سوال:-رابطہ کس طرح قائم ہو سکتا ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )جواب:-*رابطہ اس طرح ہوتا ہے کہ پہلے اپنے آپ کو دریافت کرو ۔ اور آپ رابطہ کس کے ذریعے کرنا چاہتے ہو؟ اگر ایک آدمی آنکھیں بند کر کے جلوے سے رابطہ کرنا چاہے تو نہیں ہو گا کیونکہ جلوے کے رابطے کے لیے آنکھ چاہیے
اگر وہ کیفیات سے رابطہ کرنا چاہتا ہے تو دل چاہیے ۔ کہتا ہے دل تو میرے پاس ہے نہیں لیکن مجھے کیفیات چاہئیں ، تو کیفیات نہیں ہوں گی
کہتا ہے مجھے کوئی بڑا حُسنِ خیال چاہیے لیکن میرا ذہن پریشان ہے ۔ تو پریشان ذہن میں حُسنِ خیال نہیں ہوتا ۔
کہتا ہے میں چاہتا ہوں کہ میں سخی بن جاوءں لیکن پیسے بینک سے نکلوانا حرام سمجھتا ہوں ، میں صرف جمع کرواتا ہوں اور نکلوا نہیں سکتا ۔ اب یہ بندہ سخی نہیں بنے گا بلکہ بخیل ہو جائے گا
مدعا یہ ہے کہ جس طرح آپ اللہ کے ساتھ رابطہ یا اس کے حبیب ؐ کے ساتھ رابطہ یا جس صفت کے ذریعے سے رابطہ کرنا چاہتے ہو تو پہلے وہ صفت دریافت کرو ۔ مثلاً نماز کے ذریعے سے رابطہ کرنا چاہتے ہو تو پھر یہ رابطہ پیشانی سے نکلے گا پھر آپ پیشانی اس وقت تک نہ اُٹھاوء جب تک وہ رابطہ نہ ملے ۔ پھر دیکھا جائے گا
شوق مٹ جائے یا جبیں نہ رہے
پھر یہ رابطہ پیدا ہو جائے گا ۔ اگر آپ آنکھ کے ساتھ کرنا چاہتے ہو تو پھر آنکھ کو تلاش کرو ، تو جہاں تمہاری آنکھ کو خیرہ کرنے والی طاقت آ گئ ، چہرہ آ گیا وہاں سے رابطہ مل جائے گا ۔ تو آپ جیسا ذریعہ لے کے چلیں گے ویسی ہی طاقت کو پا لیں گے ، یہ نہ ہو کہ آپ آنکھ لے کے چلو اور آگے جا کے آنکھیں بند کر لو ۔ چمگادڑ کو سورج نظر نہیں آتا ۔ یہ فقیروں نے پوری بات بتائی ہے ۔ اس لیے یہ فیصلہ کریں کہ آپ کس سے رابطہ کرنا چاہتے ہیں اور کس کے ذریعے رابطہ کرنا چاہتے ہیں
ایک آدمی نے کہا میں اللہ سے رابطہ کان کے ذریعے کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ سارے رابطے آپ کے حواسِ خمسہ کے ذریعے ہو سکتے ہیں ، یہ جو سارے آپ کے حواسِ خمسہ ہیں بولنا ، سننا ، دیکھنا ، سونگھنا ، احساس ، دل ، دماغ ، سب چیزیں اس میں شامل ہیں ۔ تو اس شخص نے کہا میں کانوں کے ذریعے اللہ سے رابطہ قائم کرنا چاہتا ہوں اور پھر بیٹھا رہا ، اس کے سامنے سے جلوے کی طاقت گزر گئ لیکن اس نے نہیں دیکھا اور کہنے لگا کہ وہ تو آنکھوں کو ، جلوہ دکھا رہا ہے لیکن میں کانوں والا جلوہ چاہتا ہوں ۔ تو اس کو کانوں والا جلوہ چاہیے تھا ۔ پھر اس نے دیکھا کہ ایک تار چھڑا ہے ، تنبورے کا ، ستار کا تار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ سٹ پٹا اٹھا اور بولا ۔
خشک مغز و خشک تار و خشک پوست
از کجا می آید ایں آوازِ دوست
یعنی تار کے اندر اس کو دوست کی آواز آ گئ اور تڑپ اٹھا ۔ کہتا ہے کہاں سے یہ آواز آ رہی ہے یعنی کہ خود اسی کے اندر سے آواز آ رہی ہے ۔ مولانا رومؒ نے جب آواز سنی تو کہا
بشنو از نَے حکایت می کند
و زِ جدائیہا شکایت می کند
یعنی یہ بنسری کیا نغمہ سنا رہی ہے ، یہ تو جدائی کی کوئی کہانی ہے اور میری ہی داستان سنا رہی ہے ۔ تو ان کو کہاں سے رابطہ ملا؟ بنسری سے اور نغمے سے ۔ تو کانوں سے سننے والے یہ کہہ اٹھتے ہیں کہ
گوشِ مشتاق کی کیا بات ہے اللہ اللہ
سن رہا ہوں میں وہ نغمہ جو ابھی ساز میں ہے
اگر شوق والے پیدا ہو جائیں تو ساز کے اندر نغمہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ اگر شوق پیدا ہو جائے تو قوالی کے بغیر ہی قوالی ہو جاتی ہے اور آپ کے کان کے ساتھ اندر باہر قوالی شروع ہو جاتی ہے ۔ یعنی کہ آپ اپنے آپ کو درست کرو کہ اسے کیسے دیکھو گے ، اس کی تلاش کس ذریعے سے کرو گے
میں نے پہلے بتایا تھا کہ اگر پیسے لے کے جاوء گے تو وہ لینے والوں میں آئے گا، پیسے لینے جاوء گے تو دینے والا بن کے آ جائے گا ، سجدہ کرنے جاوء گے تو وہ مسجود ہے اور اگر کافر ہو کے اس کی تلاش کرو گے تو پھر تھوڑی سی الجھن ہو جائے گی ، زیادہ اُلجھن بھی ہو سکتی ہے ، زیادہ ”دانا“ بن کے اللہ کی تلاش میں جاوء گے تو پھر وہ الجھا دے گا ”واللہ خیر الماکرین“ تو وہ الجھا دے گا ۔ اس لیے آپ سادہ بن کے جاوء ۔ تو رابطے کا ذریعہ کیا ہے اور رابطے کا نمبر کیا ہے؟ رابطے کا نمبر تیری صفت ہے اور رابطے کا ذریعہ تیرا Instrument ہے ، تیرا ذریعہ ہے ۔ تو جو تیرا ذریعہ ہے وہی اس کا ذریعہ ہے
اگر کان لے کے جاوء گے تو نغمہ بن کے آئے گا ، آنکھ لے کے جاوء گے تو وہ جلوہ بن کے آئے گا ، تم بولنا چاہو تو وہ سماعت بن کے آ جائے گا ، آپ کچھ کرنا چاہو گے تو ہو جائے گا ۔ آپ کچھ کرو تو سہی ۔ پھر رابطے ہی رابطے ہیں
ایسے آدمی میں نے دیکھے ہیں جو قرآن شریف پڑھتے ہیں تو آج بھی قرآن شریف کے مالک آ کے سنتے ہیں ! آپ بات سمجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح جب وہ درود شریف پڑھتے ہیں تو درود شریف جس ذات پر پڑھا جا رہا ہے ، وہ ذات گواہی دیتی ہے کہ میں سن رہا ہوں ، Even Now آج کل بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بات سجھ رہے ہیں ۔ جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو جس کی نماز پڑھتے ہیں وہ وہیں ہوتا ہے ۔ کہاں ہوتا ہے؟ وہ وہیں ہوتا ہے ورنہ حساب کون رکھتا ، وہیں منظوری اور نامنظوری ہو جاتی ہے کیونکہ وہ ہمیشہ ہی وہیں ہوتا ہے اور اس کا بیک وقت ہر جگہ ہونا ہی اس کے اللہ ہونے کا ثبوت ہے ۔ یہی اس کی شان ہے کہ بیک وقت ہر جگہ ہونا اور ہر ایک کے ساتھ ہونا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں دعا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔
(گفتگو 11 ………. صفحہ نمبر 42 تا 146)
حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ
![]()

