Daily Roshni News

متحدہ عرب امارات کا ‘اوپیک’ چھوڑنے کا فیصلہ، تیل کی عالمی پیداوار اور قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟

تیل پیدا کرنے والے ممالک کی 65 سالہ قدیم تنظیم ’اوپیک‘ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اس اتحاد سے علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

اوپیک دنیا بھر کے خام تیل کی کُل پیداوار کے تقریباً 40 فیصد حصے کو کنٹرول کرتی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں پر گہرا اثر رکھتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ وہ رواں جمعہ کو اس تنظیم سے الگ ہو جائے گا۔

یو اے ای کے مطابق، اس اقدام کا مقصد خام تیل کی اپنی پیداوار میں بتدریج اضافہ کرنا ہے تاکہ وہ اپنی معیشت کی ضروریات اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق تیل فروخت کر سکے۔

اگرچہ اس فیصلے کا فوری اثر تیل کی قیمتوں پر نظر نہیں آ رہا کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک کا تیل برآمد نہیں ہو پا رہا۔ لیکن ماہرین اسے طویل مدت کے لیے ایک اہم تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

رائسٹڈ انرجی کے جیو پولیٹیکل تجزیہ کار جارج لیون نے امریکی نیوز ایجنسی ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ سے گفتگو میں کہا کہ متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اوپیک ایک کمزور ڈھانچے والی تنظیم رہ جائے گی کیونکہ امارات ان چند ممالک میں شامل تھا جو ضرورت پڑنے پر فوری طور پر پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

جارج لیون کے بقول اب اوپیک کے لیے عالمی سپلائی کو متوازن کرنا اور قیمتوں کو مستحکم رکھنا مشکل ہو جائے گا، جس سے تیل کی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ سکتی ہے۔

اوپیک کا قیام ستمبر 1960 میں بغداد میں عمل میں آیا تھا، اس تنظیم کا مقصد تیل کی قیمتوں کو اس سطح پر رکھنا تھا کہ ممبر ممالک کے بجٹ متوازن رہیں اور انہیں اپنے قدرتی وسائل کا بھرپور فائدہ ملے، لیکن قیمتیں اتنی بھی زیادہ نہ ہوں کہ دنیا بھر میں معاشی کساد بازاری پیدا ہو جائے۔

تاہم، متحدہ عرب امارات کافی عرصے سے پیداواری پابندیوں کی وجہ سے خود کو پھنسا ہوا محسوس کر رہا تھا۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے برسوں میں دنیا کے قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی کے باعث تیل کی کھپت میں کمی آ سکتی ہے، اس لیے امارات چاہتا ہے کہ وہ ابھی زیادہ پیداوار کر کے زیادہ منافع کما لے، کیونکہ مستقبل میں زمین کے نیچے موجود تیل کی قدر آج کے مقابلے میں کم ہو سکتی ہے۔

پیپرسٹون فارن ایکسچینج کے ریسرچ اسٹریٹجسٹ مائیکل براؤن کا کہنا ہے کہ فی الحال سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کا بند ہونا ہے، جس سے روزانہ کی بنیاد پر تیل کی سپلائی کم ہوگئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق اگر جنگ کے بعد متحدہ عرب امارات اپنی پیداوار بڑھانے کے ہدف میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے تیل کی قیمتیں دوبارہ جنگ سے پہلے والی سطح پر آنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، جب تک یہ سمندری راستہ بند ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی علیحدگی سے اب یہ تنظیم 12 ارکان پر مشتمل رہ جائے گی جو دنیا کے 80 فیصد ثابت شدہ تیل کے ذخائر کے مالک ہیں۔

Loading