Daily Roshni News

سائنس اور فلسفہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )سائنس اور فلسفہ—یہ دو الگ راستے نہیں، بلکہ ایک ہی سچ کی تلاش کے دو انداز ہیں۔

سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات کیسے کام کرتی ہے۔ وہ مشاہدہ کرتی ہے، تجربہ کرتی ہے، اور ثبوت مانگتی ہے۔ کششِ ثقل کیوں ہے؟ روشنی کی رفتار کیا ہے؟ زندگی کیسے وجود میں آئی؟ سائنس ان سوالات کے جواب دیتی ہے—مگر صرف “کیسے” تک محدود رہتی ہے۔

فلسفہ اس سے ایک قدم آگے جاتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے: آخر کیوں؟

زندگی کا مقصد کیا ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ اچھائی اور برائی کی بنیاد کیا ہے؟

یہ وہ سوالات ہیں جنہیں نہ کسی لیبارٹری میں ناپا جا سکتا ہے، نہ کسی فارمولے میں قید کیا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سائنس بغیر فلسفے کے اندھی ہو سکتی ہے، اور فلسفہ بغیر سائنس کے خالی۔

سائنس ہمیں طاقت دیتی ہے، مگر یہ فلسفہ ہی ہے جو سکھاتا ہے کہ اس طاقت کو استعمال کیسے کرنا ہے۔

ایٹم کو توڑنا سائنس کا کمال ہے،

مگر اسے انسانیت کے فائدے کے لیے استعمال کرنا—یہ فلسفے کی ذمہ داری ہے۔

آج کا سب سے بڑا مسئلہ علم کی کمی نہیں، بلکہ حکمت کی کمی ہے۔

ہم نے “جاننا” سیکھ لیا ہے، مگر “سمجھنا” ابھی باقی ہے۔

جب سائنس اور فلسفہ ساتھ چلتے ہیں، تبھی ایک متوازن، باشعور اور بااخلاق معاشرہ جنم لیتا ہے۔

Loading