انسانی قدر کا اندازہ
انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ۔۔۔ میں نے معاف کر دیا ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔ انتخاب ۔ میاں عاصم محمود)میری پیدائش دیہات میں ہوئی اور جس گھر میں پیدا ہوئی وہاں ماحول میں غربت کے پھل ہمیشہ پکے ہوئے دیکھے۔ زرعی زمین جو وراثت میں والد صاحب کو ملی وہ چار ایکڑ تھی۔ ہم سات بہن بھائی تھے جس میں مجھے ملا کر کل تین بہنیں اور چار بھائی تھے ۔ غربت نے ذہن کو بھی مفلوج کیا اور شعور کے شہر سے بہت دور سب بستے تھے۔
ماں کے بارے میں یہ کہوں کہ ایک اللہ لوک تھی تو بےجا نہ ہوگا۔ محرومیوں کا بوجھ ہمیشہ جسمانی مارپیٹ کی صورت میں جھیلا۔ لیکن نہ کبھی والد سے لڑی اور نہ گھر چھوڑنے کی دھمکی دی۔ حالانکہ میکہ چند گھر چھوڑ کر تھا۔ کبھی ماموں اس دکھ کو محسوس کرتے اور والد صاحب پر غصہ ہوتے تو وہ ایک ہی بات بولتے کہ سامنے بیٹھی ہے پوچھو اگر میں ظالم ہوں۔ چھوٹی موٹی باتیں تو ہر گھرہوتی ہیں۔والدہ سر جھکا کر اپنا وزن والد کےپلڑے ڈال کر ان کو سرخرو کردیتی جس کا پھل اگلی پٹائی میں چند دن کے وقفہ کی صورت میں ملتا۔
جیسا کہ میں نے بتایا کہ شعور کی کمی تھی اس لئے رشتے کا احترام کیا ہوتا ہے نابلد تھے لڑکے۔ ہم لڑکیاں ماں کادکھ سمجھنے کے جب قابل ہوئی اس وقت تک سنہرا دور ان کا چاندی کے بالوں میں تبدیل ہوچکا۔ لیکن کہتے ہیں ناکہ جس کا کوئی نہیں اس کا رب۔ تو ایک دن اوپر والے کو ترس آگیا۔ ابا گھر پر حقے کے کش لگا رہا تھا کہ بڑا بھائی جو اب کاشتکاری دیکھتا تھا بڑے غصہ سے اندر آیا۔
خلاف توقع گھر دیکھ کر ابا نے پوچھا کہ اس ٹائم کیسے آگیا۔
ماں سہم گئی اور کہنے لگی کہ کھانا لیٹ ہوگیا۔ آج ٹانگ میں شدید درد تھا تو سوچا تھا کہ اسکول سے چھوٹا آجاتا تو اس کے ہاتھ بھجوا دیتی۔ بھائی نے وہاں سے ہی جوتی کا نشانہ لگایا جو ماں کی پسلی میں جالگا۔ درد سے کراہ اٹھی۔اس لمحے ابا جی چلائے اوئے حرامی، تیری یہ مجال۔ اندر سے درانتی کھینچی وہ تو ہم بہنیں چیخی چلائیں، ماں اپنا درد بھول کر بیچ میں آگئی تو معاملہ رفع دفع ہوا۔ آس پڑوس کے گھر سے بھی آنکھیں جھانکنے لگیں۔ عورت کی آواز کا چیخنا تو معمول تھا۔ لیکن مردوں کا شور پہلی دفعہ برپا ہوا تو متجسس چہرے اور آنکھیں سوال کرتی نظر آئیں۔
بھائی غلطی کیا مانتا یہی کہتا رہا کہ ابا تجھ سے سیکھا کہ غصہ کسی بات کا ہو نکالنا اس عورت پر ہے۔ ابا کے چہرے پر پہلی دفعہ کرب و الم دیکھا۔ آنکھیں بھیگیں۔ اور پھر بڑی گہری خاموشی اختیار کرلی۔
ایک خالہ شہر بیاہی گئی تھیں۔ شکل کی چاند اور سیرت کی دیوی تھی۔ مجھ سے خاص محبت رکھتی تھیں۔ مجھے شہر ساتھ لے گئی۔ جیسے تیسے بھی لیکن آٹھ تک اسکول میں ، میں نے پڑھ لیا تھا۔ شہر میں دو سال رہی۔ خالہ کے بچے اسکول جاتے اور میں سلائی کڑھائی سیکھتی۔
ایک دن خالہ نے کہا کہ میری بچی تو پڑھ لے۔ دماغ تیرا تیز ہے۔ گاؤں سے قریب ہی میٹرک تک اسکول ہوگیا ہے۔ اس کے بعد آجانا میری بیٹی کے ساتھ کالج چلی جانا۔ اتنی سمجھ مجھ میں آگئی تھی کہ پڑھنے لکھنے میں ممکن ہے کہ رشتہ اچھا میسر آجائے۔ کیونکہ میں اپنی ماں جیسی زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی۔ بس اس نصیحت کو دل میں بٹھایا۔
واپس آکر تعلیمی سلسلے کو جوڑا۔
میٹرک کرنے کے بعد ابا جی اور بھائیوں کی طرف سے واضح جواب مل گیا کہ کیا کرنا پڑھ لکھ کر۔ اور نہ اتنے پیسے کہ خرچ اٹھائیں۔ خالہ کو چھٹی لکھ چھوڑی۔ وہ آئی اور ساتھ لے گئیں۔ شہر میں رہ کر تعلیم بھی بی اے تک حاصل کی۔ ذہنی کشادگی میں اضافہ ہوا اور سب سے بڑھ کر خواب دیکھنے والی آنکھیں پالیں۔
واپس گئی تو چھوٹے بھائیوں کی تعلیم پر توجہ کی جس کی وجہ سے انھوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ میں نے بھی ایک اسکول میں بطور ٹیچر نوکری کرلی۔ پیسے بھی مل جاتے اور دماغ بھی روشن رہتا۔ نجانے کب میں اس گھر کی بڑی بنی۔ پیسہ پیسہ جوڑتی۔ دونوں چھوٹی بہنوں کے بیاہ میں یہ پیسے کام آگئے۔
ابا جی جو اب خاموش رہتے تھے ان کی آنکھوں میں شکر کے جذبات آنسوؤں کی صورت میں نظر آتے۔ میں تو خود کو فراموش کربیٹھی لیکن ماں اور اباجی نے ایک دن خاموشی سے بتایا کہ کل تجھے دیکھنے آرہے ہیں۔ عمر کا سفر تیرا بیت رہا ہے۔ تو بس تو اپنے گھر بس جا تو یہ لڑکے رہ جائیں گے۔ ان کا بھی کچھ ہوجائے گا۔ لیکن تیرا بیاہ ایک قرض بھی ہے اور فرض بھی۔
گاؤں کی لڑکی اس وقت بی اے پاس ہو تو دیکھنے والے اسے ایسے دیکھتے تھے کہ جیسے کوئی عجوبہ ہو۔ شکل میری ٹھیک تھی۔ شہر میں رہے سالوں نے سنورنا بھی سکھادیا تھا۔ اس وجہ سے دیکھا اور پسند کرلیا۔ ایک نند نے ہلکے سے کہا کہ عمر کی بڑی ہے تو دوسری فوراً بولی کہ بھائی کونسا فیڈر پیتا ہے۔ چالیس سے کچھ اوپر ہی ہوگا۔
معاملات طے ہوئے آنے والی گندم کی کٹائی پر شادی طے ہوئی۔ میں اس حد تک خوش تھی کہ ظفر پولیس میں ہے تو پڑھا لکھا ہے۔ میری آنکھوں کے خواب جو کہیں گم ہوگئے تھے عود آئے۔ تعبیر قریب تر نظر آنےلگی۔
ہمارے گاؤں سے کوئی پچاس میل پر میرا سسرال تھا۔ شہر سے قریب تھا۔ ظفر موٹر سائیکل پر تھانے جاتا جو شہر میں تھا۔ باتیں خوب کرنا جانتا تھا۔ سپاہی تھا لیکن کپڑوں کی آن شان سے کسی افسر سے کیا کم لگتا۔ دراز قد۔ کچھ زرعی زمین بھی تھی جو ٹھیکہ پر دی ہوئی تھی۔ گزارا اچھا چلتا تھا۔
ظفر کے اندر کہیں ایک گنوار چھپا ہوا تھا تمام تر خوبیوں کے باوجود جب اس کا گنوار اندر سے آتا تو کہیں مجھے اباجی کی جوانی کا عکس نظر آتا۔ میں اسے سوچ کر سہم جاتی۔ پانچ سال کے عرصے میں مجھے اللہ نے دو بیٹیوں سے نوازا۔ عمر جوانی کی حدود سے پہلے ہی نکل چکی تھی۔ دو بیٹیوں کے بعد قدرتی طور پر ماں بننے سے محروم ہوگئی۔ظفر کو جب پتا چلا تو چڑچڑا رہنے لگا۔
اس طبعیت کی وجہ سے اس کا گنوار کہیں پنپنے لگا۔ کبھی کبھار جو ہاتھ اٹھتا تھا وہ اکثر حرکت کرنے لگا۔ لیکن جب میں دبا سا احتجاج کرتی تو ایسا سیدھا ہوتاکہ جیسے کبھی دوبارہ یہ غلطی ناکرے گا۔
میں جانتی تھی کہ بیٹے کی خواہش اس کو بےچین کرتی ہے۔ اس کا اظہار کرتا بھی تھا۔ لیکن عجیب فطرت کا تھا کہ جب میں اسے کہتی کہ ظفر تم چاہو تو دوسری شادی کرلو۔کیا پتہ اللہ دوسری سے بیٹا عطا کردے۔ تو فوراً کہتا کہ تو دل نا چھوٹا کیا کر۔ کیا پتہ دوسری سے بھی نا ہو تو ضرور سوکن تجھ پرلاؤ۔ اور جب میں خاموش رہتی تو بیٹے کی محرومی کا ذکر کرتا۔
سچ پوچھیں تو میں اسے سمجھ نہیں پاتی تھی۔ لیکن اس کی طبعیت میں چڑچڑاپن بڑھتا ہی جارہا تھا۔ میں جو اس کے اندر کے گنوار کو پڑھ چکی تھی اس سے خوفزدہ رہنے لگی تھی۔ ایک دن ہانڈی میں نمک تیز ہوگیا تو اس زور سے میری گردن پر مکا مارا کہ مجھے اپنا آپ ڈوبتا محسوس ہوا۔
میں جو چارپائی پرگری تو منہ سے جھاگ نکلنے لگا۔ میری ایسی حالت دیکھ کر ظفر گھبراگیا۔ جلدی سے اٹھا پانی کے چھینٹے منہ پر پھینکے۔ گردن سے اٹھایا۔ گالوں کو زور زور سے تھپتھپایا۔ چیخنے لگا کہ ہوش کر۔ اس کی چیخ نے ڈوبتی ہوئی زندگی کو گویا آواز دی۔ میری آنکھوں کی پتلیاں جو چڑھ چکی تھی تھم گئی۔ میرے منہ سے فقط اتنا نکل سکا کہ پانی۔
ظفر نے جلدی سے پانی پلایا۔ پانی اندر گیا اور سانس بحال ہوئی تو جیسے ظفر کی جان میں جان آئی۔ اس دن تو میں بچ گئی لیکن آنے والے دنوں میں گردن پر لگا مکا میری تباہی کا سبب بن گیا۔ شروع میں مجھے چلنے میں دشواری محسوس ہوتی اور آہستہ آہستہ مجھے اپنا توازن قائم کرنے میں مشکل پیش آنے لگی۔ اس واقع کے بعد اگرچہ میں بچ گئی لیکن ظفر کے اندر چھپے گنوار کی موت واقع ہوگئی۔ اس نے بڑی دلجوئی کی ہاتھ جوڑ جوڑ معافی مانگتا۔
علاج میں کسر نااٹھارکھی۔ ۔لیکن میری حالت بدتر ہوتی چلی گئی۔
آخرکار بات نیوروسرجن تک چلی گئی۔ سٹی اسکین کروائے تو وجہ پتہ لگی کہ حرام مغز پر لگی چوٹ سے ذہن اور جسم کا باہمی رابطہ نظام کمزور ہوچکا اور آنے والے دنوں میں یہ مکمل ناکارہ ہوسکتا ہے جس سے مکمل جسم بےحس ہوجائے گا۔
اس دن ظفر نے گھر آکر پیر پکڑ کر معافی مانگی۔ تڑپا، رویا ،چلایا۔ لیکن یہ سب بےسود تھا۔ میں معذور ہوکر چارپائی پر پڑگئی۔ بچیاں چھوٹی تھی ۔کیسے سنبھالتی۔ میری ماں اپنی بوڑھی ہڈیوں کا بوجھ اٹھائے مجھے سنبھالنے آگئی۔
سال بھر گزرا تو ایک دن اباجی میرا پتہ لینے پہنچے۔ ہم تینوں نے ایک فیصلہ کیا۔ رات ظفر جب ڈیوٹی سے واپس آیا تو اباجی نے اسے کہا کہ ظفر ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تو دوسری شادی کرلے۔ اسے ہم اپنے گھر لےجائیِں گے۔ میری گھروالی کب تک یہاں بیٹھے گی۔ بچیاں چھوٹی ہیں۔ تو شادی کرکے عورت لے آجو تجھے اور ان بچیوں کو سنبھال لے۔ اس کو گھر میں جوان بہوئیں ہیں مل جل کر سنبھال لےگی۔
ظفر نے کچھ تامل کے بعد ہامی بھر لی۔ ایک رخصت ہوکر آئی اور تو دوسری رخصت ہوکر چلی گئی۔ ہوٹر بجاتی ایمبولینس میں مجھے اسی گھر میں منتقل کیا جہاں سے کبھی میں کار میں رخصت ہوکر ظفر کے گھر گئی تھی۔
زندگی بھاگتی تھی لیکن میرے لئے رینگنے لگی۔ دو بھابیاں دن کو دیکھتیں اور رات کو ماں۔ ظفر ہفتے میں ایک دن بچیوں کے ساتھ آتا اور کبھی کبھار میری سوکن کو لے آتا۔ ہردفعہ معافی مانگتا اور میں خاموش ہوجاتی۔ پتہ نہیں کیوں وہ اس بات پر اصرار نہ کرتا کہ میں اپنے منہ سے کہوکہ میں نےاسے معاف کردیا۔
میری زبان سے کجا کبھی دل کے نہاں خانے سے بھی اس کے ُلئے معافی کی صدا نہ آتی۔ جب بھی سوکن کو ساتھ لاتا تو میں اس کے پیٹ کودیکھتی جو بڑھتا جارہا تھا۔ اس لمحے مجھے ایسا محسوس ہوتا کہ میرے جسم سے اترنےوالا ماس میری سوکن کے پیٹ میں بچے کی صورت میں منتقل ہورہا ہے۔
میں سوکھ کر پنجر بن گئی اور میری سوکن نو ماہ کے پیٹ سے۔ آخر وہ دن آیا کہ ظفر کہ بیٹا پیدا ہوا۔ بےحد خوش تھا۔ مٹھائی کا ٹوکرا لایا گاؤں بھر میں تقسیم کیا ۔ اس دن مجھے یقین ہوگیا کہ یہ بیٹا میرے گوشت سے جو میرے بدن کو چھوڑ چکا اس سے بنا ہے۔
چھلا پورا ہوا تو ظفر سوکن اور بچے کے ساتھ مجھے ملنے آیا ۔ سوکن نے بچہ میرے اوپر لٹا کر کہا کہ یہ ہمارا نہیں تیرا ہے۔ اور میرا یقین کامل ہوگیا کہ اس کا بدن میرے گوشت سے بنا ہے۔
وقت میرے لئے رینگتا ہی رہا لیکن مجھ سے دور وہ وقت بھاگ رہا تھا۔ دو سال گذرے ۔ میری صرف آواز باقی رہ گئی تھی۔ ایک دن ظفر اکیلا ہی آیا۔ میرے کمرے میں بھی نہیں آیا۔ باہر برآمدے میں کرسی پر اباجی اور ماں کے ساتھ بیٹھا رہا۔ میں چارپائی پرلیٹی اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آواز میرے کانوں میں نہیں پڑ رہی تھی۔ اس دوران دو دفعہ ایسا ہوا کہ اس کی آنکھیں مجھ سے چار ہوئیں۔
میں منتظررہی کہ وہ اندر آئےگا لیکن وہ مجھ سے ملے بغیرچلاگیا۔ تھوڑی دیر بعد ماں اندر آئی اور رونے لگی۔ میں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ ظفر کہ رہا تھا کہ تو اب بچے گی نہیں۔ ساتھ ساتھ آنسو صاف کرتی جاتی اور بولتی جاتی کہ بول گیا ہے کہ جب یہ مرجائے گی تو میں اسے اپنےگاؤں میں دفناؤں گا۔
اس رات ماں روتی تھی اور کہتی تھی کہ اللہ میرے بعد اسے اٹھانا۔ میں تجھے اپنے صبر کا واسطہ دیتی ہوں۔ قبر تیار ہے تو میں بھی مرنے کوتیار ہوں۔ اس رات ماں ایسے کراہ رہی تھی کہ مجھے وہ دن یاد آگیا جب بھائی نے جوتی ماری تھی تو ماں درد سے کراہی تھی۔ نجانے کیوں مجھے ماں کے کراہنے کے بعد اباجی کی گہری خاموشی یاد آئی اور میں اندر سے ہل گئی۔
صبح سویرے سرہانے پڑا موبائل چیخا تو آنکھ کھلی۔ ظفر کے نمبر سے فون تھا۔ میں سمجھ گئی کہ کل مجھ سے ملے بغیر چلاگیاتو شاید اس لئے فون کیا۔ میں نے کال اٹھائی تو دوسری طرف سے میری بیٹی کی آواز تھی جوروتی ہوئی بتارہی تھی کہ صبح ڈیوٹی سے آتے ہوئے ابو کا موٹرسائیکل پر ایکسیڈنٹ ہوگیا ۔ اور وہ موقع پرہی دم توڑ گئے۔
سوئم کے بعد بھائی نے بتایا کہ گورکن کہ رہاتھا کہ ظفر چند دن پہلے آیا تھا اور کہ گیا تھا کہ چاچا ایک قبر تیار رکھنا کبھی بھی ضرورت پڑسکتی ہے۔ اس کے بعد بعد سے اب تک اس گاؤں میں مشہور ہے کہ پولیس والا بڑا اللہ والا تھا کہ اپنی موت کا اسے علم ہوگیا تھا۔ میں اب بھی زندہ ہوں ۔
دونوں بیٹیاں میرے پاس آگئی اور ایک دن میری سوکن آئی اور ظفر کابیٹا میری گود میں ڈال گئی یہ کہ کر کے جہاں اب اسکا رشتہ ہورہا ہے وہ لڑکے کوقبول نہیں کررہے۔
میرا یقین اب کامل ایمان بن چکا تھا کہ یہ بچہ میرے گوشت سے ہی بنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھاری ۔۔۔۔ نامعلوم ۔
![]()

