قیامت کی بڑی نشانی “دابۃ الارض” کی مکمل حقیقت: انٹرنیٹ کے جھوٹے دعوے، صفا پہاڑی کا تذکرہ اور مستند حقائق کا مکمل تحقیقی جائزہ
مؤلف: طارق اقبال سوہدروی
⚠️ ایک ضروری وضاحتی نوٹ: انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس پر آج کل قیامت کی نشانیوں کے حوالے سے ایسی ایسی من گھڑت باتیں اور ویڈیوز گردش کر رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ عام لوگ، جو علمِ حدیث کے اصولوں سے واقف نہیں، وہ ان سنسنی خیز باتوں کو سچ سمجھ کر آگے پھیلا رہے ہیں۔ “ہماری تحقیق” کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ ہم نیٹ پر چلنے والی ہر مشکوک بات کو سامنے رکھ کر اس کی علمی تردید کریں تاکہ لوگ آگاہ رہیں کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔
1۔ کیا یہ صفا پہاڑی سے نکلے گا؟ (مقامِ خروج کی حقیقت)
انٹرنیٹ پر یہ بات اِنتہائی شہرت اختیار کر چکی ہے کہ “دابۃ الارض” مکہ مکرمہ کی مشہور پہاڑی “صفا” سے نکلے گا جو اچانک پھٹ جائے گی۔
تردید و وضاحت: مختلف تفاسیر (جیسے تفسیر ابن کثیر اور قرطبی) میں بعض صحابہ اور تابعین کے آثار (روایات) نقل کیے گئے ہیں کہ یہ جانور صفا پہاڑی سے نکلے گا۔ لیکن علمی حقیقت یہ ہے کہ اس مقام کی تعین کے بارے میں کوئی بھی ایسی “مرفوع اور قطعی صحیح حدیث” موجود نہیں ہے جسے رسول اللہ ﷺ کا فرمان کہا جا سکے۔ یہ مفسرین کے نقل کردہ اقوال اور آثار ہیں، لہٰذا اس پر قطعی یقین رکھنا کہ یہ صفا ہی سے نکلے گا، علمی لحاظ سے درست نہیں۔
2۔ عجیب و غریب حلیہ: (بیل، خنزیر اور ہاتھی کی مشابہت کا رد)
یوٹیوب پر ایسی ویڈیوز کی بھرمار ہے جن میں دکھایا جاتا ہے کہ اس جانور کا سر بیل جیسا ہے، آنکھیں خنزیر جیسی، کان ہاتھی جیسے اور سینگ بارہ سنگھے جیسے ہیں۔
تردید و وضاحت: یہ تمام تفصیلات جن میں اس کے جسم کے مختلف حصوں کو الگ الگ جانوروں سے تشبیہ دی گئی ہے، مستند احادیث سے ثابت نہیں ہیں۔ محدثین کے نزدیک یہ روایات “اسرائیلیات” (پچھلی قوموں کے قصے کہانیوں) سے لی گئی ہیں یا اِنتہائی ضعیف ہیں۔ صحیح نصوص ہمیں صرف یہ بتاتی ہیں کہ وہ ایک غیر معمولی “دابۃ” (زمین پر چلنے والی مخلوق) ہوگی۔ اس کا حلیہ کیسا ہوگا؟ اس کی صحیح تفصیل اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
3۔ جدید سائنسی دعوے: (کیا یہ کوئی وائرس یا AI ہے؟)
آج کل کے “جدید مفکرین” نیٹ پر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ دابۃ الارض سے مراد “کرونا وائرس” تھا یا یہ “آرٹیفیشل انٹیلیجنس” (AI) ہے جو کمپیوٹر سے کلام کرتی ہے۔
تردید و وضاحت: یہ سراسر گمراہی اور قرآن کی معنوی تحریف ہے۔ قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ وہ “تُكَلِّمُهُمْ” (ان سے کلام کرے گا)۔ وائرس کلام نہیں کرتا۔ دوسرا یہ کہ وہ مومن اور کافر کے چہروں پر نشان لگائے گا، کوئی سافٹ ویئر ایمانی بنیادوں پر انسانوں کو تقسیم نہیں کر سکتا۔
4۔ الجساسہ سے مغالطہ: (ایک اہم تصحیح)
کچھ لوگ نیٹ پر یہ غلط فہمی پھیلاتے ہیں کہ حضرت تمیم داری ؓ نے جس “الجساسہ” (جسیم جانور) کو جزیرے پر دیکھا تھا، وہی دابۃ الارض ہے۔
تردید و وضاحت: یہ دونوں الگ الگ نشانیاں ہیں۔ الجساسہ کا ذکر صحیح مسلم (حدیثِ تمیم داری ؓ) میں آیا ہے، یہ ایک اِنتہائی بالوں والی مخلوق ہے جس کا نام ہی “جاسوسی کرنے والی” ہے اور اس نے صحابہ کو دجال تک پہنچایا تھا۔ جبکہ “دابۃ الارض” قیامت کی وہ بڑی نشانی ہے جو دجال کے ہلاک ہونے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے دور کے بھی بعد ظاہر ہوگی۔ ان دونوں کو ایک سمجھنا علمی فاش غلطی ہے۔
5۔ شیعہ مکتبِ فکر کی تشریح: (علمی معلومات کے لیے)
اس موضوع پر ایک بڑا علمی اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض معتبر شیعہ تفاسیر (مثلاً بحار الانوار اور تفسیر القمی) میں “دابۃ الارض” سے مراد ایک عظیم انسان (حضرت علی بن ابی طالب ؓ) لیے جاتے ہیں۔ وہ اسے ان کی “رجعت” (واپسی) سے تعبیر کرتے ہیں۔
تحقیقی نوٹ: اہل سنت کے تمام علماء اسے قرآنی الفاظ اور مستند احادیث کے ظاہری مفہوم کے خلاف قرار دیتے ہیں کیونکہ “دابۃ” کا لفظ لغوی طور پر زمین پر چلنے والے چوپائے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ محض ایک مکتبِ فکر کی اپنی تشریح ہے جسے ہم نے معلومات کے لیے یہاں بیان کیا ہے۔
🟢 اصل اور حتمی حقائق: قرآن و حدیث کی مستند معلومات
اوپر دی گئی تمام مشکوک باتوں کے بعد، اب ہم ان قطعی حقائق کو بیان کرتے ہیں جو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور جن پر ہمیں ایمان رکھنا چاہیے:
۱۔ قرآنِ کریم کی قطعی گواہی:
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النمل میں اس نشانی کو اِن الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
“وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُونَ” (ترجمہ: اور جب ان پر (عذاب کا) وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا، تو ہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔) — (سورۃ النمل: 82)
۲۔ مومن اور کافر کی تمیز (مہر لگانا):
مستند احادیث کے مطابق اس جانور کا بنیادی مقصد لوگوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ مسند احمد (حدیث: 7924) کے مطابق اس کے پاس حضرت موسیٰ ؑ کا عصا اور حضرت سلیمان ؑ کی انگوٹھی ہوگی۔ وہ عصا سے مومن کے چہرے کو روشن کر دے گا اور انگوٹھی سے کافر کی ناک یا چہرے پر مہر لگا دے گا، یہاں تک کہ لوگ ایک دوسرے کو ان کے ایمان و کفر کی بنیاد پر پہچانیں گے۔
۳۔ ظہور کا وقت (ترتیب):
صحیح مسلم کی روایات کی روشنی میں دابۃ الارض اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ایسی نشانیاں ہیں جو قریب قریب ظاہر ہوں گی۔ ایک کے ظاہر ہونے کے فوراً بعد دوسری ظاہر ہو جائے گی۔ یہ وہ وقت ہوگا جب توبہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو چکا ہوگا۔
خلاصہ: جو کچھ قرآن و صحیح حدیث کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے، صرف وہی حتمی سچ ہے؛ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر موجود تمام رنگین داستانیں، مقامات کی تعین اور من گھڑت حلیے مشکوک اور غیر مستند ہیں۔
حوالہ جات:
[1] القرآن الکریم: سورۃ النمل، آیت 82۔
[2] صحیح مسلم: کتاب الفتن، حدیث نمبر 2901 اور 2941 (تمیم داری ؓ کی روایت)۔
[3] مسند احمد: حدیث نمبر 7924 (عصا اور انگوٹھی کا ذکر – حسن درجہ)۔
[4] بحار الانوار: علامہ مجلسی، جلد 53 (شیعہ تفسیری نکتہ نظر کے لیے)۔
[5] تفسیر ابن کثیر: جلد 6، صفحہ 211 (زیرِ تفسیر آیت دابۃ الارض)۔
#قیامت_کی_نشانیاں #دابۃ_الارض #تحقیق #اسلام #قرآن_و_حدیث #طارق_اقبال_سوہدروی #سائنس_قرآن_کے_حضور_میں
![]()

