معرفت کی مشعل
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) بڑی تعداد نے انسانوں کی رہنمائی اور مدد کے فرائض سرانجام دیے۔
حضرت مولانا جلال الدین رومی (672تا604ھ) جو مشہور سلسلہ طریقت جلالیہ
کے امام ہیں، حضرت فرید الدین عطار (513 627 حضرت بہاؤ الدین ذکریا (661تا578ھ)، حضرت قطب الدین بختیار کاکی (633تا583)، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر (659تا584ھ)، حضرت علی احمد صابر کلیریؒ (وصال 690)، حضرت نظام الدین اولیاء (725تا631ھ)، حضرت محی الدین ابن عربی
-(-638تا560)
ان قدی نفس حضرات کی سوانح حیات، کرامات اور تعلیمات پر دفتر کے دفتر لکھے جاچکے ہیں۔
آٹھویں، نویں اور دسویں صدی: آٹھویں اور نویں صدی میں بھی بے شمار اولیائے کرام گزرے جن میں سے چند یہ ہیں؛ حضرت بو علی شاہ قلندر (724تا602 )، حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلوی (755تا675ھ)، حضرت بندہ نواز گیسو دراز (825تا721ھ)، حضرت حافظ شیرازی (791تا729ھ)، حضرت شاہ رکن عالم
( وصال 735ھ)، حضرت زین الدین خراسانی (838تا757)، حضرت عبدالرحمن جامی (817 تا898ھ)، حضرت نعمت اللہ ولی (725تا 820)، حضرت عبدالکریم جیلی (767تا 805)، حضرت بری امام (وصال 964ھ)، حضرت بہاؤ الدین نقشبند خواجہ باقی بالله (101تا971ھ)، حضرت مجدد الف ل (1034تا971)
حضرت بہاؤ الدین نقشبند سلسلہ نقشبندیہ اور زین الدین خراسانی سلسلہ زمینیہ کے امام ہیں۔
گیار ہو ہیں اور بار ہو یں صدی کے روحانی بزرگ اس صدی کے چند نمایاں صوفیائے کرام یہ ہیں حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (958تا 1052) حضرت شاہ ولی الله (1114 تا1174ھ)، حضرت بابا بلھے شاہ (1091تا1181)، حضرت بری عام (1026 تا117ھ)، حضرت میاں میر (1045تا938ھ)،
حضرت شاہ عبدالطیف بھٹائی (1165تا1101) اور حضرت سچل سرمست (124271152ھ)۔
تیر ہو میں صدی ہجری کے اہل باطن: اس صدی کے سب سے نمایاں صوفی حضرت شاہ ولی اللہ کے صاحبزادے حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (1239تا1159ھ) ہیں۔ آپ نے تصوف کے پر چار کے لئے تحریر و تقریر دونوں کا استعمال کیا۔
اس دور کے ایک اور روحانی بزرگ حضرت غوث علی شاہ قلندر ( وصال 1297ھ) ہیں۔ ایک مشہور کتاب سیز کرہ خوشیہ میں آپ کے ملفوظات کو جمع کیا گیا ہے۔
تیرہویں صدی کے ایک سرفروش صوفی بزرگ حضرت سید احمد بریلوی (F1201 1236ھ) ہیں جو انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ آپ سے کئی کشف و کرامات منسوب ہیں۔
اسی صدی کی ایک اور نمایاں روحانی شخصیت حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر کمی (1233تا 1317ھ) کی ہے۔ آپ کے ذات اقدس سے علم و معرفت کے شگوفے پھوٹے۔
چودہویں صدی ہجری کے عارفان حق: اس صدی کے عارفان حق میں ایک نمایاں نام حضرت بابا تاج الدین ناگپوری (وصال 1344ھ)
کا آتا ہے۔ سلسلہ عظیمیہ کے امام قلندر بابا اولیاء رشتے میں بابا تاج الدین کے نواسے ہیں۔
حضرت قلندر بابا اولیاء کے مرشد کریم ابوالفیض قلندر علی سهروردی (1377تا1313ھ) بھی اس صدی کے اہم روحانی بزرگ ہیں۔
چودہویں صدی کے ایک ولی اللہ حضرت عبید اللہ درانی (1411تا1325ھ) ہیں۔ آپ با با تاج الدین ناگپوری کے روحانی شاگرد حضرت قادر با با اولیاءؒکے شاگرد تھے۔ آپ انجینئر نگ کالج پشاور کے پروفیسر اور پر نسپل رہے۔ ظاہری دنیا کی بھی ذمہ داریاں پوری کیں۔
چودہویں صدی کی ایک عظیم روحانی ہستی قلندر بابا اولیاءؒ (1315تا 1399ه) تک۔ قلندر بابا اولیاء کی شخصیت کے متعلق آپ بہت کچھ روحانی ڈائجسٹ میں مطالعہ کرتے رہے ہیں۔
حضرت محمد عظیم برخیا المعروف قلندر بابا اولیا ؒسلسلہ عظیمیہ کے بانی ہیں۔ آپ نے باطنی علوم، روحانی تربیت اور معرفت الہی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
قلندر بابا اولیاء نے روحانیت کو سادہ، عملی اور عام فہم انداز میں پیش کیا۔ آپ کی تعلیمات انسان دوستی، اخلاقی تطہیر ، باطن کی اصلاح اور اللہ پر کامل یقین پر مبنی ہیں، جبکہ آپ کی تصنیفات خصوصاً لوح و قلم روحانی علوم میں ایک مستند اور اہم مقام رکھتی ہیں۔
چودہویں صدی کے اختتام اور پندرہویں صدی کی ابتداء میں قلندر بابا اولیاء کے ممتاز اور خاص شاگرد، خواجہ شمس الدین عظیمی سلسلہ عظیمیہ کے درخشاں چراغ اور خانوادہ ہیں۔
آپ نے قلندر بابا اولیاءؒ کی روحانی تعلیمات کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ انہیں منظم انداز میں باقاعدہ نظام، تعلیم اور دعوت کی صورت میں آگے منتقل کیا۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے روحانیت کو محض خانقاہی دائرے تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عصری شعور، سائنسی طرز فکر اور عملی زندگی سے ہم آہنگ کر کے پیش کیا۔ آپ کی مساعی سے قلندر بابا اولیاء کی حیات میں ایک رسالہ روحانی ڈائجسٹ شایع ہوا۔ روحانی ڈائجسٹ عوام و خواص کے لیے روحانی آگہی کا مستقل ذریعہ بنا۔ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمیؒ کی کاوشوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں سلسلہ عظیمیہ کے مراکز قائم ہوئے۔ آپ چودہویں اور پندرہویں صدی ہجری کے سنگم پر روحانی تسلسل کی ایک مضبوط اور روشن کڑی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اولیائے کرام کی یہ تاریخ نہایت اختصار سے بیان کی گئی ہے ورنہ صرف اولیائے کرام کے ناموں ہی کے لئے کثیر صفحات درکار ہیں۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جنوری 2026
![]()

