Daily Roshni News

صبر کا پہلا لمحہ — ایک سچا واقعہ

صبر کا پہلا لمحہ — ایک سچا واقعہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیو ز انٹرنیشنل )مدینہ کی گلیوں میں ایک دن نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے دیکھا کہ ایک عورت قبر کے پاس بیٹھی زار و قطار رو رہی ہے۔ اس کا دل غم سے بھرا ہوا تھا، اور آنکھوں سے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

نبی کریم ﷺ نے نہایت نرمی سے فرمایا:

“اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔”

وہ عورت غم میں اتنی ڈوبی ہوئی تھی کہ اس نے پہچانا نہیں، اور کہہ بیٹھی:

“آپ کو میرے دکھ کا کیا پتا! آپ پر تو ایسی مصیبت نہیں آئی!”

نبی کریم ﷺ خاموشی سے آگے بڑھ گئے۔

کچھ دیر بعد لوگوں نے اس عورت کو بتایا کہ جنہوں نے تمہیں نصیحت کی تھی، وہ تو خود نبی کریم ﷺ تھے۔ یہ سن کر وہ گھبرا گئی، فوراً دوڑتی ہوئی آپ ﷺ کے گھر پہنچی، دروازے پر پہنچی تو کوئی پہرے دار نہ تھا۔

اس نے معذرت کرتے ہوئے عرض کیا:

“یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو پہچان نہ سکی، مجھے معاف فرما دیں۔”

نبی کریم ﷺ نے نہایت حکمت سے فرمایا:

“صبر تو وہی ہے جو صدمے کے پہلے لمحے میں کیا جائے۔”

(صحیح بخاری)

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اصل صبر وہ نہیں جو وقت گزرنے کے بعد آ جائے، بلکہ وہ ہے جو دل ٹوٹنے کے اسی پہلے لمحے میں اختیار کیا جائے۔

یا اللہ! ہمیں ہر دکھ اور آزمائش میں سچا صبر عطا فرما، اور ہمیں اپنے قریب کر لے آمین ثم آمین

ایڈمن صراط مستقیم

عمیر رفیق بسمل

Loading