Daily Roshni News

اولاد کی روحانی تربیت بچوں کی اچھی تربیت و تعلیم کے لئے اولیاء اللہ سے رہنمائی۔۔۔قسط نمبر2

اولاد کی روحانی تربیت

بچوں کی اچھی تربیت و تعلیم کے لئے

اولیاء اللہ سے رہنمائی

قسط نمبر2

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اولاد کی روحانی تربیت)  اسے آن نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں سائنس دان مختلف تجربات میں مصروف ہیں۔
اٹلی کے ایک شہر میں ایک خاتون نے اپنی ایک منت پوری کرنے کے لئے اپنے بچے کی ایک آنکھ پر چند ماہ کے لیے پٹی باندھ دی۔
بچہ کچھ بڑا ہوا تو خاتون کو احساس ہوا کہ اس بچے کی وہ آنکھ ٹھیک کام نہیں کررہی جس پرپٹی باندھی گئی تھی۔ پریشان ماں نے اسے کئی ڈاکٹروں کو دکھایا۔ ڈاکٹرز کسی تسلی بخش نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ پھر دنیا کے کئی ماہر ڈاکٹروں کے سامنے یہ کیس آیا۔ اس بچے کی آنکھ کا کئی طرح معائنہ کیا گیا ۔ بظاہر اس کی آنکھ میں کوئی خرابی نہ تھی۔ اس بچے کی ایک آنکھ کا نابینا پن ڈاکٹروں کے لئے معمہ بن گیا تھا۔ آخرکار ایک ماہر نیورولوجسٹ طویل تحقیق کے بعد معاملہ کی تہہ تک پہنچ گیا۔
جدید آلات کے ذریعے پتہ چلا کہ آنکھ کے اعضاء اور اعصاب تو نارمل ہیں لیکن دماغ میں وہ خلیات مردہ ہوچکے ہیں جو بینائی کی اطلاع وصول کرتے ہیں۔ پیدائش کے بعد ان خلیات کو کام کرنے کا موقع نہ مل سکا لہٰذا کچھ ہی عرصہ میں ان خلیات نے اپنا کام کرنا چھوڑ دیا۔ مزید چند ماہ میں یہ خلیات مردہ ہوگئے اور اس طرح بچہ آنکھ کے اعضاء و اعصاب صحیح ہونے کے باوجود ایک آنکھ کی بینائی سے محروم ہوگیا۔
بچے کو روحانی طرزِ فکر پر گامزن کرنے کی ابتداء بھی اس کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہوجاتی ہے۔ ایک روحانی انسان بننے میں بچے کی ماں کا کردار بہت اہم ہے۔ کتنے ہی اولیائے کرام کے ایسے واقعات موجود ہیں کہ جن میں ماں کی طرزِ فکر اور تربیت کا حصہ نمایاں ہے۔ماں کے ساتھ ساتھ بچے میں باپ کی طرزِ فکر کا بھی حصہ ہے۔ کئی بڑے اولیاء کرام کے حوالے سے شواہد ملتے ہیں کہ ان کے والدین، دادا دادی یا نانا نانی میں سے اکثر پیغمبرانہ طرز فکر پر گامزن تھے یا خود اﷲ کے دوستوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔
اس عالمِ رنگ و بو میں آنے کے بعد بچہ کی تربیت یا سیکھنے Learningکا نیا دور شرو ع ہوتا ہے۔ اس ابتدائی دور میں بھی ماں کا کردار اہم ہے۔
حضرت با با فرید گنج شکرؒ کے والد کا انتقال آپؒ کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا۔ آپ کی ابتدائی تربیت آپ کی والدہ نے کی۔ والدہ نے چاہا کہ بچہ کا نماز میں اﷲ تعالیٰ سے تعلق قائم ہوجائے۔ بچہ میں نماز کا شوق بڑھانے کے لیے وہ محترم خاتون یہ کرتیں کہ جائے نماز کے نیچے ایک پڑیا میں شکر رکھ دیتیں اور فرمایا کرتیں کہ جو بچے نماز قائم کرتے ہیں انہیں روزانہ شکر مل جاتی ہے۔
فرید الدین مسعود نماز ادا کر کے جائے نماز کا کونا الٹتے تو وہاں شکر موجود ہوتی۔ فرید الدین وہ شکر پا کر بہت خوش ہوتے۔
ایک روز فرید الدین کی والدہ جائے نماز کے نیچے شکر رکھنا بھول گئیں۔ اس روز نماز کے بعد جب فرید الدین مسعود نے جائے نماز اٹائی تو وہاں شکر کی پڑیا موجود تھی۔
فرید الدین کی والدہ محترمہ نے اس روز بعد میں بیٹے سے پوچھا بیٹا تم نے نماز پڑھ لی۔
فرید الدین نے جواب دیا ، جی اماں میں نے نماز پڑھ لی اور نماز کے بعد جائے نماز کے نیچے موجود شکر بھی کھائی۔
اس پر فرید الدین کی والدہ ماجدہ نے اللہ کا بہت شکر ادا کیا۔
بڑے پیر صاحب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کا ایک واقعہ بھی بہت مشہور ہے۔ جب تعلیم حاصل کرنے بغداد روانہ ہوئے تو ان کی والدہ نے چند اشرفیاں ان کے لباس میں سی کر انہیں بتادیا کہ کپڑوں میں اشرفیاں موجود ہیں۔ گھر سے روانہ ہوتے وقت شیخ عبدالقادر جیلانی کی والدہ نے انہیں نصیحت کی کہ بیٹا حالات کچھ بھی ہوں جھوٹ کبھی مت بولنا۔
سفر کے دوران ڈاکوؤں نے قافلے پر حملہ کردیا۔ ایک ڈاکو شیخ عبد القادر کے پاس آیا اور پوچھا ‘‘لڑکے تیرے پاس بھی کچھ ہے’’۔شیخ عبدالقادر نے جواب دیا‘‘ہاں میرے پاس اشرفیاں ہیں۔’’ رہزنوں نے تلاشی لی مگر انہیں اشرفیاں نہ ملیں۔ رہزنوں نے جھنجلا کر کہا جھوٹ بولتا ہے۔ آپؒ نے فرمایا ‘‘نہیں۔ میرے پاس اشرفیاں موجود ہیں’’۔ دوبارہ تلاشی لی مگر رہزنوں کو دوبارہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ جھنجلاہٹ میں وہ شیخ کو اپنے سردار کے پاس لے گئے اور بتایا کہ یہ لڑکا ایسا ایسا کہتا ہے۔ سردار کو بھی شیخ عبدالقادر نے یہی بتایا کہ میرے پاس اشرفیاں ہیں۔ اس موقع پر سردار نے ان سے کہا ‘‘اے نوجوان تو جھوٹ بول کر اپنی ان اشرفیوں کو ہم سے چھپا سکتا تھا پھر تو نے ایسا کیوں نہ کیا؟’’
شیخ عبدالقادرنے کہا ‘‘میری والدہ کی نصیحت ہے کہ حالات کچھ بھی ہوں کبھی جھوٹ نہ بولنا’’۔ شیخ عبدالقادر کی اس بات سے ڈاکو اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے قافلے والوں کا لوٹا ہوا سامان واپس کردیا اور رہزنی سے توبہ بھی کرلی۔
یہ واقعہ ہم عام طور پر سن اور پڑھ تو لیتے ہیں لیکن شاید اس کی گہرائی پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بچے صرف وہی باتیں قبول کرتے ہیں جو والدین کو کرتے دیکھتے ہیں۔ بڑے پیر صاحبؒ کے یقین کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ آپؒ کی والدہ نے کبھی جھوٹ نہ بولا تھا۔
یہ ہمارا عام مشاہدہ ہے کہ ہم ایک کام خود کرتے ہوں اور بچے کو وہ کرنے سے منع کریں تو نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی۔ ایک صاحب خود سگریٹ نوشی کرتے ہوں ان کے ہاتھ میں سگریٹ ہو اور وہ اولاد کو منع کریں کہ سگریٹ مت پیئو تو بتائیے کیا ان کی نصیحت میں کوئی اثر باقی رہ جائے گا۔
اپنے بچوں کو کسی برے کام سے روکنے کا مؤثر طریقہ یہ ہے کہ بڑے خود وہ کام نہ کریں۔ والدین کی بعض عادتیں بچے غیر محسوس طریقے سے قبول کرلیتے ہیں۔ والدین جھوٹ بولتے ہوں ، غیبت و چغلی کرتے ہوں تو اولاد بھی یہی رویہ اختیار کرلیتی ہے۔ حالانکہ والدین کبھی یہ نہیں چاہتے کہ برائیاں بچوں میں منتقل ہوں نہ ہی وہ اپنے بچوں کو برائیوں کی تعلیم دیتے ہیں مگر ان کا کردار بچوں میں غیر محسوس انداز میں منتقل ہوجاتا ہے۔
اہلِ روحانیت کی تعلیمات سے یہ روشنی ملتی ہے کہ ماں باپ کی سوچ بچے کو منتقل ہوتی ہے۔۔۔۔جاری ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ  مئی 2021

Loading