“ تلاش خدا اور کشف المحجوب “
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )خواتین و حضرات! اس تلاش میں، میں ایک مرتبہ آستانہ ہجویر پر حاضر ہوا، بڑا گلہ کیا، میں نے ان سے کہا: تم لوگ لفاظ ہو، بے کار کی بحثوں میں تم نے لوگوں کو الجھائے رکھا، جمع و وحدت میں الجھائے رکھا، صدق و صفا میں الجھائے رکھا۰۰۰۰
اگر آپ کہتے ہو کہ زمین اقطاب سے خالی نہیں ہوتی، نقیبوں اور نجیبوں سے خالی نہیں ہوتی تو ایک متلاشی کو کون سراغ دے گا؟۔
کہاں سے لاؤں گا وہ رہبر، کہاں سے لاؤں گا وہ دانش ور جو حجاب ذات سے مجھے آشنا کر دے، کوئی ایسا سراغ تو ہوگا آپ کے پاس؟
مگر کیا افسوس کی بات ہے کہ زمانے کی ہر گلی اور کوچہ گھوما ہوں، معاشرے کے ہر فرد و بشر کو دیکھا ہے؟
تمکنت نظر آتی ہے، دعوی نظر آتا ہے، وعدے نظر آتے ہیں، مگر یہ خالی خولی لوگ کسی کو خدا کے رستے پر پہنچانا تو دور کی بات ہے یہ تو خدا کی ذات کے رستے بھی لوگوں پر مسدود کر دیتے ہیں۰۰۰۰۰
جواب کیا ملنا تھا، جواب تو کچھ بھی نہ ملا، سو میں غصے، افسوس اور رنج سے واپس پلٹا،
اتفاق یہ دیکھیے کہ میز پر کشف المعجوب کھلی پڑی تھی، اتفاقأ۔
کچھ غصے سے میں نے اس صفحے پر نظر ڈالی جو کھلا ہو تھا، تو میری توجہ حضرت ابو سعید کے اس سوال پر گئی کہ سید ہجویر اسے مخاطب ہو کر کہہ رہے تھے کہ اے ابو سعید ایک وقت تھا کہ ہم زمین پر خدا کی تلاش میں نکلے تھے، ہمیں بے شمار رہبر ملے، بے شمار اللہ کے ولی ملے، بے شمار دوست ملے،ہم نے سینکڑوں لوگوں سے کسب فیض کیا، کسی سے حال لیا کسی سے مقام کیا، کسی سے غیبت لی کسی سے حضور لیا، کسی سے صدق و صفا لیا مگر اے طالب الہ ایک وقت آئے گا کہ تیری بے بیچارگی پر ہمیں افسوس ہوا کہ تو کوچہ کوچہ گلی گلی پھرے گا لیکن تجھے ایسا کوئی شخص نظر نہ آئے گا جو تجھے رشد و ہدایت کے کسی سلسلے تک پہنچائے،
مجھے ایک بات بتا کہ پھر کیا تو خدا کی تلاش چھوڑ دے گا؟
یہ جملہ مجھے بڑا اچنبھا لگا کہ سید نے کہا کہ پھر کیا تو خدا کی تلاش چھوڑ دے گا؟ “ میری اتنی بات ضرور یاد رکھنا کہ وہ ہے۰۰۰۰ وہ موجود ہے۰۰۰۰ وہ خلق کی رضا سے بہت بالا ہے، وہ شکوک و شبہات سے بہت بلند ہے اور جو اسے تلاش کرے گا، چاہے کسی زمانے میں بھی کرے، چاہے کسی وقت میں بھی کرے، وہ اسے ہر حال میں اپنے رسوخ تک، اپنی ملاقات تک ، شناسائی تک، مصاحبت تک، ہمسائیگی تک ضرور پہنچائے گا”۔
خواتیں و حضرات! یہ میرے سوال کا جواب تھا اور اس کے ساتھ ہی یہ اس سوال کا جواب بھی تھا کہ بڑے بڑے اولیا اللہ نے بڑے بڑے ماہریں تعقل نے، بڑے بڑے متجسس حضرات نے شیخ کے بارے میں یہ کیوں لکھا کہ:
ناقصاں را پیر کامل کاملاں را رہنما
یہ کتاب کشف المحجوب جس مقصد سے لکھی گئی، اس کتاب کے پیچھے جو خواہش تھی وہ آج بھی زندہ ہے، زمانوں سے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا،اوقات اس کے رستے میں حائل نہیں ہوتے
آج بھی جسے خدائے بزرگ و برتر کی تلاش ہے، جسے محبت کی تلاش ہے، اللہ کے قرب و ہمسائیگی کی تلاش ہے، آج بھی اسے کشف المحجوب بھرپور رہنمائی دیتی ہے جیسے ان کے اپنے زمانے میں لوگوں کورہنمائی میسر تھی۔
(استاد محترم کی تصنیف احسڼ تقویم سے ایک اقتباس)
#TalashEKhuda
#KashfAlMahjoob
#AhmadRafiqueAkhtar
#Tasawwuf
#Roohaniyat
#AllahKiTalash
#IslamicWisdom
#Sufism
#DeenKiBaat
#HaqKiTalash
![]()

