Daily Roshni News

كائنات اور کائنات۔۔۔تحریر۔۔۔واصف علی واصف

كائنات اور کائنات

تحریر۔۔۔واصف علی واصف

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔قدرت کے قوانین اور اصول اٹل ہیں۔ قدرت اپنے بنائے ہوئے قوانین اور اصولوں کے مطابق خود بھی پابندی اختیار کرتی ہے اور دوسروں کو بھی ان میں پابند کر کے رکھ دیتی ہے۔ اللہ کا نظام نہیں بدلتا۔ اس نے جو کچھ کر دیا وہ ہو گیا اور ایسا ہوا کہ ہمیشہ ہی ہوتا رہا۔ سورج مشرق سے نکلتا ہے تو نکلتا ہی چلا آ رہا ہے۔ مغرب میں ڈوبتا ہے تو مغرب میں ہی ڈوبتا چلا جارہا ہے۔

یہ عجیب بات ہے کہ ہر روز نئی اور نرالی شان والا اللہ ، ہر چیز کو اس کے حصار اور اس کے مدار میں ہمیشہ حرکت کرتے رہنے کا حکم لکھ چکا ہے اور جو کچھ وہ لکھے چکا ہے، وہ ائل ہے…..

ہمارے ارادے بدلتے رہتے ہیں لیکن اس کا ”امر“ اٹل ہے۔ تبدیل نہیں ہوتا ….

زمین کی گردش، بلکہ گردش شام و سحر ، گردشِ افلاک، گردش ز نامہ، ہر چیز مقرر شدہ اور مکتوب ہے، ایک مخفی کتاب میں ….

جاننے والے جانتے ہیں کہ واصف علد زندگی کے نصیب میں موت لکھی ہے

جاچکی ہے۔ ہونا نہ ہونا ہو کر رہتا ہے۔ قادر مطلق نے قوانین قدرت بیان فرمادیے ہیں کہ ایسا ہو گا، ایسا نہیں ہو گا ….

انسان جتنی کوشش کرے گا اتنا ہی نتیجہ حاصل کرے گا۔ یہ اصول ہے، دریا پہاڑوں سے نکلے گا.. رواں دواں اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گا اور سمندر سے ہمکنار ہو گا …. آسمانوں سے مینہ برسے گا، زمین سے پودے اگیں گے ، پرندے ہوا میں اڑیں گے اور مچھلیاں پانی میں تیریں گی …. سب اصول مقرر ہو چکے ہیں۔ تمام قوانین مرتب ہو چکے ہیں۔ سب باتیں طے ہو چکی ہیں۔ ہر آغاز کا ایک انجام ہو گا اور ہر انجام کسی آغاز پر منتج ہو گا۔

اگر بات صرف یہاں تک ہوتی تو یہ کائنات، یہ زندگی ایک مشین بن کر رہ جاتی ۔ لیکن غور کرنے والے، فکر کرنے والے، تدبر و تفکر کرنے والے جانتے ہیں کہ اس منظم اور مرتب کائنات کے ساتھ ساتھ ایک اور کائنات بھی ہے….. جہاں کے اصول اصولوں کے جہاں سے الگ ہیں۔ جہاں کے قانون، قانون کی دنیا سے بہت ہی مختلف ہیں۔ یہ ایک نرالی کا ئنات ہے۔ بالکل مختلف، یکسر عجیب بلکہ ایک مجو به….

اصول تو یہ ہے کہ آگ جلائے گی، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ نار ہے اور اس میں گزار ہے، اور اس گلزار کے اندر محرم اسرار جلوہ گر….. اصول بنانے والے نے اصول کو معطل کرنے کا بھی اصول بنایا ہے۔ جس نے آگ کو حدت عطافرمائی ، اس نے آگ کو حکم دیا کہ وہ ٹھنڈی ہو جائے، سلامتی کے ساتھ ابراہیم ہے…. منشا کا اصول الگ ہے….. وہ چاہے تو کیا سے کیا ہو جائے …. وہ اپنے اصولوں کا کیوں پابند ہو گا ….

قانون تو یہ ہے کہ محنت کرنے سے رزق ملے گا لیکن جب دینے والا چاہے تو بے حساب دے دیتا ہے۔ بے پناہ دیتا ہے۔ وہ زمین اور آسمان کے خزانوں کا مالک ہے اور کسی کے آگے جوابدہ نہیں، نہ اس کا کوئی آؤٹ کر سکتا ہے۔

کائنات کا کوئی اصول ایسا نہیں، جس میں استثناء نہ ہو۔ علم ہی کو لیجیے۔ علم مکتب سے ملتا ہے۔ اساتذہ سے ملتا ہے۔ لیکن یو یورسٹی شیکیٹر کا علم تو دے سکتی ہے، شیکسپیر بنے کا علم نہیں دے سکتی۔ اقبال نے شرق و غرب کے علوم حاصل کر لیے۔ اس کی روح میں تحقیقی بڑھ گئی …. اب شرق و غرب کے علوم کے بعد کیا بعد تو صرف اصول سے باہر کی کائنات کا علم ہے۔ وہ علم جو کتاب میں نہیں۔ وہ صرف جنون” سے ملتا ہے، نظر سے ملتا ہے، نصیب سے ملتا ہے۔ قانون سے باہر، اصول سے پرے، الگ ، الا انو کا علم انوکھی کا نات کی دریافت کا علم ایسی کائنات جہاں عمل معطل ہے اور علم ہی علم ہے۔ جہاں صرف مشاہدہ ہے، حیرت ہے ، نیر کی ہے، کوئی اصول نہیں۔

یہ ظاہری کائنات اس کائنات کے مقابلے میں بہت ہی مختصر ہے۔ وہ کائنات منشا کی کائنات ہے۔ عنایات کی کائنات ہے، عطا کی کائنات ہے۔ ایسی کانات، جہاں وقت ساکن ہو جاتا ہے اور جلوے متحرک رہتے ہیں۔ جہاں دن رات، ماہ و سال نہیں ہوتے۔ وہاں صرف محویت اور جلوے ہوتے ہیں۔ علم ہی علم ہوتا ہے اور تعلیم نہیں ہوتی۔ اس کائنات میں دنیا کو علم عطا کرنے والے ہوا کرتے ہیں۔ یہ علم لدنی والوں کی کائنات ہے۔ اس کائنات میں محنت نہیں، محبت کام آتی ہے، ادب کام آتا ہے، نصیب کام آتا ہے۔

نصیب کے حق میں بات کرنے سے کوشش کے حق میں بات کرنے والے خفا ہو جاتے ہیں۔ جب تک کوشش کی محرومیاں سمجھ میں نہ آئیں، نصیب کو نہیں سمجھا جاسکتا۔ کوشش کامیاب ہو جائے تب بھی بے نصیب آدمی ناکام ہو جاتا ہے۔ کامیاب کوششوں نے بڑی ویرانیاں چھوڑی ہیں، اس دنیا میں۔ کوشش کو اگر ہاتھی کہہ لیا جائے تو نصیب ابائیل کی کنکری ہے۔ یہ سلسلہ بہت طویل ہے۔یہ داستان بہت لمبی ہے۔

بہر حال مقصد یہ ہے کہ ظاہری کائنات جس میں کوشش اور اصول پر زور دیا جاتا ہے، اس باطنی کا ئنات سے قدرے مختلف ہے۔ جہاں نصیب اور نصیب والوں کی جلوہ گری ہے۔

اس کائنات کے بارے میں غور کرنا چاہیے۔ وہ باطنی کا ئنات دعاؤں کی کائنات ہے۔ دعا نصیب ساز ہوتی ہے۔ دعا نا ممکنات کو ممکن بنا دیتی ہے۔ وقت بدل جاتا ہے۔ زمانے بدل جاتے ہیں۔ ناتواں تو انا ہو جاتے ہیں۔ شکست فتح میں بدل جاتی ہے اور معزول سر فراز کر دیے جاتے ہیں۔

وہ کائنات روح کی کائنات ہے، نشانیوں کی کائنات ہے، جلووں کی کائنات ہے، محبوب کے انکشاف کی کائنات ہے ، رضا اور منشا کی کائنات ہے۔ وہ مخفی کائنات اسی ظاہری کائنات کے اندر ہے۔ وہاں خاموشی بولتی ہے۔ وہاں درخت باتیں کرتے ہیں۔ پہاڑ پیغام رسانیاں کرتے ہیں۔ ور یا علامتیں بن جاتے ہیں اور سمندر حقیقت کا روپ اختیار کر جاتے ہیں۔ اس کائنات میں دل والے، روح والے، حق والے داخل کیے جاتے ہیں۔ اس کائنات کا سفر راتوں کو پچھلے پہر طے ہوتا ہے۔

اس کائنات میں اشکوں کے چراغ جلتے ہیں۔ روشنی ہی روشنی، نور ہی نور ، جلوے ہی جلوے۔ یہیں وہ مقام ہے جہاں اصول اور قانون تبدیل ہو جاتے ہیں۔ وقت کے فاصلے سمٹ جاتے ہیں۔ غیب حاضر اور حاضر غیب ہو جاتا ہے۔

اسی کائنات میں موت کا عمل معطل ہو جاتا ہے دور کی آواز قریب سے سنائی دیتی ہے۔ یہ مخفی کائنات اللہ کے خاص بندوں کی کائنات ہے۔ ان لوگوں کی جن پر اس کا فضل ہوتا ہے۔ یہ کائنات کوشش سے نہیں، نصیب سے میسر آتی ہے۔

یہ عجب بات ہے کہ انسان آگ لینے جائے اور پیغمبری لے کر آئے …..

یہ باطنی کائنات سب سے پہلے اپنے باطن میں دریافت ہوتی ہے اور پھر یہ کائنات پھیلتی ہوئی کل کا ئنات بن جاتی ہے۔ یہاں کے اصول عجیب، یہاں کے قوانین نرالے ہیں۔ یہاں منزلیں نہیں ہو تیں۔ صرف سفر ہوتا ہے، مسلسل سفر ۔

ایک مقام کے بعد ایک اور مقام انتظار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں دیکھنے کے لیے آنکھ بند کرناپڑتی ہے اور سننے کے لیے کان در کار نہیں۔ یہاں سماعت دل کے کان سے ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں اس کائنات میں داخل کر دیا جاتا ہے۔

یہ کائنات نظاروں کی کائنات ہے۔ ایثار کی کائنات ہے۔ دوسروں کے دکھ بانٹنے کی کائنات ہے…. اس کائنات کے معتبر نام وہی ہیں جو دوسروں کے غم گسار ہیں …. دوسروں کی تکالیف کم کرنے والے …. خوشیاں دینے والے لوگ اس کائنات کے خوش نصیب ساکن ہیں۔ وہ خوش نصیب جن کے پیش نظر انسان کی زندگی کو آسان بناتا ہے، جو ہمہ حال منشائے محبوب اور آواز دوست پر لبیک کہتے ہیں۔

اس کائنات کا دستور عجیب ہے۔ یہ باطنی کائنات اتنی پر اسرار ہے جتنا انسان کا اپنا باطنی وجود …. باطن میں ارادہ ہوتا ہے اور ظاہر اس ارادے کے مطابق عمل پیرا ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔ مثلاً ذہن یاد ماغ ارادہ کرے تو اعضا و جوارح حرکت شروع کر دیتے ہیں۔ اگر دل میں محبت آئے تو زبان میں شائستگی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر باطن میں غصہ آئے تو ظاہری وجود کے چہرے پر تیوری اور نفرت کا اظہار ہونالازمی ہے۔ باطن مصروف عبادت ہو تو ظاہر معصومیت کا پیکر بن جاتا ہے۔

اس طرح یہ پُر اسرار باطنی کائنات صاحبانِ ارادہ کی کائنات ہے۔ وہاں جو فیصلے ہوتے ہیں، وہ ظاہر کی دنیا میں ظاہر ہوتے ہیں۔ وہاں دعائیں ہوتی ہیں اور ظاہر میں تاثیریں میسر آتی ہیں۔ وہاں ارادے بدلتے ہیں اور یہاں زمانے بدل جاتے ہیں۔ وہاں مزاج بدلتے ہیں تو یہاں حکومتیں بدل جاتی ہیں۔

وہاں “کن” کی جلوہ گری ہے تو یہاں فیکون کی کار فرمائی ہے۔ یہ پراسرار لوگوں کی پر اسرار کائنات سب کے سامنے ہے لیکن یہ سب پر آشکار نہیں ہوتی۔ اس میں داخل ہونے کا کوئی حتمی اصول نہیں۔ بس نصیب اور منشائے الہی ہے۔

جس کا نصیب بیدار ہو گیا، وہ صاحب اسرار ہو گیا …. جن کو منشائے الہی میسر ہو، انہیں آہ سحر گاہی میسر ہوتی ہے اور آج سحر گاہی اس کائنات اور باطنی کائنات میں رابطے کا بڑا معتبر ذریعہ ہے۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی  ڈائجسٹ جنوری 2026

Loading