ایک بادشاہ نے ایک دن اپنے دربار میں ایک عجیب فیصلہ سنایا۔
اس نے کہا، “میں ثابت کرنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی کو بہترین ماحول دیا جائے تو وہ خود بھی بہتر ہو جاتا ہے۔”
اسی تجربے کے لیے ایک مینڈک پکڑا گیا۔
اس کے لیے سونے کی کرسی بنوائی گئی، شفاف پانی کا حوض تیار کیا گیا، خوشبودار پھول لگائے گئے، اور اسے محل کے باغ میں رکھا گیا۔
خدمت کرنے والے مقرر ہوئے، نرم روشنی، صاف فضا، ہر آسائش… سب کچھ۔
شروع کے چند لمحے مینڈک خاموش رہا۔
جیسے وہ اس نئی دنیا کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔
درباری مسکرا رہے تھے، بادشاہ مطمئن تھا کہ اس کا نظریہ سچ ثابت ہونے والا ہے۔
مگر اگلے ہی لمحے…
مینڈک نے ایک چھلانگ لگائی۔
پھر دوسری…
اور پھر سیدھا باغ کی دیوار کے پار جا گرا۔
درباری بھاگے… دیکھا تو وہ قریبی دلدل میں واپس جا چکا تھا۔
وہی کیچڑ، وہی بدبو… مگر اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تسکین تھی۔
بادشاہ خاموش ہو گیا۔
درویش جو دربار میں موجود تھا، مسکرایا اور بولا:
“بادشاہ سلامت…
جگہ بدلنے سے فطرت نہیں بدلتی۔
جس دل کو کیچڑ سے محبت ہو،
وہ سونے پر بھی بےچین رہتا ہے۔”
یہی وجہ ہے…
کہ کچھ لوگوں کو جتنا چاہو عزت دو،
جتنا چاہو سنوار لو،
وہ آخرکار اپنے اصل رویّے کی طرف لوٹ ہی جاتے ہیں۔
کیونکہ ظرف…
دیا نہیں جاتا،
وہ خود بنایا جاتا ہے۔
![]()

