حقوق اور ان کا حصول
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شادی سے پہلے مجھے جس کام سے سب سے زیادہ چِڑ تھی وہ تھا برتن دھونا۔لیکن امی کو مجھ سے کام لینا آتا تھا۔
جب برتن دھلوانے ہوتے تو بڑے بڑے برتن سائڈ پہ کر کے کہتیں
“آ دو تن کولیاں پلیٹاں تے دھو دے”
جب میں معصوم برتن دھونے شروع کر دیتی تو ہنستے ہوئے کبھی دائیں سے اور کبھی بائیں سے بڑے پتیلے میرے قریب کھسکاتی جاتیں۔اور میں لگے ہاتھوں وہ بھی دھوتی جاتی۔
امی کے ان طریقوں سے ان کا کام بھی ہوجاتا اور مجھے بھی محسوس نہ ہوتا کہ میں نے کوئی زیادہ کام کیا ہے۔
آج یہ باتیں سوچ رہی تھی تو خیال آیا ہم عورتوں کے ساتھ زندگی بھی تو یہی سلوک کرتی ہے۔
رفتہ رفتہ ہماری زمہ داریوں میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے لیکن محسوس ہی نہیں ہوتا کہ جن کاموں سے ہماری جان جاتی تھی وہ ہماری روٹین کا حصہ بن چکے ہیں۔
ہم دن کو نو دس بجے تک سونے والی شہزادیاں شادی کے شروع میں سات بجے کے الارم پر اٹھنے لگتی ہیں کہ ناشتہ تیار کرنا ہے اور آہستہ آہستہ بچوں کے ساتھ پوری پوری رات جاگ کر بھی صبح کوہشاش بشاش پورے گھر کے کام کرنے کی عادی ہوجاتی ہیں۔
ہم ذرا سی تکلیف پر واویلا مچانے والی اور بستر سنبھال لینے والی لڑکیاں بائیس ہڈیاں ایک ساتھ ٹوٹنے کے برابر تکلیف برداشت کر جاتی ہیں اور بار بار کرتی ہیں۔
ہم ذرا سی بو پہ ناک منہ چڑھانے والی لڑکیاں کھانا درمیان میں چھوڑ کر بچوں کے پمپر بدلنے لگ جاتی ہیں۔ اور پھر پھر بغیر دل خراب ہونے کا نخرہ کیے اپنے کھانا پورا کرلیتی ہیں۔
ہم کسی کی ذرا سی بات پہ رونے دھونے والی لڑکیاں اکثر بڑی بڑی باتیں بڑے بڑے طعنے ڈھیٹ بن کر برداشت کرجاتی ہیں۔
ہم وقت کے ساتھ ساتھ ایسے بے شمار کام کرنے لگتی ہیں جن کا پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔اللہ نے نظام ہی ایسا بنایا ہے۔
پہلے شادی پھر بچے پھر بچوں کی تعداد کا بڑھتے جانا لیکن ہم سب کچھ قبول کرتی جاتی ہیں۔یعنی پھولوں جیسی نازک عورتیں آہستہ آہستہ پھل دار گھنا درخت بن جاتی ہیں جوسایہ بھی دیتا ہے اور پھل بھی اور اکثر پتھر بھی برداشت کرلیتا ہے۔
ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔
‘وجود زن سے کائنات میں رنگ’
عورت کا وجود نہ ہو تو نہ صرف کائنات کے سبھی رنگ بکھر جائیں بلکہ کائنات کی بقا ہی خطرے میں پڑ جائے۔
یہ عورت ہی ہے جس کے وجود سے دوسرے وجود جنم لیتے ہیں۔پروان چڑھتے ہیں۔کبھی اس کے اپنے جیسے وجود اور کبھی وہ وجود جو عورت کے وجود سے ہی پیدا ہوکر عورت کے وجود کی اہمیت کو جھٹلانے لگتے ہیں۔
اللہ ہم سب عورتوں کو سلامت رکھے۔اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کے قابل بنائے۔اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کی ہمت دے۔آمین
ا
![]()

