Daily Roshni News

شاہین ہو کر مرغیوں کے ڈربے میں دانے چگنا ہی اصل معذوری ہے! اپنی سوچ آزاد کرو، پرواز خود بخود لوٹ آئے گی۔

شاہین ہو کر مرغیوں کے ڈربے میں دانے چگنا ہی اصل معذوری ہے! اپنی سوچ آزاد کرو، پرواز خود بخود لوٹ آئے گی۔

دنیا کی سب سے بڑی معذوری جسم کی نہیں بلکہ ہماری اس سوچ کی ہے جسے ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے مادی مفادات اور باطل نظاموں کے سامنے گروی رکھ دیا ہے۔ ہم نے یہ مان لیا ہے کہ اسلام صرف چند عبادات تک محدود ایک ‘مذہب’ ہے، اور یہی وہ ذہنی قید ہے جس نے ہمیں ایک فاتح امت سے ایک اپاہج ہجوم میں بدل دیا ہے۔ جب ہماری سوچ ہی یہ تسلیم کر لے کہ بازار، سیاست اور ریاست کے فیصلے اللہ کے قانون کے بجائے انسانی خواہشات پر ہوں گے، تو پھر ہمارا توانا جسم بھی درحقیقت ایک فکری لاش کے سوا کچھ نہیں۔ ہم نے اپنی فکر کو اس ادھورے دین تک محدود کر لیا ہے جو کسی ظالم کو نہیں چبھتا، کیونکہ ہم نے اپنی سوچ کے کینوس سے ‘پورے دین’ کا تصور ہی مٹا دیا ہے۔

​ہمارے ذہنوں کا اصل بگاڑ یہ ہے کہ ہم نے ‘دین’ کو ایک محفوظ گوشہ سمجھ لیا ہے جہاں بیٹھ کر ہم اپنی روح کو تو تسکین دیتے ہیں، مگر اپنی سوچ کو اس نظامِ جاہلیت سے بغاوت کرنے کی اجازت نہیں دیتے جس نے پوری انسانیت کو اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ ذرا گریبان میں جھانک کر دیکھیں! جب ایک شاہین صفت عقاب مرغیوں کے ڈربے میں رہنا سیکھ لے اور انہی کی صحبت میں مگن ہو جائے، تو وہ اپنی فطری بلندی اور اڑان بھول کر زمین پر گندگی میں دانے چگنے کو ہی اپنی کل کائنات سمجھ لیتا ہے۔ یہی عبرت ناک حال ہمارا ہو چکا ہے؛ ہم نے جاہلیت کی اس بستی میں رہتے ہوئے اپنی سوچ کو اتنا پست کر لیا ہے کہ اب ہمیں خلافت اور حاکمیتِ الٰہیہ کے آسمان اجنبی لگتے ہیں۔ ہم نے اپنی پرواز کو مادی ضرورتوں کے پنجرے میں قید کر دیا ہے اور اسی ذلت کو اپنی معراج سمجھ بیٹھے ہیں۔

​جس لمحے ہم اپنی سوچ کا زاویہ بدل کر اسے ‘حاکمیتِ الٰہیہ’ کے تابع کرتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ جسے ہم اب تک ‘دین’ سمجھ رہے تھے وہ تو محض چند رسومات کا مجموعہ تھا۔ اصل فساد تو ہمارے اپنے ذہنوں کے اس خوف میں چھپا ہے جو ہمیں جاہلیت کے فرسودہ نظام کو چیلنج کرنے سے روکتا ہے۔ ہم نے یہ سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے کہ بازار اور پارلیمنٹ بھی اللہ ہی کی ملکیت ہیں اور وہاں اس کا قانون نافذ ہونا چاہیے۔ یہ ذہنی جمود ہی وہ جڑ ہے جہاں سے ہماری ناکامی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی سوچ کو اس ادھورے اور بے ضرر اسلام کی لوریوں سے بیدار کر لیں، تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہم معذور پیدا نہیں ہوئے تھے بلکہ ہم نے خود کو ذہنی غلامی کے پنجرے میں بند کر کے اپنی اڑان خود ختم کر لی ہے۔

​اب اس فکری بانجھ پن اور مصلحت کی چادر کو چاک کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ یہ ادھورا اور محفوظ اسلام درحقیقت ایک ایسا میٹھا زہر ہے جو ہمیں نظام بدلنے کی تڑپ سے محروم کر رہا ہے۔ ہماری یہ خاموش رضامندی ہی باطل نظاموں کا اصل ایندھن ہے۔ اب یہ انتخاب ہمارا اپنا ہے: کیا ہمیں اسی ڈربے میں مرغیوں کی طرح دانے چگتے ہوئے زندگی تمام کرنی ہے، یا اس شاہین کی طرح اپنی فکر کو ‘حاکمیتِ الٰہیہ’ کی بلندیوں پر لے جانا ہے جہاں باطل کے ہر بت کی حقیقت محض راکھ دکھائی دیتی ہے؟ یاد رکھیے، کائنات کا ذرہ ذرہ اس انقلاب کا منتظر ہے جو صرف اس وقت برپا ہوگا جب ہماری سوچ جاہلیت کے پرزے بننے سے انکار کر کے اللہ کی زمین پر اس کے نظام کی پکار بنے گی۔ یہ جنگ میدانوں سے پہلے ہمارے ذہنوں میں لڑی جانی ہے، اور اس میں جیت وہی ہے جو خود کو مادی غلامی سے آزاد کر کے کائنات کے اصل مالک کی نیابت کا حق ادا کرے۔

(صالحہ نعمان)

Loading