Daily Roshni News

یکم اپریل مسرور انور یوم وفات :-

یکم اپریل مسرور انور یوم وفات :-

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کرتم “جیسے مقبول ترین گیتوں کے خالق مسرور انور یکم اپریل 1996 کوحرکت قلب بندہوجانے کیباعث  دنیا سے رخصت ہوگئے ۔مسرور انور کو کئی نگار ایوارڈز ملے ان کی وفات کیبعد حکومت پاکستان کی جانب سے انھیں  صدارتی تمغہ حسن کارکردگی ے نوازا گیاتھا۔ سوہنی دھرتی جیسے لازوال ملی نغمات کے خالق مسرور انور کے اس گیت سے نا صرف پاکستانوں میں حب الوطنی کا اجاگر کیا وہیں کئی گلوکاروں جیسے شہناز بیگم، حبیب ولی محمد اور صبیحہ رضا کی وجہ شہرت بھی بنامسرور انور کے قلم نے اس گیت میں وہ تاثیر رکھی الفاظ کا خوبصورت چناو نے  اس گیت کو ملی نغموں میں سرفہرست بنایا، دیگر  نغمے اپنی جاں نذر کروں، وطن کی مٹی گواہ رہنا،جگ جگ جئے میرا پیارا وطن، لب پہ دعا ہے دل میں لگن جیسے مشہورگیت تحریر کیے۔مسرور انور نے پاکستان فلم انڈسٹری کی اہم ترین شخصیات وحید مراد، سہیل رانا، ،پرویز ملک کے ساتھ لازوال خدمات پیش کی ہیں۔

فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے کے بعد مسرور انورانڈسٹری کے لیے “گوہر نایاب” ثابت ہوئے ان کے قلم سے لکھے گیتوں نے بڑے بڑے اداکاروں کی شہرت میں بے پناہ اضافہ کیا۔

 مسرور انور کا تحریر کردہ فلم ارمان کا گیت اکیلے نا جانا ہمیں چھوڑ کر” اور کوکوکورینا’ آج بھی مقبول ترین گیت مانے جاتے ہیں۔

 مسرور انور کے گیتوں کی شہرت نے فلم کو بے پناہ شہرت دلوائی فلم ارمان’ پاکستان سینما انڈسٹری  کی “پہلی اردو پلاٹینم جوبلی” فلم تھی۔جو 48 برس تک مقبول ترین فلم رہی

ان کے گیت آج بھی سنے والوں میں مقبولیت رکھتے ہیں۔

Loading