Daily Roshni News

یقین کریں، یہ تحریر صرف پرندوں کے بارے میں نہیں — بلکہ رحمت، احساس، اور برکت کے بارے میں ہے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یقین کریں، یہ تحریر صرف پرندوں کے بارے میں نہیں — بلکہ رحمت، احساس، اور برکت کے بارے میں ہے۔

گرمیوں کا ایک تپتا دن، سورج دہکتا ہے، ہوا میں سکوت ہے، اور ایسی گرمی میں پرندوں کی زبان تو نہیں، لیکن ان کی خاموش آنکھوں میں ایک فریاد چھپی ہوتی ہے… پیاس کی، بھوک کی۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی چھتوں یا بالکونی میں پرندوں کے لیے باجرے کا دانہ اور پانی رکھتے ہیں۔ ننھے چڑیا، فاختہ، اور دیگر پرندے شکر گزار نگاہوں سے آتے ہیں، دانہ چُگتے ہیں، پانی پیتے ہیں… لیکن ایک پرندہ ہمیشہ نظروں سے اوجھل رہتا ہے — کوا۔

کوا، جو شاید باجرہ نہ کھاتا ہو، خاموشی سے کنارے بیٹھتا ہے۔ نہ شکایت کرتا ہے، نہ فریاد — لیکن کیا وہ اللہ کی مخلوق نہیں؟ کیا اُسے پیاس نہیں لگتی؟ بھوک نہیں ستاتی؟

یہی وہ کوا ہے جس نے انسان کو پہلی بار قبر کھودنے کا طریقہ سکھایا۔ پہلا استاد، پہلا سیکھ دینے والا۔

آج اگر آپ اپنی چھت پر پانی اور دانہ رکھتے ہیں تو ایک برتن کوے کے نام بھی رکھ دیجیے…

اس میں صرف پانی نہ ہو، بلکہ بچی ہوئی روٹی کے چھوٹے ٹکڑے بھی ڈال دیجیے۔

آپ دیکھیں گے، کوا وہ روٹی کا ٹکڑا چونچ میں دبا کر لے جائے گا… نہ صرف خود کھائے گا بلکہ اپنے بچوں کے گھونسلے میں بھی لے کر جائے گا۔

کیسا خوبصورت عمل ہے، نا؟

آپ کے گھر کی بچی روٹی، کسی اور کے بچوں کی زندگی بن جائے گی۔

اگر آج تک آپ نے یہ معمول نہیں اپنایا، تو آج سے آغاز کریں۔

کسی بے زبان کی پیاس بجھانے والے کے لیے، رزق کے دروازے اللہ خود کھولتا ہے۔

ہو سکتا ہے آپ کا رزق کسی پرندے کے ایک گھونٹ پانی سے جُڑا ہو…

کوشش کیجیے، اللہ کی مخلوق کے لیے کچھ کیجیے…

کیونکہ جس دن آپ کسی بھوکے کو کھلاتے ہیں، وہ دن آپ کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔

Loading