Daily Roshni News

سوانح حیات مبارک۔۔۔طوطیِ ہند ، ابو الشعرا۔۔۔حضرت ابو الحسن یمین الدین المعروف امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ

سوانح حیات مبارک

طوطیِ ہند ، ابو الشعرا

حضرت ابو الحسن یمین الدین المعروف امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحریر خلیفہ مدنی تونسوی)خصوصی اشاعت یوم وصال 18 شوال المکرم۔آپ کا اسم گرامی ابوالحسن اور لقب یمین الدین خسرو ہے آپ امیر خسرو ؒ سے مشہور ہیں ۔

آپ کے والد محترم کا اسم گرامی سیف الدین محمود ؒ ہے ۔

منقول ہے کہ حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کے والد محترم ہزارہ بلخ کے امیر زادوں میں سے تھے ۔

ایک اور روایت کے مطابق ترکستان کے شہر ” کش ” کے رہنے والے تھے۔ چنگیز خان کے زمانے میں ہندوستان تشریف لائے اور شاہی دربار میں ممتاز عہدے پہ فائز ہوئے ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق ترکوں کے ایک قبیلے ” لاچین ” سے تھا ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 1253ء میں پٹیالی (انڈیا) میں ہوئی ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ بچپن میں بہت ذہین تھے جلد ہی ابتدائی علوم حاصل کرلئے ، خطاطی اور خوش نویسی سیکھی اور آواز بھی اچھی تھی کم عمری میں ہی شعر کہنے لگے آپ متعدد زبانیں بھی جانتے تھے ۔

منقول ہے کہ آپ کے والد محترم آپ کو اپنے ہمراہ لے کر حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ چاہتے تھے کہ اپنے پیر کا انتخاب خود کریں آپ کے والد یہ سن کر حضرت محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں اندر چلے گئے لیکن آپ دروازہ پر باہر بیٹھ کر کچھ اشعار لکھنے لگے آپ نے وہاں بیٹھے بیٹھے حسبِ ذیل قطعہ لکھا

توں آں شاہی کہ برایوان قصرت کبوتر گر نشیند بزبزگردو

غریبے مستمند سے برور آمدید بیاید اندروں یا باز گردو

ترجمہ

تم بادشاہ ہو کہ اگر تمھارے محل پر کبوتر بیٹھے تو باز بن جائے

ایک غریب حاجت مند دروازے پر باریابی کا منتظر ہے وہ اندر آئے یا واپس جائے

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ سوچنے لگے کہ حضرت محبوب الہی شیخ کامل ہیں تو آپ کے اشعار کا جواب دیں گے اور آپ کو اپنے پاس بلائیں گے ۔

حضرت محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ایک خادم سے فرمایا کہ باہر جو لڑکا بیٹھا ہے اس کے پاس جا کر یہ اشعار پڑھ دو

بیاید اندرون مرد حقیقت کہ باما یک نفس ہمراز گردو

اگر ابلہ بودآں مرد ناداں ازاں راہے کہ آمد باز گردو

ترجمہ

اگر امید وار حقیقت شناس ہے تو اندر  آ جائے اور ہمارا دم و ہمراز بنے

اور اگر آبلہ و ناداں کے تو جس راہ سے آیا ہے اسی راستے واپس چلا جائے

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے جب یہ اشعار سنے تو فوراً حضرت محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے بیعت سے مشرف ہوئے خلوص اعتقاد اور محبت نے اپنا کام کیا اور کچھ ہی دنوں میں آپ کو اپنے پیرومرشد کی عنایت ، محبت اور شفقت اس درجہ حاصل ہوئی کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کی عمر جب سات برس کی ہوئی تو آپ کے والد ماجد کا انتقال ہوگیا پھر آپ کے نانا عمادالملک نے آپ کی پرورش کی بیس سال کی عمر میں نانا کا بھی وصال ہوگیا اب حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ مروجہ علوم حاصل کرچکے تھے ۔ عربی اور فارسی میں مہارت حاصل ہوچکی تھی شعرائی گزشتہ کا کلام نظر سے گزر چکی تھی اور فکر و نظر میں بھی پختگی آگئی تھی ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کو اپنے پیرومرشد سے والہانہ محبت اور عقیدت تھی آپ فنا فی الشیخ کے درجے پر پہنچ گئے تھے جب آپ دہلی میں ہوتے تو زیادہ وقت اپنے پیرومرشد کی خدمت میں گزارتے تھے ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کو چونکہ علوم باطنی سے قدرتی طور پہ لگاو تھا اس لئے انہوں نے حضرت محبوب الہی جیسے رہنما کی زیرنگرانی راہ سلوک کی منزلیں بڑی تیزی کے ساتھ طے کرنی شروع کردی ۔ آپ عبادت میں سخت سے سخت محنت کرنے سے کبھی نہ کترائے ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے ہر صنف شعر ، مثنوی ، قصیدہ ، غزل ، ہندی دوہے ،پہیلیاں ، گیت وغیرہ میں طبع آزمائی کی۔ غزل میں پانچ دیوان یادگار چھوڑے۔

ہندوستانی موسیقی میں ترانہ ، قول اور قلبانہ انہی کی ایجاد ہے ۔ بعض ہندوستانی راگنیوں میں ہندوستانی پیوند لگائے۔ راگنی (ایمن کلیان) جو شام کے وقت گائی جاتی ہے ۔ انہی کی ایجاد ہے۔ کہتے یہ کہ ستار پر تیسرا تار آپ ہی نے چڑھایا

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ نے ہر رنگ و آہنگ میں شعر کہا ہے اور تمام اصناف سخن کو اپنے نتائج فکر سے مالا مال کیا ہے ، فارسی شاعری کی تاریخ میں دوسری ایسی کوئی شخصیت نظر نہیں آتی ، جس نے ہر صنف میں اس خوب صورتی ، پختگی اور مہارت سے شعر کہے ہوں ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کا کلام حمدیہ ، نعتیہ ، صوفیانہ غزلیات پہ مشتمل ہے ۔

سماع کے جواز میں حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ اس قطعہ میں یوں فرماتے ہیں ۔

آں روز کہ روح آدم آمد بہ بدن

از بیم گناہ نمی شُدے اندر تن

خواندند ملائکہ بہ لحنِ داؤد

در تن در تن دراں در آمد در تن

ترجمہ

جس دن آدم ؑ کی روح کو اللہ نے جسم میں داخل ہونے کا حکم دیا تو روح نے کہا اس جسم کی وجہ سے کوئی گناہ نی ہو جائے اس لیے میں نہیں جاؤں گی ۔ تو اللہ کے حکم سے ملائکہ نے داؤد ؑ کے لحن میں نغمہ پڑھا۔۔۔۔۔ در تن در تن دراں در آمد در تن۔۔۔۔۔

جسم میں،جسم میں، اندر آ پھر وہ جسم کے اندر داخل ہوئی

کلام حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ

نمی دانم چہ منزل بود شب جائے کہ من بودم

بہر سو رقص بسمل بود شب جائے کہ من بودم

(نہیں معلوم کیسا تھا مکاں کل شب جہاں میں تھا

کہ ہر سو رقص بسمل تھا وہاں کل شب جہاں میں تھا)

.

پری پیکر نگارِ سرو قد لالہ رخسارے

سراپا آفت دل بودشب جائے کہ من بودم

(حسیں پیکر جسامت سرو سا قد پھول سے رخسار

سراپا حسن تھا دل پر عیاں کل شب جہاں میں تھا)

رقیباں گوش بر آواز او ور ناز من ترساں

سخن گفتن چہ مشکل بود شب جائے کہ من بودم

(اسی کی بات پر سب کان دھرتے میں ترستا تھا

بہت مشکل تھا کچھ کہتی زباں کل شب جہاں میں

تھا)

.

خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو

محمدﷺ شمعِ محفل بود شب جائے کہ من بودم

(اجاگر لامکاں میں خود خدا تھا صاحب محفل

نبیﷺ تھے شمعِ بزمِ لامکاں کل شب جہاں میں تھا )

کلام امیر خسرو رحمت اللہ علیہ

گفتم کہ روشن از قمر، گفتا کہ رخسار منست

گفتم کہ شیرین از شکر، گفتا کہ گفتار منست

میں نے کہا چاند سے زیادہ کچھ روشن ہے؟ کہا میرا رخسار ہے

میں نے کہا شکر سے زیادہ میٹھا کچھ ہے؟کہا میری گفتگو ہے-

گفتم طریق عاشقان، گفتا وفاداری بود

گفتم مکن جور و جفا، گفتا کہ این کارِ منست

میں نے کہا عاشقوں کا طریق کیا ہوتا ہے؟ کہا محبوب سے وفاداری ہوتا ہے

میں نے کہا کہ جور و جفا نہ کیجیے، کہا یہ تومیرا کام ہے-

گفتم کہ مرگِ ناگہاں، گفتا کہ دردِ هجر من

گفتم علاج زندگی، گفتا کہ دیدار منست

میں نے کہا مرگ ناگہاں کیا ہے؟ کہا میرے ہجر کا درد

میں نے کہا زندگی کا علاج کیا ہے؟ کہا کہ میرا دیدار ہے-

گفتم کہ حوری یا پری، گفتا کہ من شاه ِ بتاں

گفتم کہ خسرو ناتواں ، گفتا پرستارِ منست

میں نے کہا کہ تو حور ہے یا پری ہے؟ کہا میں حسینوں کا باد شاہ

میں نے کہا کہ خسرو ناتواں ہے، کہا میرا پرستار تو ہے ۔

کلام حضرت خواجہ امیر خسرو چشتی نظامی دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بمع اردو ترجمہ

بہ خوبی ھمچو مہ تابندہ باشی

بہ ملکِ  دلبری  پاینده  باشی

تیرا خوبصورت چہرہ چاند کی طرح چمکتا ہے

ملک دلبری پہ تیری بادشاہی سلامت رہے

من درویش را کشتی بہ غمزہ

کرم  کردى  الٰہی  زندہ  باشی

تیری قاتلانہ نگاہ نے مجھ غریب کو مار ڈالا

کرم کیا تو نے ، خدا تجھے زندگی دے

جہاں سوزى اگر در غمزہ آئی

شکر ریزی اگر در خندہ باشی

تمہاری نگاہِ ناز سے نظامِ دنیا بدل جاتا ہے

اور تمہاری مسکراہٹ سے مٹھاس بکھر جاتی ہے

زِ   قیدِ   دو   جہاں   آزاد   گشتم

اگر   تو   ھم نشینِ   بندہ   باشى

میں دونوں جہانوں کی قید سے آزاد ہو جاؤں

اگر کبھی تو میرے ہمسفر ہو جائے

جفا  کَم  کُن  کہ  فردا  روزِ  محشر

زِ  روۓ   عاشقان   شرمندہ   باشی

جفا کم کرو کہ کل قیامت کے دن کہیں

عاشقوں کے  سامنے  شرمندہ نہ ہونا پڑے

بہ رندی و بہ شوخی ہمچو خسروؔ

ھزاراں  خان و مان  بَرکندہ  باشی

تمہاری شوخی اور زندہ دلی کے باعث خسرو

جیسے ہزاروں دل تباہ ہو گئے ۔

سیرت نگاروں نے حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کی 99 تصانیف کا ذکر کیا لیکن ان میں سے نام چند کتب کے ہیں وہ یہ ہیں

1 مطلع الانوار سن تالیف 1298ء

2 شیریں خسرو سن تالیف 1298ء

3 لیلیٰ و مجنوں سن تالیف 1299ء

4 آئینہ سکندری سن تالیف 1299ء

5 ہشت بہشت ، ہفت پیکر سن تالیف 1301ء

6 وسط الحیات

7 غرة الکمال

8 بقیہ نقیہ

9 نہایتہ الکمال

10 عشقیہ

11 نہ سپہر

12 قصہ چہار درویش

13 جواہر خسروی

14 افضل الفوائد حصہ دوم راحت المحبین

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تصانیف میں سے ایک تصنیف افضل الفوائد حاصل ہوسکی باقی تمام کتب اب تک فقیر کو حاصل نہ ہوسکے ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کے چند ارشادات

1 خدا تجھ پر رحم کرے تو اس کی مخلوق پر رحم کر ۔

2 عقل سے بہتر ہمارا کوئی رفیق نہیں ۔

3 کاش لوگ اپنے حق پر راضی رہیں اور انصاف انہیں عزیز ہوجائے ۔

4 پھول سو پردوں میں بھی پوشیدہ ہو تو اپنی خوشبو کی وجہ سے پوشیدہ نہیں رہتا ۔

5 بے صبرا نہ بن رزاق تمہارا نگہبان ہے اور خود ہی تیرے پاس تیرا رزق بہم پہنچائے گا ۔

6 مرید کو جملہ ولایت و اعزاز مرشد کے قدموں کی بدولت حاصل ہوتے ہیں اس لئے در مرشد چھوڑنے والا ناکام و ذلیل ہوتا ہے ۔

حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ کا وصال 18 شوال المکرم 725ھ بمطابق 28 ستمبر 1324ء کو ہوا آپ اپنے پیرومرشد کے مزار کے قریب مدفن ہوئے ہر سال آپ کا عرس عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے

الحمدللہ علیٰ ذلک

ماخذ کتاب سیرت حضرت امیر خسرو رحمتہ اللہ علیہ ، دلی کے بائیس خواجہ ، ہند اور پاکستان کے اولیاء ، اقوال اولیاء کا انسائیکلوپیڈیا

طالب دعا

خلیفہ محمد ہادی

خلیفہ مدنی تونسوی

Loading