Daily Roshni News

غریب کی مجبوری ،

غریب کی مجبوری ،

امیر کی عیاشی اور بیماری :

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ قول انسانی معاشرے کے دو متضاد پہلوؤں کی ایک بہت گہری اور تلخ حقیقت بیان کرتا ہے۔ اس کا سادہ سا مطلب کچھ یوں ہے:

​قول کا خلاصہ

​روبن شرما اس قول میں یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ہم کتنی عجیب دنیا میں رہتے ہیں جہاں زندگی کی بنیادی ضرورتیں یعنی خوراک (کھانا) اور صحت کا توازن بالکل بگڑ چکا ہے۔

​آسان وضاحت

​اس بات کو ہم دو حصوں میں سمجھ سکتے ہیں:

​غریب کی مجبوری:

دنیا کا ایک حصہ وہ ہے جہاں لوگ اتنے غریب ہیں کہ انہیں دو وقت کی روٹی بھی آسانی سے میسر نہیں۔ وہ پیٹ بھرنے کے لیے کلومیٹر پیدل چلتے ہیں، محنت مزدوری کرتے ہیں اور میلوں کا سفر طے کرتے ہیں تاکہ صرف زندہ رہنے کے لیے کچھ کھا سکیں۔ ان کے لیے پیدل چلنا ایک مجبوری ہے۔

​امیر کی عیاشی اور بیماری:

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس ضرورت سے زیادہ پیسہ اور کھانا ہے۔ وہ اتنا زیادہ کھا لیتے ہیں یا ان کا طرزِ زندگی ایسا ہے کہ اب اس کھانے کو ہضم کرنے اور بیماریوں سے بچنے کے لیے وہ جم جاتے ہیں یا پارکوں میں میلوں پیدل چلتے ہیں۔ ان کے لیے پیدل چلنا ایک ضرورت یا ورزش بن چکا ہے کیونکہ ان کا جسم ضرورت سے زیادہ خوراک کا بوجھ نہیں اٹھا پا رہا۔

​حاصلِ کلام

​یہ قول ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ:

​دنیا میں وسائل کی تقسیم برابر نہیں ہے۔

​ایک انسان بھوک مٹانے کے لیے تڑپ رہا ہے، جبکہ دوسرا بھرے ہوئے پیٹ کی وجہ سے پریشان ہے۔

​یہ انسانی زندگی کے اس تضاد (Irony) کو ظاہر کرتا ہے کہ جس چیز (پیدل چلنے) کو ایک انسان اپنی بقا کے لیے استعمال کر رہا ہے، دوسرا اسے اپنی زیادتیوں کو سنبھالنے کے لیے استعمال کر رہا ہے #اردو_اقوال #اردو_ادب #کہاوتیں #سبق_آموز #اقتباس #loyalty #وفاداری #lifelessons #urduquotes #فلسفہ

Loading