آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں
جو چاہیں کھا سکتے ہیں
تحریر۔۔۔حنا عظیم
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ آپ جب چاہیں سیکھ سکتے ہیں جو چاہیں کھا سکتے ہیں ۔۔۔ تحریر۔۔۔حنا عظیم) یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دو پہر کا ٹائم کچھ بھی یاد کرنے جبکہ شام کے اوقات کسی بھی قسم کے گیم یا پھر موسیقی کے لیے مناسب ہیں۔ یعنی اگر آپ کوئی موسیقی یا کوئی کھیل سیکھنا چاہتے ہیں تو شام اور رات کا وقت انتہائی موزوں اور مناسب ہے۔ اس کے بر عکس پڑھنے اور یاد کرنے کے لئے دوپہر کا وقت انتہائی موزوں ہے۔ یہاں ایک سوال یہ ابھرتا ہے کہ اوقات کی اتنی اہمیت کیوں ہیں اور اتنا زیادہ فرق کیوں ہوتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں نیلسن کہتے ہیں کہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ کچھ بھی یاد کرنے کے بعد ستالینے کا عمل آپ کی یاد داشت کو مضبوط کر دیتا ہے اور دماغ کو اتنا وقت مل جاتا ہے کہ جو کچھ آپ نے یاد کیا اسے اور پکا کرنے کا وقت مل جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی شک ظاہر کرتے ہیں کہ چونکہ نوجوان چھوٹے بچوں کی نسبت منتشر میالی پر جلدی قابو پالیتے ہیں اور ان کی نیند بھی اچھی ہوتی ہے اس لئے وہ ان اوقات سے سب سے زیادہ مستفید ہو سکتے ہیں اور اپنی یادداشت کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔ یہاں بڑوں سے ان کی مراد ٹین ایجرز ہیں ساٹھ سے اسی سال کے بڑے نہیں۔
رٹو طوطامت بنیے :Komell Nate کہتے ہیں کہ کیونکہ ہر آدمی میں یاد رکھنے کی صلاحیت مختلف درجوں میں کام کرتی ہے ۔ اور ہمارا دماغ اپنے مزاج اور اہلیت کے مطابق وہ راستے تلاش کر لیتا ہے جس کے ذریعے پڑھا کیا سبق لمبے عرصے تک یادر کھا جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ ہم کیا پڑھ رہیں اور اس کا مقصد کیا ہے تو پھر ہمیں اس کا رٹا لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور اس کو یاد رکھنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ اس کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں کہ دراصل سیکھنے کی صلاحیت کا انحصار اس فرد پر ہے جو سیکھنا چاہتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ جس بات کو بار بار دہرایا جائے اس سے یاد رکھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ دہرانے سے عمومی مخیال یہ ہے کہ سبق کو آنکھیں بندھ کر کے رٹو طوطا بن جائے اور من و عن یاد کر کے دہراتے جائے۔ نہیں جی۔ اس کا مطلب قلعی یہ نہیں ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ دہرا کر یاد رکھنے کی صلاحیت بھی ہر فرد میں مختلف ہوتی ہے۔

آپ کیوں پڑھ رہے ہیں ؟ کیا سیکھ رہے ہیں یہ آپ کے لئے جاننا اور سمجھنا بہت ضروری ہے۔ انہی سوالوں کے جوابات حاصل کرنے کے لئے Perdue University میں کچھ شاگردوں کو سواحلی زبان جو مشرق افریقہ کے کئی حصوں میں
بولی جاتی ہے کے چار سو الفاظ کے معنی یاد کرنے کو دیئے گئے۔ ایک ہفتے بعد جب ان کا ٹیسٹ لیا گیا تو ان تمام شاگردوں نے اسی فیصد اوسط درجے سے پاس کیا جو اپنی تربیتی مشق کے دوران ان الفاظوں کو بار بار دہراتے رہے اور خود سے اس کے معنی ہو چھتے رہے۔ جبکہ وہ شاگرد جو صرف الفاظوں کو پڑھتے اور یاد کرتے رہے بتیس فیصد سے زیادہ اسکور نہیں کر پائے۔ یہ جانا ضروری ہے کہ آپ کیا یاد کر رہے ہیں کہ اسے اچھی طرح دماغ میں بٹھایا جاسکے بجائے اس کے کہ آپ صرف رٹا مار کر کامیاب ہونے کے بارے میں ہی
سوچتے رہیں۔
منتشر خيالي ایک مثبت طرز عمل: اپنی توجہ کو جاننے کی کوشش کریں اور اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کریں۔ یہ عام مفروضہ ہے کہ کسی بھی کام کے دوران توجہ کے ہٹ جانے سےخلل پیدا ہوتا ہے۔ براؤن یونیورسٹی کے جو ۔ جیون سونگ کے مطابق distraction یا منتشر خیالی سیکھنے کے عمل میں فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ آپ پڑھنے کے دوران سیل فون پر جھکے ٹیکسٹ کرتے رہیں یا پھر وقفے وقفے سے اپنا ہیڈ فون ٹھیک کرتے رہیں یقینا اس طرح آپ نہ صرف اپنا وقت ضائع کریں گے بلکہ جو پڑھا ہے اسے بھی بھول جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کے ارد گرد کا ماحول نہ صرف یاد رکھنے بلکہ سیکھنے کے عمل کو بھی تیز کر دیتا ہے اس کی وضاحت وہ یہ دیتی ہیں کہ اگر پڑھنے کے دوران آپ کے ارد گرد کا ماحول کچھ ذرا مخصوص کر دیا جائے اور جیسے ہی آپ کی توجہ پڑھائی سے ہے جو کہ ایک فطری عمل بھی ہے تو آپ اس ماحول کی جانب توجہ مرکوز کر لیں تو چیزوں کے یاد رکھنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
مثال کے طور پر آپ کچھ الفاظ یاد کر رہے ہوں ایک ایسے ماحول میں جہاں گلاب کی خوشبو پھیلی ہوئی ہو۔ اب جب بھی بھی آپ ایسے ماحول کو پائیں گے جہاں گلاب کی خوشبو ہو تو آپ کو فورا ہی اس ماحول میں ہونے والی ایکٹوٹی اور یاد کئے ہوئے وہ الفاظ معنی یاد آجائینگے جو آپ اس وقت یاد کر رہے تھے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے آپ اپنی منتشر خیالی کو مثبت انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔ یعنی جیسے ہی ذہن بو جھل ہونے لگے یا توجہ بھٹکنے لگے تو ماحول میں پھیلی اس مخصوص خوشبو پر توجہ مرکوز کر لیجیئے جو اس وقت ماحول میں رچی بسی ہے۔
ایک سے دوبھلے: ویسے تو اکیلے پڑھنا اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتا ہے مگر بہت سے ایسے مشکل یا ٹیکنکل اسباق بھی ہوتے ہیں جن میں ایک دوسرے کی رائے سے مدد بھی ملتی ہے اور رہنمائی بھی ساتھ ساتھ وقت کی بچت بھی ہو جاتی اور آپ اکیلے سرکھپانے سے بچ جاتے ہیں۔ Sandra اجتماعی پڑھائی کو ترجیح دیتے ہوئے کہتی۔۔۔جاری ہے۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ جون 2015
![]()


