مانگ لے میں معاف کردیتا ہوں ، مجرم کو باآواز بلند یہ بات بتائی گئی تو اس نے کہا ، ایسی ذلت سے مجھے موت زیادہ پسند ہے ، چنانچہ مجرم کےمنہ پر کالا کپڑا چڑھا دیا گیا ، پھندہ گلے میں فٹ کردیا گیا ، مجرم کو آخری ہدایات دے دی گئیں اور جب جلاد لیور کی طرف بڑھا تو مدعی چیخ اٹھا ، اللہ کی راہ میں معاف کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ مجرم کے منہ سے کالا کپڑا اتار دیا گیا رسا ہٹا دیا گیا جونہی وہ تختہ دار سے نیچے اترا تیزی سے مدعی کی طرف گیا اور اسکے قدموں میں گر گیا ۔۔۔۔۔ بعد میں افسران نے پہلے معافی نہ مانگنے اور اب قدموں میں گرجانے کی وجہ پوچھی تو مجرم نے بتایا کہ میں نے مق۔تول کو اس لیے ق۔ت۔ل کیا تھا کیونکہ وہ ہمارے گھر کی ایک خاتون کے ساتھ پکڑا گیا تھا ۔ میرے فعل پر مجھے کبھی ندامت نہ رہی ، اگر آج میں اپنی جان بچانے کے لیے مدعی کے قدموں میں گرجاتا تو مجھ سے بڑا بے غیرت کوئی نہ ہوتا جس نے پہلے عزت کی خاطر ق۔ت۔ل کیا اور آج زندگی کی خاطر بے عزت ہوتا ۔۔۔ مگر مدعی کے معاف کرنے کے بعد میں اسکے قدموں میں اس لیے گرا کہ اس نے خود مجھے معاف کرکے مجھے خرید لیا تھا اب میرا فرض ہے کہ ساری زندگی اس کا تابعدار بن کر گزاروں جسکے دل میں اللہ نے میرے لیے رحم ڈالا ۔۔۔۔

Loading