آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں
جو چاہیں کھا سکتے ہیں
تحریر۔۔۔حنا عظیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں جو چاہیں کھا سکتے ہیں ۔۔۔ تحریر۔۔۔حنا عظیم) زندگی میں کچھ بھی نیا، چاہے وہ کوئی نئی زبان ہو، یا پھر کوئی نیا میوزیکل انسٹرومنٹ ہو یا پھر کوئی نیا ہنر ہو یا پھر ہمیں کسی کو متاثر کرنا ہو ، بس یوں سمجھے لیہئے کہ کچھ بھی نیا جانے کی صلاحیت ہمارے اندر سے کبھی ختم نہیں ہوتی۔
ذیان بڑی مہارت سے اپنا نیا وڈیو گیم آپریٹ کر رہا تھا جو اسے حال ہی میں اس کے ابو نے لا کر دیا تھا۔ ارے زبان مجھے بھی دکھاؤ ….؟ دادی اماں کو اسکرین پر اچھلتے کودتے بھاگتے دوڑتے رنگ برنگے کردار بڑے اچھے لگے وہ پر شوق نظروں سے ان کو دیکھتے ہوئے اپنے پوتے سے بولیں۔
ارے دادی رہنے دیجئے۔ انس کمیلی کینڈ آپ کو سمجھ میں نہیں آئے گا”۔ نوعمر جناع ذیان یہ کہہ کر پھر کھیلنے میں مگن ہو گیا اور دادی اماں اپنا سا منہ لے کر رہ گئیں۔
عموما یہی خیال کیا جاتا ہے کہ بچے جلدی چیزوں کو سیکھتے ہیں۔ عمر بڑھنے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نئی چیزیں سیکھنے کی صلاحیت کم ہوتی جاتی ہے۔ مگر اب نئی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایسا سوچنا غلط ہے کیونکہ بڑی عمر کے لوگوں کا دماغ بھی صبح کے سورج کی مانند یعنی بہت تیز ہو تا ہے۔
کینیڈا کی تحقیقاتی ٹیم کا کہنا ہے کہ تجسس …. توانائی سے بھر پور زندگی کا ایک اہم جز ہے۔ زندگی میں کچھ بھی نیا، چاہے وہ کوئی نئی زبان ہو، یا پھر کوئی نیا میوزیکل انسٹرومنٹ ہو یا پھر کوئی نیا ہنر ہو یا پھر ہمیں کسی کو متاثر کرنا ہو، بس یوں سمجھ لیجئے کہ کچھ بھی نیا جانے کی صلاحیت ہمارے اندر سے کبھی ختم نہیں ہوتی۔ اب کس عمر میں کتنا سیکھ پاتے ہیں اس کا انحصار انفرادی طور پر پائی جانے والی صلاحیتوں پر تو ہے مگر ساتھ ساتھ کچھ ایسے طریقے کار بھی ہوتے ہیں جن کو اپنا کر آپ اپنی چھپی ہوئی قدرتی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتے ہیں اور جب چاہیں اور جو چاہیں نا صرف سیکھ سکتے ہیں اس طرح خود کو اور اس سے عليم مم دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔ یہاں اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم آپ کو نت نئی چیزیں سیکھنے کا فن بتانے جارہے ہیں تو آپ بالکل صحیح سمجھے ہیں۔ حالیہ تحقیقات سے حاصل کردہ کچھ ایسی مخصوص تیکنیکس سامنے آئی ہیں جن پر عمل کر کے آپ کسی بھی عمر میں سیکھ سکتے ہیں اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی کتنی عمر ہے۔
پڑھائی کے لئے کون سا وقت سب سے بہتر ہے….؟
کہا جاتا ہے کہ علی الصبح پڑھا جانے والا سبق آدمی کبھی نہیں بھولتا۔ زمانہ طالبعلمی میں ہم بھی اس نظام الاوقات پر عمل کرتے تھے۔ امی امتحان کے دنوں میں اکثر فجر کے بعد پڑھنے بٹھادیتیں۔ اسکول کے دور تک تو یہ بڑا آسان ہوتا تھا کہ صبح صبح کوئی سبق دہرا لیا جائے یا یاد کر لیا جائے ۔ مگر پھر جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے صبح صبح یاد کرنے کی مشق خاصی مشکل ہوتی گئی ۔ ہمیں بڑا افسوس ہوتا تھا کہ ہم نے پھر صبح صبح اٹھ کر یاد کیا ہوتا تو پکا ہو جاتا۔ خالہ اماں کہتی تھیں کہ بڑوں کا دماغ کند ہو جاتا ہے اس لئے اتنی آسانی سے یاد نہیں ہو گا۔ رات میں و ہرا کر سویا کرو تو یاد رہے گا۔ لہذا ہم نے اپنی نیند کو قربان کر کے رات کے وقت زبردستی دہرانا شروع کر دیا۔ اس سے بھی کچھ فائدہ تو ہوا مگر پھر بھی یہ نہ جان پائے کہ یاد رکھنے یا پڑھنے کے لیے کے سب سے بہتر اوقات کون سے ہیں۔ بہر حال یہ تو ہوئی پرانے وقتوں کی بات۔
وقت کے ساتھ سائنسی شواہد اور ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ ایسی تحقیقات سامنے آرہیں ہیں جو بتاتی ہیں کہ بڑوں کا دماغ نہ تو کند ہوتا ہے اور نہ ہی ست ۔ کینیڈا میں کی گئی ایک حالیہ ریسرچ جس میں رضا کاروں کا ایک گروپ جو کہ 60 سے 82 سالہ لوگوں پر مشتمل تھا کے مطابق بڑی عمر کے لوگوں میں اپنی توجہ مرکوز کرنے اور منتشر کر دینے والے مخیالات کو نظر انداز کرنے کی بہترین صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اس لئے ان میں سیکھنے کا عمل بھی چست رہتا ہے۔ یعنی بچپن میں ہم سیکھتے تو ہیں مگر گول اور کینڈہ نہیں ہوتے ۔ اس کے علاوہ اسکول کے دور میں دیکھا گیا ہے کہ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ پورا سال چاہے مستی کھیل کود میں نکل جائے مگر اسکول کے امتحانات جیسے جیسے قریب آتے جاتے ہیں ویسے ہی ہمارے اندر پڑھنے کی خواہش بڑھتی جاتی ہے ۔ جب کہ جو کچھ بڑی عمر میں سیکھا جاتا ہے اس کے لئے ہم اپنے دماغ میں ایک خاکہ ، ایک گول رکھتے ہیں جو ہماری سیکھنے کی صلاحیت کو ایکٹو رکھتا ہے۔ پڑھنے کے لیے کون سا وقت بہتر ہے۔ وقت کے حوالے سے شواہد بتاتے ہیں کہ بڑی عمر کے لوگوں میں صبح ساڑھے آٹھ بجے سے ساڑھے
دس بجے کے درمیان بہترین یاداشت کا مظاہرہ کیا بلکہ دو پہر کے اوقات میں ان کے دماغ پر غنودگی چھا جاتی ہے وہ سستی محسوس کرتے ہیں ۔ تاہم ٹین ایمر ز اس لحاظ سے زیادہ فائدہ میں رہتے ہیں کیونکہ ان کا دماغ دو پہر میں بھی چست دیکھا گیا ہے۔ فنکشنل میگینگ ریز و نفس امیجینگ MRI کے ذریعے حاصل کردہ معلومات سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ نوجوانوں کی یاداشت دو پہر میں آئیڈیل ہوتی ہے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق ۱۶ سے ۱۷ سال کی لڑکیاں اگر دو پہر تین بجے سے رات نو بجے تک کچھ یاد کرنا چاہیں تو ان اوقات میں اپنی یاداشت کا بہترین استعمال کر سکتی ہیں۔
موسیقی شام میں اور پڑھائی دوپہر میں:جرمنی کے Christop Nelson نے۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2015
![]()

