ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں ایک ماہ کے لیے 26 پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، اس حوالے سے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کی درخواست پر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) آج سماعت کرے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ اضافہ مارچ کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا ہے۔
سی پی پی اے کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے دوران مجموعی طور پر 8 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ڈسکوز کو 8 ارب 64 کروڑ 40 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔
سی پی پی اے کے مطابق مارچ کے لیے بجلی کی ریفرنس لاگت 7 روپے 99 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی۔
بجلی کی پیداوار کے ذرائع کی تفصیل میں بتایا گیا ہے کہ پانی سے 23.55 فیصد اور مقامی کوئلے سے 16.76 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
اسی طرح درآمدی کوئلے سے 13.80 فیصد اور درآمدی ایل این جی سے 5.64 فیصد بجلی حاصل کی گئی، جبکہ فرنس آئل سے 1.02 فیصد اور مقامی گیس سے 11.34 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔ مزید برآں جوہری ایندھن سے 21.95 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
جبکہ ہوا سے 3.46 فیصد اور سولر سے 1.18 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔
درخواست کے مطابق مجوزہ قیمت میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی ہوگا۔
نیپرا کی سماعت کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا جائے گا جس کے تحت بجلی کے نرخوں میں رد و بدل کیا جائے گا۔
![]()
