✨📜✨
فریضے کی چادر
✨📜✨
تحریر : حقیقت اور فسانہ ۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ فریضے کی چادر۔۔۔ تحریر : حقیقت اور فسانہ )رات مدینہ کی تنگ گلیوں میں اپنی سیاہ چادر تانے سو رہی تھی جب امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ کی دستک نے ایک بوسیدہ دروازے کو چونکا دیا۔ وہ شخص نہیں تھے جو صرف تخت پر بیٹھ کر حکم جاری کریں، بلکہ وہ تو خود ایک زندہ قانون تھے جو ہر رات کسی نہ کسی دہلیز پر جا کر یہ ثابت کرتا کہ حکمرانی کا اصل رنگ گشت کے انہی خاموش قدموں میں چھپا ہے۔ ان کا دل ایک وسیع سمندر تھا جس میں سختی کی چٹانیں اور رحمت کے موتی دونوں یکساں موجود تھے، اور یہی وہ تضاد تھا جس نے انہیں عمر بن خطاب بنایا۔ اسی رات کی ایک جھلک سے ہم آج ایک ایسے سفر پر نکلیں گے جہاں قوانین آسمان سے نازل نہیں ہوئے بلکہ زمین کے سینے سے پھوٹے، جہاں ایک بچے کی سسکی نے سلطنت کا دستور بدل دیا اور ایک عورت کی آہ نے فوجی مہم کی مدت مقرر کر دی۔
مدینے کی ایک پُرسکون شام تھی، جب فضا میں کھجور کے پتوں کی سرسراہٹ اور کہیں دور سے اذانِ مغرب کی آواز گونج رہی تھی، کہ امیر المؤمنین عمر بن خطابؓ نے ایک دسترخوان لگایا۔ وہ انتہائی شفقت سے لوگوں کو کھانا عنایت فرما رہے تھے، ان کی نگاہیں ہر شخص کو پرکھ رہی تھیں، مگر فیصلے کی تیزی سے نہیں بلکہ فکر کی گہرائی سے۔ اسی دوران ان کی نظر ایک شخص پر پڑی جو بائیں ہاتھ سے کھانا تناول فرما رہا تھا۔ عمرؓ، جن کا مزاج سادگی اور اصولوں کا پیکر تھا، فوراً پیچھے سے تشریف لائے، ان کی آواز میں نصیحت کی وہ گرمجوشی تھی جو ایک باپ کی اپنے بیٹے سے ہوتی ہے، اور فرمانے لگے، “اے عبداللہ! دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔ سنت یہی ہے اور صحت کا تقاضہ بھی۔” اس شخص نے بغیر مڑے، اپنی ہی دھن میں جواب دیا، “اے عبداللہ! میرا دایاں ہاتھ مصروف ہے۔” عمرؓ نے یہ جواب سنا تو ان کے چہرے پر ہلکی سی شکن پڑی، مگر وہ رکے نہیں، دوبارہ اسی شفقت سے فرمانے لگے، “بیٹے! دائیں ہاتھ سے کھانا تمہارے لیے بہتر ہے۔” اس شخص نے پھر وہی الفاظ دہرائے، “مصروف ہے میرا دایاں ہاتھ۔” اب کے عمرؓ کا تجسس جاگ اٹھا، ان کی بھنویں سکڑیں، اور انتہائی دھیمی مگر پُر زور آواز میں پوچھا، “اسے کیا مصروفیت ہے؟ آخر وہ کیا وجہ ہے کہ تم بارگاہِ رب میں سنت کو چھوڑ رہے ہو؟” اس شخص نے اپنا چہرہ آہستہ سے عمرؓ کی طرف پھیرا، اس کی آنکھوں میں پرانی یادوں کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا، اور بولا، “یہ ہاتھ غزوۂ مؤتہ میں زخمی ہوا تھا۔ اب اس میں حرکت نہیں رہی۔ یہ میرا ہاتھ نہیں رہا، بس جسم کا ایک بے جان ٹکڑا ہے۔”
یہ سننا تھا کہ گویا عمرؓ کے وجود پر بجلی گری۔ ان کا وہ رعب دار قد جو دشمنوں کے دلوں میں کپکپی طاری کر دیتا تھا، وہ جھک گیا۔ وہ آہستہ آہستہ اس مجاہد کے قریب گئے اور اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئے، ان کا سینہ سسکیوں سے بھر آیا اور وہ رونے لگے۔ چاندنی رات میں ان کے آنسو اس زخمی ہاتھ پر ایسے گرے جیسے صحرا کی ریت پر موتی بکھر جائیں۔ وہ بار بار اس کا بے جان ہاتھ پکڑ کر پوچھنے لگے، “مجھے معاف کر دو، اللہ کے بندے! مجھے کیا معلوم تھا کہ اس مصروفیت کے پیچھے ایسی قربانی چھپی ہے۔ تجھے وضو کون کراتا ہے؟ تیرے کپڑے کون دھوتا ہے؟ تیرا سر کون دھوتا ہے؟ اور… اور… تیرا دل کون بہلاتا ہے؟” ہر سوال کے ساتھ ان کی آواز بھرتی جاتی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ پھر انہوں نے اسی وقت حکم دیا کہ اس مجاہد کے لیے ایک خادم، ایک سواری اور کھانے کا انتظام کیا جائے، اور اس سے انتہائی عاجزی سے معذرت کرنے لگے کہ انہوں نے نادانستہ طور پر ایسی بات کہہ دی جس نے اس کے پرانے زخموں کو کرید دیا۔ عمرؓ کا یہ انداز بتاتا ہے کہ قوانین، اگر احساس سے عاری ہوں، تو وہ بوجھ بن جاتے ہیں، لیکن اگر ان میں آنسوؤں کی نمی شامل ہو جائے، تو وہ رحمت بن کر اترتے ہیں۔
یہ تو ایک فرد کا معاملہ تھا، لیکن مدینہ کی راتوں میں عمرؓ کا گشت جاری رہتا۔ وہ رعایا پر نظر رکھنے نہیں بلکہ ان کے دلوں کی دھڑکن سننے جایا کرتے تھے۔ ایک رات، جب رات کا پچھلا پہر تھا اور مدینہ پر خاموشی کا غلاف تنا ہوا تھا، وہ ایک گھر کے قریب سے گزرے تو انہیں ایک دیہاتی عورت کی مدھم آواز سنائی دی۔ وہ عورت اپنے گھر کے صحن میں بیٹھی چاند کو دیکھ رہی تھی اور اپنے شوہر کی یاد میں اشعار پڑھ رہی تھی، اس کی آواز میں جدائی کی تڑپ تھی۔ اس نے پڑھا: “طویل ہو گئی ہے یہ رات، اور اس کا اندھیرا بڑھ گیا ہے، مجھے نیند نہیں آتی کہ میرا محبوب میرے ساتھ نہیں، اگر نہ ہوتی وہ ذات جس کا عرش آسمانوں پر ہے، تو یہ بستر میرے ہجر کی شدت سے ہل گیا ہوتا۔” عمرؓ کے قدم وہیں رک گئے۔ کچے فرش پر رکھی چارپائی کی چرچراہٹ اور اُس عورت کی سسکیاں ہوا میں تحلیل ہو رہی تھیں۔ وہ دروازے کے پیچھے کھڑے ہو کر کان لگائے سنتے رہے، ان کا دل چاہا کہ اندر جائیں مگر پردے کا خیال آیا۔ آخر کار انہوں نے انتہائی دھیمی اور بھرائی ہوئی آواز میں پردے کے پیچھے سے پوچھا، “اے بہن! کیا ہوا؟ کیا تکلیف ہے تمہیں؟” عورت نے چونک کر جواب دیا، “میرے شوہر کئی مہینوں سے جہاد کے لیے گئے ہوئے ہیں۔ میں انہیں یاد کرتی ہوں، امیر المؤمنین۔ میری روح بے چین ہے۔” عمرؓ یہ سن کر واپس لوٹے، مگر یہ آواز ان کے دل میں اتر گئی۔ وہ سیدھے اپنی بیٹی حفصہؓ، جو نبیؐ کی زوجہ تھیں، کے پاس گئے۔ بات کرتے کرتے انہوں نے انتہائی شرماتے ہوئے پوچھا، “بیٹی! ایک عورت اپنے شوہر کی جدائی کتنے عرصے برداشت کر سکتی ہے؟” حفصہؓ شرما گئیں اور سر جھکا لیا، تو عمرؓ نے عاجزی سے کہا، “اللہ حق کہنے سے نہیں شرماتا، اگر یہ سوال رعایا کے معاملے کے لیے نہ ہوتا تو میں کبھی نہ پوچھتا۔” بیٹی نے ماں کی فطرت کو سمجھتے ہوئے جواب دیا، “چار، پانچ یا چھ مہینے۔” یہ سن کر عمرؓ فوراً واپس گئے اور تمام فوجی کمانڈروں کو فرمان جاری کیا کہ “فوجوں کو چار ماہ سے زیادہ نہ روکا جائے۔” اس طرح ایک دیہاتی عورت کی آہ نے فوجی مہم کی مدت کا قانون بنا دیا۔ یہ قانون کسی ایوان میں بیٹھ کر نہیں بلکہ ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر سننے سے بنا۔
مدینے کی گلیوں میں ان کا چلنا محض حفاظت کا فریضہ نہیں تھا، بلکہ وہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتے تھے۔ ایک رات جب وہ معمول کے مطابق گشت پر تھے تو انہوں نے ایک بچے کی رونے کی آواز سنی، جو بار بار سسکی لے رہا تھا جیسے اسے بھوک نے بے چین کر دیا ہو۔ وہ آواز کی طرف بڑھے، ان کے تعاقب میں سناٹا تھا، اور جب وہ قریب پہنچے تو انہوں نے اس بچے کی ماں سے پوچھا، “کیا ہوا بچے کو؟ وہ کیوں رو رہا ہے؟” ماں نے جواب دیا، “میں اسے دودھ چھڑوا رہی ہوں، اسی لیے رو رہا ہے۔” یہ عام سی بات تھی، لیکن عمرؓ کی تحقیق کی عادت نے انہیں چپ نہ بیٹھنے دیا۔ انہوں نے انتہائی نرمی سے مزید سوال کیا تو معلوم ہوا کہ وہ عورت صرف اس لیے وقت سے پہلے بچے کا دودھ چھڑا رہی ہے تاکہ بیت المال سے ملنے والے وظیفے کے سو درہم حاصل کر سکے، جو صرف دودھ چھڑانے کے بعد دیے جاتے تھے۔ عمرؓ گھر واپس تو آ گئے، مگر اس رات انہیں نیند نہیں آئی۔ اس بچے کی سسکیوں نے ان کے دل کو جھنجھوڑ دیا تھا، کھڑکی سے آتی ہلکی ہوا بھی انہیں اس بچے کی آواز دلاتی رہی۔ انہوں نے فوراً حکم جاری کیا، “بچے کو پیدائش کے وقت ہی سے سو درہم دیے جائیں، نہ کہ دودھ چھڑانے کے بعد۔” یوں ایک معصوم کی بھوک نے قانون کو جنم دیا جو آنے والی نسلوں کے بچوں کی مناسب غذا اور صحت کا ضامن بنا۔
عمرؓ کی زندگی میں ان کے بھائی زید کی شہادت کا غم کوئی معمولی غم نہیں تھا۔ زید حروبِ ارتداد میں شہید ہوئے تھے۔ ایک روز بازار میں عمرؓ کی ملاقات اپنے اس بھائی کے قاتل سے ہو گئی، جو اب اسلام قبول کر چکا تھا۔ بازار میں کھجوروں کی مہک اور لوگوں کا شور تھا، مگر جب عمرؓ کی نظر اس شخص پر پڑی تو ان کا چہرہ سرخ ہو گیا، غصے کی لہر ان کے جسم میں دوڑ گئی۔ انہوں نے کہا، “اللہ کی قسم! میں تجھ سے اتنی نفرت کرتا ہوں جتنا زمین بہتے ہوئے خون سے کرتی ہے!” یہ سن کر اس اعرابی نے بے خوفی سے پوچھا، “کیا اس نفرت سے میرے حقوق متاثر ہوں گے، اے امیر المؤمنین؟” عمرؓ فوراً بولے، “نہیں، ہرگز نہیں۔” تب اس اعرابی نے بے پروائی سے جو جملہ کہا، وہ تاریخ میں لکھا گیا، “محبت کا غم تو عورتیں کرتی ہیں۔” یعنی مجھے تمہاری محبت کی پرواہ نہیں، میرے اور تمہارے درمیان صرف عدل اور حقوق کا رشتہ ہے۔ یہ جملہ انتہائی سخت تھا، مگر عمرؓ نے اس کی آزادیِ رائے کا احترام کیا، نہ اسے جیل بھیجا نہ سزا دی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ حکمران کا دل اگر ذاتی نفرت سے متاثر ہو تو وہ عدل نہیں کر سکتا۔
ایک اور واقعہ ہے کہ ایک بار عمرؓ نے مسجد نبوی میں جمعے کا خطبہ دیا اور مہر کی حد مقرر کرنے کی تجویز پیش کی۔ اسی دوران ایک عام عورت اٹھ کھڑی ہوئی اور اس نے پورے مجمع کے سامنے بلند آواز میں کہا، “اے عمر! تم غلطی پر ہو، اللہ کی کتاب نے تو ڈھیروں مال دینے کی بھی اجازت دی ہے، تم اسے کیسے روک سکتے ہو؟” پوری مسجد میں سناٹا چھا گیا، لوگوں کی نظریں خوف سے جھک گئیں کہ امیر المؤمنین پر کسی نے جرأت کیسے کی۔ لیکن عمرؓ نے اس عورت کی طرف دیکھا، مسکرائے اور فرمایا، “عمر غلطی پر تھا، اور اس عورت نے درست کہا۔” انہوں نے وہ قانون واپس لے لیا۔ یہ تھا عمرؓ کا انداز، کہ ان کے نزدیک اقتدار کا مطلب اپنی بات منوانا نہیں بلکہ حق کو تسلیم کرنا تھا، چاہے وہ کسی عام عورت کی زبان سے ہی کیوں نہ نکلا ہو۔
یوں قوانین بنتے ہیں، کسی بند کمرے میں نہیں، بلکہ جب ایک ماں اپنے بچے کی خاطر بیت المال کی شرط سے سمجھوتہ کرتی ہے، تو قانون کو خم کھانا پڑتا ہے۔ جب ایک زخمی سپاہی اپنی معذوری کو مصروفیت کہہ کر چھپاتا ہے، تو عدل کو آنسو بہانے پڑتے ہیں۔ جب ایک اکیلی بیوی چاند کو دیکھ کر آہ بھرتی ہے، تو فوجوں کی روانگی کا حکم نامہ بدل جاتا ہے۔ اور جب قاتل، بھائی کے خون کا بدلہ طلب کرنے والے حکمران سے آزادیِ اظہار کا سوال کرتا ہے، تو اسے وہ حاصل ہوتی ہے۔ قانون کا سرچشمہ یہی معاشرہ ہے، اس کی نبض، اس کی آہیں، اس کی ضرورتیں۔ اصل قانون ساز حکمران نہیں ہوتے، بلکہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے قانون بنایا جاتا ہے۔ عمرؓ نے یہی سکھایا کہ دہلیز سے دہلیز تک قانون کی خوشبو تبھی پھیلتی ہے جب حکمران کا بستر بھی اس رعیت کی طرح بے خوابی میں ڈوبا ہو جس کے لیے وہ حکم لکھ رہا ہے۔
🌙
خلاصہ یہ کہ : عمر بن خطابؓ نے حکمرانی کو عبادت بنا دیا تھا، جہاں ہر رات کی گشت ایک نیا قانون بن جاتی تھی، ہر آنسو ایک نیا حکم نامہ، اور ہر آہ ایک نئی اصلاح۔ ان کے دور میں قانون کبھی ایوانوں کی زینت نہ بنا، بلکہ سیدھا گلیوں کی دھول اور گھروں کے دکھوں سے چھن کر آیا۔
اس واقعے نے آپ کے دل کے کسی نہ کسی کونے کو ضرور چھوا ہوگا۔ اگر ایسا ہے تو لائک ضرور کریں، یہ بتانے کے لیے کہ آپ ابھی تک ہمارے ساتھ ہیں۔
اس قسم کی اسلامی واقعات کے لئے ہمیں فالو کریں ۔
ایسی اور دل کو چھو لینے والی تحریروں کے لیے ہمارے پیج حقیقت اور فسانہ کو فالو کریں۔
اگر اس واقعے نے آپ کو اپنی زندگی کا کوئی لمحہ یاد دلا دیا ہے تو تبصرے میں ضرور بتائیں۔ ہم آپ کا انتظار کریں گے۔
![]()

